Thursday, 28 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Komal Shahzadi
  4. Shafafiyat, Merit Aur Nizam Ki Islah Ki Zaroorat

Shafafiyat, Merit Aur Nizam Ki Islah Ki Zaroorat

شفافیت، میرٹ اور نظام کی اصلاح کی ضرورت

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہے اور اس بنیاد کا سب سے مضبوط ستون استاد ہوتا ہے۔ استاد صرف نصاب پڑھانے والا فرد نہیں ہوتا بلکہ وہ طلبہ کی ذہنی تربیت، شخصیت سازی اور فکری سمت کا تعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اسی لیے یونیورسٹی سطح پر اساتذہ کی بھرتی کا عمل نہایت حساس اور اہم معاملہ ہے، جس میں معمولی غفلت بھی تعلیمی معیار کو متاثر کر سکتی ہے۔

پاکستان میں جامعات میں تدریسی عملے کی سلیکشن مختلف ادارہ جاتی اور انتظامی مراحل سے گزرتی ہے۔ عام طور پر اس میں تعلیمی قابلیت (PhD یا MPhil)، تحقیقی مقالہ جات، تجربہ، انٹرویو اور بعض صورتوں میں تدریسی مظاہرہ شامل ہوتا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے بھی اس حوالے سے معیار مقرر کرنے اور یکساں پالیسی بنانے کی کوشش کی ہے، تاکہ ملک بھر کی جامعات میں ایک بنیادی معیار قائم رہے۔

تاہم، عملی صورتحال میں اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا یہ پورا نظام واقعی مکمل طور پر میرٹ پر مبنی ہے؟ مختلف حلقوں سے یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ بعض اوقات سفارش، ذاتی تعلقات یا غیر شفاف طریقہ کار کی وجہ سے اہل امیدوار پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہی وہ کمزور پہلو ہے جو پورے نظام پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

اسی تناظر میں یہ تجویز سامنے آتی ہے کہ اگر HEC یا کوئی مرکزی ادارہ اساتذہ کی سلیکشن کے لیے ایک standardized ٹیسٹ یا تدریسی اہلیت کا امتحان متعارف کرائے تو اس سے معیار میں بہتری آ سکتی ہے۔ اس طرح کا ٹیسٹ صرف علمی معلومات ہی نہیں بلکہ تدریسی سمجھ، تجزیاتی صلاحیت، مسئلہ حل کرنے کی مہارت اور کمیونیکیشن اسکلز کو بھی جانچنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اگر اس عمل کو مزید بہتر بنایا جائے تو اس کے کئی مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ بھرتی کے عمل میں شفافیت میں اضافہ ہوگا، سفارش اور غیر ضروری اثر و رسوخ میں کمی آئے گی، امیدواروں کی اصل علمی اور تدریسی صلاحیت سامنے آئے گی، جامعات میں تدریسی معیار بہتر ہوگا، طلبہ کو زیادہ قابل اور تربیت یافتہ اساتذہ میسر آئیں گے۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف تحریری امتحان کسی استاد کی مکمل صلاحیت کا پیمانہ نہیں ہو سکتا۔ تدریس ایک ہمہ جہت عمل ہے جس میں شخصیت، رویہ، تحقیق سے لگاؤ اور طلبہ کے ساتھ برتاؤ بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے ایک مکمل نظام میں تحریری ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ انٹرویو، demo lecture اور ریسرچ اسیسمنٹ کو بھی برابر اہمیت دینی چاہیے۔

مزید یہ کہ نظام کی اصلاح صرف نئے ٹیسٹ یا پالیسی بنانے سے ممکن نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے ادارہ جاتی دیانت داری اور سخت عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ اگر قوانین موجود ہوں مگر ان پر عمل نہ ہو تو کوئی بھی نظام دیرپا بہتری نہیں لا سکتا۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی جامعات میں اساتذہ کی سلیکشن کے نظام کو مزید جدید، شفاف اور میرٹ پر مبنی بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر HEC ایک مضبوط اور یکساں معیار قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے تو نہ صرف تدریسی معیار بلند ہوگا بلکہ تحقیق اور علم کے میدان میں بھی پاکستان کی جامعات بہتر کارکردگی دکھا سکیں گی۔

Check Also

Imran Khan Ka Dehi Khud Kafalat Model

By Aftab Alam