Tuesday, 23 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Khateeb Ahmad
  4. Apni Zindagi Apni Marzi Se Jiyen

Apni Zindagi Apni Marzi Se Jiyen

اپنی زندگی اپنی مرضی سے جئیں

حال ہی میں آپکی زندگی کا وہ کونسا دن تھا جسے آپ نے اپنی مرضی سے گزارا ہو؟ مطلب ربوٹک اور روٹین کی بورنگ لائف سے ہٹ کر؟ ہم عموماََ کیا کرتے ہیں، کہ فن کو یا چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو ویک اینڈ پر ٹال دیتے ہیں۔ کچھ پیسے حاصل ہونے پر الگ سے پلاننگ کرتے ہیں، سالانہ چھٹیوں میں یہ کریں گے، بچوں کی شادیاں کرکے یہ کریں گے، ریٹائرمنٹ پر یہ کریں گے، اچھی یا سرکاری جاب ملنے پر یہ کریں گے، باہر کے ملک جا کر یہ کریں گے، مطلب آنے والا کل جو کبھی آتا ہی نہیں۔ وہ آج مل سکنے والی خوشی کو ختم کر دیتا ہے۔

میں بھی پانچ دس سال پہلے ایسا تھا کہ میرے آس پاس سبھی ایسے تھے۔ نجانے کس نے مجھے کتابوں کے نشے پر لگا دیا اور میری ساری روایتی لرننگ ڈیلیٹ ہونے لگی۔ میں نے سوچا ساٹھ سال کی عمر میں نہیں بلکہ چالیس کی عمر میں ریٹائر ہو جاؤں گا اور پھر ایسا چھتیس سال کی عمر میں ہوگیا۔ میں پچھلے پندرہ سال سے اپنا وقت کسی اور کو بیچ رہا تھا مجھے اس سے بھی نکلنا تھا۔ دو سال ہو چکے وہ بھی نکل گیا۔ کیسے یہ سب ممکن ہوا پھر کبھی سہی۔

آج ہم من مرضی کا ایک دن جینے کی بات کرتے ہیں۔ صبح ساڑھے چھ اٹھا۔ تو سوچا آج کا دن فل آف موج مستی ہوگا اور ہوگا بھی اپنی روٹین میں رہ کر۔ دوسری بات سوچی کہ اسکرین ٹائم ایک گھنٹہ بھی آج نہیں ہوگا۔ فریج میں مٹن اور کدو پڑے تھے۔ مسالا کاٹا سب کچھ کڑاہی میں ڈالا اور ہلکی آنچ پر چولہا رکھ کر نہانے چلا گیا۔ سوری دوسرے برنر پر چار انڈے ابلنے رکھ دیے۔ نہا کر تیار ہوا انڈے چھیل کر کھائے ایک گلاس دودھ پیا اور ایک آم کھا لیا۔ ساڑھے سات تک سالن بھی تیار تھا۔ اسے کرمچی میں شفٹ کیا اور برتن دھو کر آٹھ سوا آٹھ تک گیراج چلا گیا۔ نہیں بلکہ اس سے پہلے ہسپتال گیا ایک ورکر کا کل ایک ٹیسٹ کرایا تھا وہ رپورٹ پکڑنی تھی۔ وہ لے کر گیراج میں گیا۔

ہمارے یہاں دوپہر ایک سے چار تک بریک ہوتی ہے۔ سب کچھ بند۔ گھر آجاؤ، نماز پڑھو کھانا کھاؤ سو جاؤ۔ وہی کیا۔ گھر بات کی اور سوگیا۔ موج مستی کہاں ہے! آتی ہے بھائی رکو زرا صبر کرو۔

شام میں اچھے ڈنر کا پلان بنا۔ سالن سپائسی سا صبح ہی تو بنا کر رکھا تھا۔ ایک دوست کو کھانے کی دعوت دی۔ گھر آ کر سلاد کاٹا سبزی فروٹ مکس اور دو انڈے ابالے وہ سالن کے ساتھ کھانے تھے۔ آج کل پروٹین کی مقدار زیادہ لے رہا ہوں۔ مسل بلڈنگ چل رہی ہے۔ اس عمر میں یعنی چالیس کے آس پاس تو ویسے بھی سو گرام پروٹین روز لینی ہی چاہیے۔ جو سولہ انڈوں سے مل سکتی ہے۔ یا ساتھ روز گوشت، دودھ، دہی، دال وغیرہ لیں۔ سو گرام پروٹین ہر صورت لیں۔

مزے کا ڈنر کیا اور ویک اینڈ پر ٹالی ہوئی فلم آج ہی سینما جاکر دیکھنے کا من بن گیا۔ قریبی سینما جہاں پہنچ سکتا تھا وہ سٹی سنٹر مسقط تھا۔ میرے گھر سے بیس منٹ کی ڈرائیو تھی اور فلم شروع ہونے میں بھی بیس ہی منٹ باقی تھے۔ فون گھر رکھا اور گاڑی کی چابی پکڑی نکل گیا۔ یہ پلان بھی تبھی بنا کہ فون کے بغیر چند گھنٹے رہنا ہے۔ جاکر ٹکٹ خریدی اور ہال نمبر تین میں F11 سیٹ پر جا بیٹھا۔ میرے ایک طرف دو آپیاں بیٹھی تھیں اور بعد میں دوسری طرف ایک آپی اور بھائی آکر بیٹھ گئے۔ فلم شروع ہوئی۔ مزے کی اسٹارٹنگ تھی۔ شاہد کپور کو رنگون فلم کے بعد آج کسی فلم میں دیکھا اور کریتی کو بریلی کی برفی کے بعد اس فلم میں دیکھا۔ دونوں کی ایکٹنگ اچھی تھی، کردار خوب مہارت سے نبھائے۔ رشمیکا منڈانا مجھے بلکل فضول ایکٹرس لگتی ہے۔ مشکل سے اسے برداشت کیا۔

