Kya Kitaben Parhne Walay Ahmaq Hain?
کیا کتابیں پڑھنے والے احمق؟
آج کے اس تیز رفتار، مادہ پرست اور نمود و نمائش کے دور میں اقدار کا معیار یکسر بدل چکا ہے۔ علم، فکر اور مطالعہ جیسے سنجیدہ اوصاف اب پس منظر میں چلے گئے ہیں، جبکہ دولت، شہرت اور وقتی کامیابی کو اصل کامیابی سمجھ لیا گیا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی شخص کتابوں سے دوستی رکھتا ہو، تنہائی میں بیٹھ کر علم حاصل کرتا ہو اور اپنی سوچ کو گہرائی دیتا ہو، تو اسے اکثر طنز و تمسخر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسے "احمق"، "بیکار" یا "دنیا سے کٹا ہوا" سمجھ لیا جاتا ہے۔
یہ رویہ محض ایک فرد کے خلاف نہیں بلکہ ایک پوری فکری روایت کے خلاف ہے۔ کتاب پڑھنے والا انسان دراصل وقت کے دھارے کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔ وہ ہجوم کا حصہ بننے کے بجائے خود اپنی راہ متعین کرتا ہے اور یہی بات معاشرے کو ناگوار گزرتی ہے۔ کیونکہ ہجوم ہمیشہ اُن لوگوں سے خائف رہتا ہے جو سوچتے ہیں، سوال کرتے ہیں اور اندھی تقلید سے انکار کرتے ہیں۔
ایک انگریز مفکر کا قول اس حقیقت کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے: "جب میری محبوبہ آئینے کے سامنے بیٹھ کر بناؤ سنگھار میں مصروف ہوتی تھی، تب میں کتاب پڑھ رہا ہوتا تھا۔ آج دنیا مجھے جانتی ہے، مگر میری محبوبہ کو کوئی نہیں جانتا"۔
اسی تناظر میں ایک اور معروف قول ہے:
"A room without books is like a body without a soul. "
سیسرون اور Francis Bacon کا یہ قول علم کی اہمیت کو مزید واضح کرتا ہے:
"Reading maketh a full man. "
اسی طرح Mark Twain نے نہایت معنی خیز بات کہی:
"The man who does not read has no advantage over the man who cannot read. "
یہ اقوال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مطالعہ محض ایک مشغلہ نہیں بلکہ ایک ایسی ضرورت ہے جو انسان کو مکمل بناتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کتاب پڑھنے کو اکثر غیر ضروری سرگرمی سمجھا جاتا ہے۔ والدین بچوں کو اعلیٰ نمبر لینے کی تلقین تو کرتے ہیں، مگر مطالعہ کی عادت پیدا کرنے پر توجہ نہیں دیتے۔ تعلیمی ادارے ڈگریاں تو دے رہے ہیں، مگر سوچنے والے ذہن پیدا نہیں کر پا رہے۔ نتیجتاً ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ رہا ہے جو معلومات سے بھرپور مگر شعور سے خالی ہے۔
کتاب پڑھنے والا انسان بظاہر خاموش ہوتا ہے، مگر اس کے اندر ایک طوفان برپا ہوتا ہے۔ وہ ہر لفظ کو محسوس کرتا ہے، ہر خیال پر غور کرتا ہے اور ہر سچ کو جانچنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ وقتی فائدے کے بجائے مستقل سچائی کی تلاش میں رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا کی چمک دمک سے متاثر نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر رائج رجحان کے پیچھے بھاگتا ہے۔
علامہ اقبال نے علم کی طاقت کو یوں بیان کیا:
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
یہ شعر ہمیں امید اور مسلسل سیکھنے کا درس دیتا ہے۔ علم وہ نمی ہے جو انسان کی بنجر سوچ کو بھی زرخیز بنا دیتی ہے۔
اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کو بدلنے والے لوگ وہی تھے جو کتابوں سے جڑے رہے۔ انہوں نے علم کو اپنا ہتھیار بنایا، سوچ کو اپنی طاقت بنایا اور قلم کو اپنی آواز بنایا۔ ابتدا میں انہیں بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، مگر وقت نے ثابت کیا کہ اصل طاقت علم میں ہی ہے۔
لہٰذا، اگر دنیا کتاب پڑھنے والوں کو احمق کہتی ہے تو ہمیں اس پر افسوس تو ہو سکتا ہے، مگر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ احمق وہ نہیں جو کتاب پڑھتا ہے، بلکہ وہ ہے جو علم کی روشنی سے دور رہ کر اندھیروں میں جینا پسند کرتا ہے۔
کتابیں پڑھنے والے لوگ وقتی طور پر نظر انداز ہو سکتے ہیں، مگر وہی لوگ مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ ان کی خاموشی میں طاقت ہوتی ہے، ان کے الفاظ میں وزن ہوتا ہے اور ان کی سوچ میں وہ روشنی ہوتی ہے جو زمانوں کو منور کر دیتی ہے۔

