Wednesday, 24 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mehran Khan
  4. Aab e Sukoon Ki Talash Aur Be Maneviyat

Aab e Sukoon Ki Talash Aur Be Maneviyat

آب سکون کی تلاش اور بے معنویت

انسان کے پاس بس یہی اختیار ہے کہ وہ یہ تسلیم کرے کہ اس کے پاس کوئی اختیار ہی نہیں۔ انسان بس اتنا ہی آزاد ہے جتنا اک پنجرے میں قید پرندہ آزاد ہوتا ہے۔ انسانوں کے پاس اتنی ہی آزادی ہے جتنی colosseum میں لڑنے والے گلیڈئیٹرز کے پاس تھی۔ انسان کے پاس اشرف المخلوقات ہونے کا ٹائٹل ہی سہی لیکن یہ ایسا ہے جیسے کوئی سرکس کے شیر کو جنگل کا بادشاہ کہہ کے بلائے۔ سرکس کے شیر کو جنگل کے جانور جھک کر سلام کریں گے! ہم جیسے دیوانے ہی ایسا خواب دیکھ سکتے ہیں۔ جب درندگی راج کرنے کا اصول ہوں تو درندگی چھوڑنے والے خود کو خسارے میں ہی پاتے ہیں۔ اشرف المخلوقات لفظ لالی پوپ ہی تو ہے اور یہ واحد لالی پوپ ہے جسے ہم بڑے ہونے کے بعد بھی چھوٹے بچوں کی طرح مزے سے چوستے رہتے ہیں۔

انسانوں کی بڑی تعداد زندگی کے اس ویران سوکھے کنوئیں میں قید ہے جس سے آب سکون صدیوں پہلے کوچ کرچکی ہے لیکن وہ اسے اس کنوئیں میں ہی تلاش کرنے پر مجبور ہے کیوں کہ کنوئیں سے نکلنے کی ان کی استطاعت نہیں اور کنوئیں سے نکلنے والا باقی انسانوں کا قافلہ اپنے دکھوں کے پہاڑ تلے دبا ہوا ہے اور سسک سسک کے منزل کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔ کسی کو بھی یہ بات جاننے کی فرصت نہیں کہ کون، کہاں، کتنی مدت سے قید ہے اور کون کہاں کتنی صدیوں سے بھٹک رہا ہے۔

انسانوں کے قافلے کے چاروں اور ایسا اندھیرا ہے کہ قبر کا اندھیرا بھی شرما جائے، اس اندھیرے میں انہیں ہیولے نظر آتے ہیں۔ چھوٹے ہیولے، بڑے ہیولے، دراز قامت ہیولے اور وہ ہیولے بھی جن کے وجود کا سرے سے وہ گمان ہی نہیں کرسکتے۔ کچھ ہیولے اک ذرے کی طرح دکھائی دیتے ہیں لیکن غور کرنے پہ وہ آسمان کی بلندیوں کو چھو جاتے ہیں اور اک قہقہہ گونجنے لگتا ہے جس سے یہ اندیشہ رہتا ہے کہ کسی بھی وقت انسانوں کا یہ قافلہ سننے کی صلاحیت کھو سکتا ہے۔ کبھی کبھی تو ایسے لگتا ہے جیسے یہ سارے ہیولے انسانوں کے خود کے پیدا کردہ ہے اور انسان انہیں قابو کر سکتا ہے لیکن اک بے نام ڈر نے انہیں روک رکھا ہے۔

ہیولوں کے قہقہوں سے ڈر کر انسان آسمان کی طرف دیکھتے ہیں لیکن آسمان بھی اپنی نبض کاٹ چکا ہے اور اس سے خون رس رہا ہے۔ زمین اپنی زبان باہر کرکے آسمان سے رسنے والا خون چاٹ رہا ہے اور کچھ خون اس کے رخساروں پر بھی بہہ رہا ہے۔ کتے زخمی ہونے کے ڈر سے بھونک رہے ہیں اور درندے آسمان کی درندگی پہ مسلسل بین کررہے ہیں لیکن ہر کسی کو خود کی پڑی ہے۔ ہر چیز سے اذیت ٹپک رہی ہے، ہر چیز اذیت کا روپ دھار چکی ہے اور پوری کائنات اذیت میں ڈوب چکی ہے۔

انسان جس آب سکون کی تلاش میں بھٹک رہا ہے وہ خدا سارا کا سارا پی کے روپوش ہوچکا ہے۔ انسان نہ خدا کو ڈھونڈ پارہے ہیں اور نہ آب سکون کو یعنی نہ انہیں خدا مل رہا ہے اور نہ آب سکون! سارے جہانوں کی خاک چھاننے کے بعد انسانوں کو بس بے معنویت ہی ملتی ہے، انسانوں کے ازل سے جاری سفر کا اختتام بھی بس بے معنویت ہی ہے۔

شاید آب سکون کی تلاش ہی بے معنویت کی جڑ ہے۔ شاید یہی بے معنویت ہی آب سکون ہے! ہاں، یہی بے معنویت ہی آب سکون ہے۔

Check Also

Aman Ya Mukhtasar Waqfa e Jang?

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi