Wednesday, 04 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Komal Shahzadi
  4. Doosron Ko Jeene Dein

Doosron Ko Jeene Dein

دوسروں کو جینے دیں

ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں سب کو بولنے کا حق ہے، مگر جینے کا حق کم ہی دیا جاتا ہے۔ یہاں ہر شخص خود کو منصف سمجھتا ہے، ہر آنکھ دوسرے کی زندگی پر لگی ہے اور ہر زبان فیصلے سنانے میں مصروف۔ کوئی کیسے جیتا ہے، کیوں جیتا ہے، کس کے ساتھ جیتا ہے، یہ سب جیسے عوامی معاملہ بن چکا ہے۔

دوسروں کو جینے دینا بظاہر ایک سادہ سا جملہ ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک مشکل اخلاقی امتحان ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اس بات کو قبول کریں کہ ہر انسان ہماری طرح نہیں سوچتا، ہماری طرح فیصلے نہیں کرتا اور نہ ہی ہماری زندگی کے سانچے میں فٹ بیٹھتا ہے۔ اختلاف کو دشمنی سمجھے بغیر قبول کرنا ہی اصل برداشت ہے۔

ہم اکثر خیر خواہی کے نام پر مداخلت کرتے ہیں۔ "میں تو تمہارے بھلے کے لیے کہہ رہا ہوں" ایک ایسا جملہ ہے جو بے شمار زندگیوں کو گھٹن میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ہر نصیحت ضروری نہیں، ہر رائے قابلِ اطلاق نہیں اور ہر خاموشی کمزوری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات کسی کو جینے دینے کا مطلب صرف اتنا ہوتا ہے کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں۔

معاشرتی زوال کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم دوسروں کے انتخاب کو اپنا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ عورت کیا پہنے، مرد کیا کمائے، نوجوان کیسے سوچے، بزرگ کیسے جئیں، سب کے لیے غیر اعلانیہ ضابطے موجود ہیں۔ ان ضابطوں سے ہٹنے والا فوراً تنقید، طعنہ اور تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔

دوسروں کو جینے دینا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کنٹرول چھوڑنا بھی ایک اخلاقی قوت ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ خاموش رہ جانا بعض اوقات سب سے بڑی شرافت ہے۔ یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم سب مسافر ہیں، مالک کوئی نہیں۔

جب ہم دوسروں کو جینے دیتے ہیں تو دراصل ہم خود کو بھی جینے کی اجازت دیتے ہیں، خوف، موازنہ اور مسلسل ججمنٹ سے آزاد ہو کر۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں اختلاف کے باوجود احترام زندہ رہے اور انسان انسان کو انسان ہی سمجھے۔

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو بدلنے کے بجائے، ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھیں۔ کیونکہ زندگی جینے کے لیے ہے، قابو میں رکھنے کے لیے نہیں۔

ہم جس معاشرے میں زندہ ہیں وہاں سب سے سستا عمل "فیصلہ سنانا" بن چکا ہے۔ ہر شخص دوسرے کی زندگی پر رائے دینے، اس کے انتخاب پر انگلی اٹھانے اور اس کے طرزِ جینے کو اپنے معیار پر پرکھنے کا خود ساختہ حق رکھتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ لوگ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی ذہنی طور پر ایک دوسرے کے لیے تنگ ہوتے جا رہے ہیں۔ حالانکہ اسلام ہمیں سب سے پہلے یہ سکھاتا ہے کہ ہم بندے ہیں، مالک نہیں۔

قرآنِ مجید میں صاف اعلان ہے: "لَا إِكُرَاهَ فِي الدِّينِ" (دین میں کوئی جبر نہیں)، سورۃ البقرہ: 256

جب دین جیسے بنیادی اور حساس معاملے میں بھی جبر کی گنجائش نہیں، تو پھر ہم کون ہوتے ہیں کسی کی ذاتی زندگی، سوچ، لباس، پیشے یا فیصلوں پر زبردستی مسلط ہونے والے؟ اسلام انسان کو اختیار دیتا ہے، سانس لینے کی گنجائش دیتا ہے، نہ کہ گھٹن۔

