Taleemi Nafsiyat Aur Seekhne Ke Pehlu
تعلیمی نفسیات اور سکیھنے کے پہلو

تعیلم و تدریس سے وابستگی ہونے کی وجہ سے مجھے طالب علموں کے ذہن اور رویوں کا مشاہدہ کرنے کا خوب موقع ملتا رہا۔ جب ایک جنونی و باذوق استاد اپنی جماعت میں داخل ہوتا ہے تو وہ محض اپنی نوکری کے فرائض پورے کرنے نہیں جاتا بلکہ نوجوان نسل کی رہنمائی، بہتری اور انکو حقیقی معنوں میں کچھ سیکھانے کی نیت سے داخل ہوتا ہے۔ ایسے ہی استاد اپنے شاگردوں کے رول موڈل بھی بنتے ہیں۔
البتہ میں نے اپنے تدریسی تجربے کے دوران یہ مشاہدہ کیا کہ موجودہ تعلیمی نظام میں سیکھنا ایک کھیل بن گیا ہے۔ بچوں کے ذہن میں گریڈز اور مقابلے کی دور جو والدین اور نظام تعیلم کی وجہ سے جنم لیتی ہے، سرسراہٹ کرتی رہتی ہے مگر علم کی جستجو، سیکھنے کا شوق اور تجسس بہت کم نظر آتا ہے۔ وہ ذہن جو رنگا رنگ پھولوں کو دیکھ کر یا آسماں پر قوس و قضا دیکھ کر مقامِ حیرت کا شکار ہوتا تھا کبھی آج مکینکل ذہن کی وجہ سے قدرت کے ان کرشموں سے سرشار نہیں ہوتا اور تجسس نہیں کرتا ان پر تحقیق کرنے کے لیے۔
تعلیم محض کتابی معلومات کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا ہمہ جہتی عمل ہے جو انسان کے ذہن، دل اور کردار کو یکساں طور پر سنوارتا ہے۔ اگر ہم تعلیمی نفسیات کی گہرائی میں جائیں تو ہمیں دو بنیادی میدان نظر آتے ہیں
ادراکی یعنی Cognitive domain
جزباتی یعنی Affective domain
یہی وہ دو ستون ہیں جن پر ایک متوازن اور بامقصد شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔
ادراکی میدان دراصل انسان کے سوچنے، سمجھنے، تجزیہ کرنے اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں سے متعلق ہے۔ جب ایک طالب علم کسی سبق کو یاد کرتا ہے، اس کا مفہوم سمجھتا ہے، اس پر غور کرتا ہے اور پھر اسے نئی صورتحال میں استعمال کرتا ہے تو وہ ادراکی عمل سے گزر رہا ہوتا ہے۔ یہ محض معلومات کا ذخیرہ نہیں بلکہ عقل کی تربیت ہے۔ ایک ایسا ذہن جو سوال کرتا ہے، دلیل دیتا ہے اور حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے، وہی دراصل تعلیم کا اصل ہدف ہے۔
لیکن اگر تعلیم صرف ذہن تک محدود رہ جائے تو وہ ایک خشک عمل بن جاتی ہے۔ یہاں جذباتی میدان کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ جذباتی میدان انسان کے احساسات، رویوں، اقدار اور دلچسپیوں سے متعلق ہے۔ یہ وہ دائرہ ہے جہاں احترام، ہمدردی، برداشت اور اخلاقی شعور جنم لیتے ہیں۔ ایک طالب علم کا اپنے استاد سے محبت کرنا، علم سے لگاؤ رکھنا، سچائی کو اپنانا اور دوسروں کے احساسات کو سمجھنا، یہ سب جذباتی میدان کی کارفرمائی ہے۔
اصل تعلیم وہ ہے جہاں ادراک اور احساس ایک دوسرے سے جڑے ہوں۔ اگر طالب علم کے پاس علم تو ہو مگر اس میں احساس نہ ہو تو وہ علم بے روح ہو جاتا ہے اور اگر احساس تو ہو مگر شعور نہ ہو تو وہ سمت کھو دیتا ہے۔ اس لیے ایک بہترین استاد وہ ہے جو نہ صرف ذہن کو روشن کرے بلکہ دل کو بھی بیدار کرے۔
کلاس روم میں اس توازن کو قائم کرنا ایک فن ہے۔ استاد کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو سوال کرنے کی آزادی دے، ان کی سوچ کو وسعت دے (ادراکی ترقی) اور ساتھ ہی ان کے جذبات کا احترام کرے، ان میں خود اعتمادی اور اخلاقی قدروں کو پروان چڑھائے (جذباتی ترقی)۔ جب طالب علم خود کو محفوظ اور قابلِ قدر محسوس کرتا ہے تو اس کی سیکھنے کی صلاحیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