فلم اختتام کے قریب تھی۔ لگ ایسا رہا تھا کہ شاہد کپور کی شادی کریتی یعنی ایلی سے ہو جائے گی۔ جبکہ شادی طے رشمیکا یعنی دِیا سے تھی۔ وہی سسپنس جو ایسی فلموں میں شادی کے وقت ہوتا ہے۔ لیکن شاہد کپور نے رشمیکا کو چنا۔ وہ کیوں چنا آپ ضرور فلم دیکھیے گا۔ مزہ آئے گا آپ کو اینڈنگ میں۔ بہرحال میری وِش تھی اسکی شادی کریتی سے ہو اور فلم ختم ہونے سے پہلے ہی اٹھ کر باہر آنے لگا تو میرے ساتھ بیٹھے بھائی نے مجھے روکا۔ کہ ٹھہر جاؤ کیا پتا آگے کہانی بدل جائے۔ نجانے اس نے کیسے میرا دماغ پڑھ لیا کہ جو میں چاہ رہا تھا وہ نہیں ہوتا نظر آ رہا تو میں جا رہا ہوں۔ پھر بیٹھ گیا اور وہی ہوا جو مجھے نہیں لگ رہا تھا۔ کہ ایسی اینڈنگ ہوگی۔

سوری Interval میں گڑ والے پھلے اور پیپسی پینے کی رسم بھی نبھائی۔ واپسی نکلا تو سوچا کسی اور راستے سے گھر جاؤں گا۔ جس کا مجھے نہیں پتا۔ راستہ بھول جانا چاہ رہا تھا۔ کہ کہیں راہ بھٹک جاؤں اور منزل پر دیر سے پہنچوں۔ مسقط میں پورے دو سال سے مقیم ہوں۔ گھومتا پھرتا رہتا ہوں تو بہت حد تک راستے معلوم ہو چکے ہیں۔ بہت جلد ایسا محسوس ہوتا ہے مسقط مجھے میرے شہر حافظ آباد کی طرح زبانی یاد ہو جائے گا۔ کہ جہاں مرضی آنکھیں بند کرکے لے جاؤ۔ واپس آجاؤں گا بغیر لوکیشن لگائے اور کسی سے پوچھے۔ خیر جس راہ پر مڑا وہ بھی سمجھ آرہی تھی کہاں جائے گی، پھر ایک اور کٹ لیا تو چند منٹ بعد پھر سمجھ آگیا کہاں جانا ہے۔ تو بس پھر ڈال دی گاڑی سیدھی راہ پر۔

گاڑی میں ایک ہی گانے کو جاتے اور آتے ہوئے پلے کیے رکھا۔ من میرا۔ گھر کے قریب آیا تو ایک جگہ پولیس کی گاڑی رکی دیکھی۔ انکے آگے اپنی گاڑی جاکر کھڑی کی۔ اتر کر انکے پاس گیا۔ دو بھائی تھے گاڑی میں۔ سلام دعا لی۔ ان کو بتایا کہ آپ کی وجہ سے میں اس شہر میں رات کے اس پچھلے پہر سنسان راستوں پر بھی خود کو محفوظ محسوس کرتا ہوں۔ آپ کی گاڑی دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ آپ ہمارے محافظ ہیں اور میں آپکے ملک کا شہری نہیں ہوں پردیسی ہوں۔ لو یو برو۔ دونوں گاڑی سے نکل کر بے حد خوشی سے ملے۔ مجھے پانی کی بوتل دی۔ میرا نمبر لیا کہ کسی دن ملنے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا آج کا دن میں نے اچھا کر دیا۔ میرا اپنا دن الحمدللہ بہت اچھا تھا تو سوچا یہ انرجی کیوں نہ کسی اور کو بھی Feel کرائی جائے۔ خود تک اسے کیوں رکھوں۔

یہ سب میں نے سوچا تھا ویک اینڈ پر کروں گا۔ پھر سوچا اتنے دن کیوں انتظار کروں؟ میرا ہر دن میری مرضی سے کیوں نہیں گزر سکتا؟ میں جو زندگی گزار رہا ہوں۔ اسے جی کیوں نہیں سکتا؟ کس کی اجازت چاہئیے مجھے؟ چیزوں کو کیوں ٹال دیتا ہوں میں؟ یہ سب کس نے سکھایا تھا مجھے؟ جن دوستوں اور جس سرکل و معاشرے نے۔ وہ تو سب بہت پیچھے رہ گیا۔ میں کیوں وہ ہوں؟ کب تک اپنے اندر کوئی آپ ڈیٹ انسٹال نہیں کروں گا؟ چھوٹی سی زندگی ہے۔ گزرے چالیس سال ایک لمحہ محسوس ہوتے ہیں۔ آنے والے وقت کا تو کچھ معلوم نہیں کہ کیسا ہو۔ کیوں نہ آج اور ابھی کو جیا جائے؟ آج کا دن واحد نہیں تھا۔ جب میرا دل چاہے جو بھی کرنا چاہوں کر لیتا ہوں۔ ٹالتا ہوں چیزوں کو۔

کیا آپ ٹالے رکھتے ہیں؟ کہ یہ ہوگا وہ ہوگا فلاں ڈھمکاں کام پورے ہونگے تو آپ خوش ہونگے؟ آپ کبھی خوش نہیں ہو سکیں گے۔ بھلا دیں اس سبق کو جو نجانے کس نے کب اور کیوں رٹا دیا ہوا ہے۔

Check Also

Farang Mein Aik Raat

By Javed Chaudhry