بدقسمتی سے ہم اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے اسے دشمنی سمجھ لیتے ہیں۔ ہمیں ہر مختلف سوچ بغاوت محسوس ہوتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو ہم سے مختلف سوچتا ہے، غلط نہیں ہوتا اور ہر وہ زندگی جو ہمارے معیار پر پوری نہیں اترتی، بے وقعت نہیں ہو جاتی۔ یہ بات سمجھ لینا ذہنی بلوغت اور دینی فہم دونوں کی علامت ہے۔

نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ اصلاح زبردستی سے نہیں، حکمت سے ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے کبھی کسی کی سرعام تذلیل نہیں کی، کبھی کسی کی نجی زندگی میں مداخلت نہیں فرمائی۔

حدیثِ مبارکہ ہے: "مِنُ حُسُنِ إِسُلَامِ الُمَرُءِ تَرُكُهُ مَا لَا يَعُنِيهِ" (آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ غیر متعلق باتوں کو چھوڑ دے)، ترمذی۔

اگر اس ایک حدیث کو ہم اپنی زندگی کا اصول بنا لیں تو ہمارے معاشرے کے آدھے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں۔ ہم کیوں وہ باتیں نہیں چھوڑتے جو ہمیں concern ہی نہیں کرتیں؟ کسی کی شادی، کسی کا لباس، کسی کا طرزِ زندگی، یہ سب کب سے ہمارے دائرۂ اختیار میں شامل ہوگیا؟

ہم اکثر خیرخواہی کے نام پر کنٹرول کرتے ہیں، حالانکہ اسلام خیرخواہی کو نرمی، احترام اور حسنِ اخلاق کے ساتھ جوڑتا ہے۔ قرآن ہمیں حکم دیتا ہے: "ادُعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالُحِكُمَةِ وَالُمَوُعِظَةِ الُحَسَنَةِ" (اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ)، سورۃ النحل: 125۔

ہم نے حکمت کو چھوڑ دیا اور سختی کو اختیار کر لیا۔ ہم نصیحت کم اور طعنہ زیادہ دیتے ہیں۔ اصلاح کے بجائے تضحیک کرتے ہیں۔ اسی لیے لوگ سنورنے کے بجائے ٹوٹتے جا رہے ہیں۔

اسلام ہمیں یہ شعور بھی دیتا ہے کہ ہر انسان اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے: "وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزُرَ أُخُرَىٰ" (کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی)، سورۃ الانعام: 164۔

پھر ہم کس حق سے خود کو دوسروں کے اعمال کا حساب لینے والا بنا لیتے ہیں؟

کسی کی خاموشی کو کمزوری، آزادی کو بدتمیزی اور اختلاف کو گمراہی سمجھ لینا نہ دینی رویہ ہے نہ اخلاقی۔

نبی ﷺ نے فرمایا: "الُمُسُلِمُ مَنُ سَلِمَ الُمُسُلِمُونَ مِنُ لِسَانِهِ وَيَدِهِ" (مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں)، بخاری، مسلم۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا آج ہم واقعی اپنی زبان سے دوسروں کو محفوظ رکھتے ہیں؟ یا ہماری باتیں، ہمارے تبصرے اور ہماری نظریں دوسروں کے لیے اذیت بن چکی ہیں؟

دوسروں کو جینے دینا یہ نہیں کہ ہم ہر عمل سے متفق ہو جائیں، بلکہ یہ کہ ہم خدا بننے کی کوشش چھوڑ دیں۔ اسلام ہمیں اصلاح کا حق دیتا ہے، مگر جبر کا نہیں۔ حق بات کہنے کی اجازت دیتا ہے، مگر دل توڑنے کی نہیں۔

ایک مہذب، اسلامی معاشرہ وہی ہو سکتا ہے جہاں اختلاف کے باوجود احترام زندہ رہے، جہاں انسان انسان کو سانس لینے دے اور جہاں دین کو کنٹرول کا ہتھیار نہیں بلکہ رحمت کا ذریعہ بنایا جائے۔

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دوسروں کو بدلنے کے جنون سے نکل کر، خود کو سنوارنے کی فکر کریں۔ کیونکہ جب ہم دوسروں کو جینے دیتے ہیں، تبھی ہم واقعی اسلام کے اخلاق کو جیتے ہیں۔

Check Also

Jab Dil Pathar Ho Jayen

By Abid Hussain Rather