سب سے پہلے ادراکی (cognitive) پہلو۔ چاہے استاد بہت ماہر نہ بھی ہو، وہ ایک سادہ تبدیلی سے آغاز کر سکتا ہے: لیکچر کو یک طرفہ تقریر بنانے کے بجائے سوال و جواب میں بدل دے۔ ہر 10–15 منٹ بعد ایک سوچنے والا سوال، چھوٹی سی سرگرمی، یا "اپنی رائے لکھو/بتاؤ" جیسا وقفہ دے۔ جب طالب علم بولتے ہیں تو کلاس زندہ ہوتی ہے اور یہی ادراک کی شروعات ہے۔ دوسرا قدم یہ کہ رٹوانے کے بجائے "کیوں " اور "کیسے" پر زور دے، چاہے ایک ہی نکتہ کم پڑھائے مگر سمجھ کے ساتھ پڑھائے۔
جذباتی (affective) پہلو زیادہ مشکل ہے، کیونکہ یہ صرف پڑھانے سے نہیں بلکہ "عملی مثال" سے منتقل ہوتا ہے۔ یہاں نصاب سے زیادہ "hidden curriculum" کام کرتا ہے، وہ غیر تحریری تعلیم جو استاد کے رویے، لہجے، انصاف، برداشت اور طرزِ گفتگو سے خاموشی کے ساتھ طلبہ کے دلوں میں اترتی ہے۔
استاد چاہے جتنا بھی اخلاقیات پر لیکچر دے، اگر اس کا اپنا انداز سخت، تحقیر آمیز یا بے اعتباری والا ہو تو وہ تمام باتیں بے اثر ہو جاتی ہیں۔ جذباتی تربیت الفاظ سے نہیں، "احساس" سے ہوتی ہے اور احساس تب منتقل ہوتا ہے جب استاد خود اس کا عملی نمونہ بنے۔ یہی hidden curriculum ہے: وقت کی پابندی سکھانا بغیر کہے، احترام سکھانا اپنے رویے سے اور برداشت سکھانا اختلاف کو قبول کرکے۔
میری ہوم اکنامکس کی ٹیچر کی مثال اسی حقیقت کی بہترین تصویر ہے۔ وہ ہر مسلسل لیکچر میں پندرہ منٹ نکال کر صرف دنیا کی باتیں سکھاتیں، عملی زندگی کے مشورے دیتیں، سوالات سنتیں اور جواب دیتیں۔ یہ بظاہر نصاب سے ہٹ کر تھا، مگر دراصل یہی اصل تعلیم تھی۔ ان پندرہ منٹوں میں وہ صرف معلومات نہیں دے رہیں تھیں، بلکہ ایک ایسا تعلق بنا رہی تھیں جہاں طالب علم خود کو سنا ہوا، سمجھا ہوا اور اہم محسوس کرتا تھا۔ یہی احساس سیکھنے کو معنی دیتا ہے۔ جو شاگردوں کے قلب و ذہن میں ہمشہ کے لیے پیوست ہوجاتا ہے۔
جذباتی میدان کی خوبصورتی اور پیچیدگی یہی ہے کہ یہ نظر نہیں آتا مگر سب کچھ بدل دیتا ہے۔ ایک جملہ، ایک مسکراہٹ، ایک موقع پر دیا گیا اعتماد۔ یہ سب طالب علم کی شخصیت میں دیرپا نقوش چھوڑتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ایک اچھا استاد سبق ختم ہونے کے بعد بھی طالب علم کے دل میں زندہ رہتا ہے۔
ایک قابل استاد کے لیے اصل کمال یہی ہے کہ وہ ادراک (سوچ) اور احساس (جذبہ) کو الگ الگ خانوں میں نہیں رکھتا بلکہ انہیں ایک ہی تجربے میں ڈھال دیتا ہے۔ اس کے لیکچر میں سوال بھی ہوتا ہے اور تعلق بھی، دلیل بھی ہوتی ہے اور دردمندی بھی۔ وہ جب کوئی تصور سمجھاتا ہے تو ساتھ ہی طلبہ کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اسے اپنی زندگی سے جوڑیں، یوں علم محض معلومات نہیں رہتا بلکہ معنی بن جاتا ہے۔
وہ جانتا ہے کہ ذہن کو بیدار کرنے کے لیے سوال ضروری ہے اور دل کو چھونے کے لیے اعتماد۔ اس لیے وہ ایک ایسا ماحول بناتا ہے جہاں طالب علم بلا خوف اپنی رائے دے سکے، غلطی کر سکے اور سیکھ سکے۔ وہ hidden curriculum کو شعوری طور پر جیتا ہے، اپنے لہجے، انصاف اور رویے سے وہ وہی سکھاتا ہے جو الفاظ میں نہیں آتا۔ اس کے لیے ہر لیکچر صرف سبق نہیں بلکہ کردار سازی کا ایک موقع ہوتا ہے۔

