Thursday, 16 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mansoor Sahil
  4. Ulysses Ke Tarjuma Par Tanqeed

Ulysses Ke Tarjuma Par Tanqeed

یولیسس کے ترجمہ پر تنقید

میری خوش‌ نصیبی رہی ہے کہ ہر جگہ مجھے علمی اور ادب‌ دوست ماحول ملا اور اس میں دوستوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ بی اے کے زمانے سے لے کر آج تک جتنے بھی احباب سے واسطہ رہا ہر ایک سے سیکھنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اسی طرح گاؤں میں بھی یہ ماحول میسر ہے یہاں انگریزی اور فلسفے کے احباب ہیں اور ہر عصر یا شام کے بعد ایک ادبی محفل جم جاتی ہے۔ چونکہ آج کل فیس بک پر جیمز جوائس کے ناول یولیسس کا چرچا ہے اور بک کارنر والوں نے انور سِن رائے کا ترجمہ شائع کیا ہے اس لیے اس حوالے سے مختلف باتیں اور پوسٹیں سامنے آئیں۔ اسی تناظر میں آج کی گفتگو یولیسس کے گرد گھومتی رہی۔ جو نکات زیر بحث آئے وہ قارئین کی آسانی کے لیے پیش کر رہا ہوں یہ معلومات انہی دوستوں کی گفتگو کا نتیجہ ہیں۔

یولیسس محض ایک دن کی کہانی ہے جو ڈبلن شہر میں صبح آٹھ بجے سے رات دو بجے تک پھیلی ہوئی ہے لیکن اس مختصر وقت میں جوائس نے پوری انسانی زندگی، اس کی خوشیوں، غموں، خواہشوں اور الجھنوں کو سمو دیا ہے۔ ناول کے تین مرکزی کردار یہودی اشتہاری ایجنٹ لیوپولڈ بلوم نوجوان شاعر اسٹیفن ڈیڈ لس (جو خود جوائس کا عکس ہے) اور بلوم کی بیوی مولی۔۔ یہ کردار کسی بڑے واقعے کا حصہ نہیں بنتے بلکہ عام دن کی چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے کھاتے، سوچتے اور شہر کی گلیوں میں بھٹکتے ہیں مگر جوائس نے اسی معمول کو اتنی گہرائی سے پیش کیا کہ بھوک، جنس، موت، مذہب اور تنہائی جیسے عالمگیر موضوعات اس میں سمٹ آئے۔

جوائس نے اس ناول میں دو ایسی تکنیکیں استعمال کیں جنہوں نے انگریزی ناول کو نیا راستہ دیا پہلی "اسٹریم آف کا نشسنس(شعور کی رو)" یعنی خیال کا بہاؤ جس میں کردار کے ذہن میں آنے والے ہر خیال کو بغیر کسی فلٹر یا ترتیب کے ویسے کا ویسا لکھ دیا گیا اور دوسری "میتھیکل میتھڈ" یعنی اساطیری طریقہ کار جس کے تحت ہر باب ہومر کی قدیم یونانی داستان (نظم) اوڈیسی کے کسی واقعے کا جدید عکس ہے۔ ان تکنیکوں کے علاوہ جوائس نے انگریزی زبان کو اس طرح توڑا مروڑا کہ نئے الفاظ، ساختیاتی تنوع، غیر ملکی اصطلاحات اور آوازوں کی نقلیں صفحات پر موجود ہوتی ہیں یہاں تک کہ مولی بلوم کا آخری 40 صفحوں پر محیط مونو لوگ بغیر کسی فل اسٹاپ کے لکھا گیاجو انگریزی ادب کا ایک منفرد اور ناقابل فراموش تجر بہ ہے۔

جوائس نے خود کہا تھا کہ نقادوں کو اسے سمجھنے میں کئی سال لگیں گے اور واقعی یہ ناول بہت پیچیدہ ہے۔ لیکن اس مشکل کے باوجود 16 جون کو دنیا بھر میں بلومز ڈے منایا جاتا ہے جب ادب کے شائقین بلوم کی طرح ناشتہ کرتے ہیں اور ڈبلن کی سیر کرتے ہیں اور یہ دن ایک ادبی تہوار میں بدل جاتا ہے۔ (یہ معلومات ماخوذ ہیں اس میں گنجائش موجود ہے)

اس مختصر تعارف کے بعد یہ سوال اہم ہے کہ کسی بھی ایسے متن کا ترجمہ ممکن ہے؟ تو بالکل ممکن ہے کیوں کہ ترجمے کے لیے متن کی فلسفیانہ یا سائنسی گہرائیوں تک رسائی اور متعلقہ زبان پر غیر معمولی عبور یکساں طور پر شرط ہیں تاکہ ہر استعارے اور اصطلاح کا ایسا ہم وزن لفظ مل سکے جو اصل کے مزاج سے ہم آہنگ ہو۔ اسی طرح متن میں تاریخی، مذہبی اور علمی سیاق و سباق کی گہری سمجھ بھی ناگزیر ہے کیونکہ اس کے بغیر معنی ادھورے اور مفہوم مسخ ہو سکتے ہیں۔ مبہم جملوں کی متعدد تشریحات میں سے بہترین کا انتخاب صرف وہی مترجم کر سکتا ہے جو مصنف کے ذہنی ارتقا اور فکری پس منظر سے واقف ہو۔ اسی طرح قاری کی راہنمائی کے لیے مختصر حواشی اور وضاحتیں بھی ضروری ہیں تاکہ متن بوجھل نہ ہو جائے۔ اس تناظر میں اردو زبان میں یولیسس کا ترجمہ بھی ممکن ہے۔

اس لیے بغیر مطالعہ کے رائے قائم کرنا یا محض چند صفحات پڑھ کر پوری کتاب کو غیر موضوع اور پست کہنا ہرگز انصاف نہیں۔ انصاف اور معتدل رویہ یہ تقاضا کرتا ہے کہ پوری کتاب کا گہرا مطالعہ کیا جائے جہاں جہاں انسانی خطا یا کمزوری نظر آئے اسے عقلمندی اور دیانت داری کے ساتھ واضح کیا جائے اور تضحیک و طعن کے بجائے تعمیری تنقید کو فروغ دیا جائے۔

Check Also

Molana Ki Siasat

By Syed Mehdi Bukhari