Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Kashif Zia
  4. TB Ki Mujarab Dawa

TB Ki Mujarab Dawa

ٹی بی کی مجرب دوا

کلاسیکی اردو پڑھنے والا کوئی شخص ایسا نہ ہوگا جو حضرت امیر مینائی کے نام نامی سے واقف نہ ہو، آپ ایک قادر الکلام شاعر اور ماہر لغت نویس تھے، 1928ء کو لکھنو میں پیدا ہوئے، علماء فرنگی محل سے تعلیم پائی، قابلیت شروع ہی سے نمایاں تھی، بادشاہوں نے قدر کی، پہلے نواب واجد علی شاہ نے بلا لیا، نواب کے لیے دو کتب بھی تحریر کیں، پھر رام پور تشریف لے گئے، چالیس سال سے زیادہ عرصہ وہاں گزارا، نواب یوسف علی خان اور نواب کلب علی خان خصوصی قدردانوں میں سے تھے، اس کے بعد نظام دکن کی فرمائش پر حیدرآباد تشریف لے آئے، لیکن اجل نے زیادہ مہلت نہ دی اور 1900ء میں بلاوا آگیا۔

میں بتا چکا کہ شاعر، ادیب اور ماہر لسانیات تھے، "امیراللغات" زندہ و جاوید کارنامہ ہے اور بھی بہت کچھ لکھا، دیوان بھی کئی ہیں، آپ کی ایک غزل سارے زمانے میں مشہور ہوئی اور ہم نے کالج ہی کے زمانے میں پڑھ لی تھی:

اچھے عیسی ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے
ہم مرے جاتے ہیں تم کہتے ہو حال اچھا ہے

تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے
سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے

دیکھ لے بلبل و پروانہ کی بیتابی کو
ہجر اچھا نہ حسینوں کا وصال اچھا ہے

آگیا اس کا تصور تو پکارا یہ شوق
دل میں جم جائے الہی یہ خیال اچھا ہے

آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحب
وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

برق اگر گرمی رفتار میں اچھی ہے امیر
گرمی حسن میں وہ برق جمال اچھا ہے

لکھنا بھول گیا کہ امیر لکھنو کے روحانی بزرگ مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تھے، اس لیے "مینائی" لکھتے تھے، شاہ مینا کا مزار آج بھی مرجع خلائق ہے۔

گزشتہ دنوں مجھے ایک بوسیدہ کتاب ملی، عنوان تھا "مکاتیب امیر مینائی"، صفحات بودے تھے، پڑھنے کو مشکل ہوتی تھی، یہ آپ کے خطوط تھے جو مولانا احسن اللہ ثاقب نے جمع کیے تھے۔

1894ء کے ایک خط پہ میں اٹک گیا، یہ ایک دوا سے متعلق تھا، اول حصہ اردو اور آخری فارسی میں تھا، خط پڑھ کر کئی باتیں ذہن میں آئیں، پہلے آپ خط پڑھ لیجئے بعد کو دل کی بات کروں گا، قوسین میں اضافہ شدہ الفاظ میرے ہیں:

30 ستمبر 1894ء

رام پور

پیارے زاہد (سید زاہد حسین سہارن پوری)۔ دعا و سلام۔ عین انتظار میں تمہاری تحریر تشویش خمیر آئی۔ اللہ تعالی تمہاری خاتون پر رحم فرمائے۔ میری بڑی لڑکی کو حرارت مزمنہ (پرانے بخار) سے نجات نہ ہوتی تھی۔ اطبا عاجز ہو گئے تھے مگر ایک بغدادی سید نے گولیاں بنوا دی تھیں۔ ان کے استعمال سے صحت ہوگئی۔ یہ قصہ بارہ برس ادھر کا ہے۔ اب تک وہ لڑکی اچھی ہے، مطلق حرارت کا اثر نہیں۔ بہت سے اور مدقوقوں (ٹی بی کے مریضوں) کو بھی یہ گولیاں نافع ہوئیں مگر افسوس کہ کسی نے وہ بوتل جس میں یہ گولیاں تھیں چرا لی۔ اب ایک گولی بھی نہیں ہے۔

سات آٹھ برس بعد وہ سید صاحب پھر ملے اور بہت خوشامد اور خدمت گزاری کے بعد نسخہ بتانے پر راضی ہوئے۔ وہ نسخہ میں بھیجتا ہوں، اگر بن پڑے تو بنوا دو اور آدھی گولیاں مجھے بھیج دو۔ خدا سے امید ہے کہ تمہاری خاتون کو صحت ہو جائے گی۔ دعائے صحت میں ضرور کروں گا اگرچہ انتہا کا گنہگار ہوں مگر گناہوں سے شرمسار ہوں اور ارحم الراحمین سے مغفرت و اجابت دعا کا امیدوار ہوں۔ محمد احمد سلام نیاز کے بعد عرض کرتے ہیں کہ خدا آپ کو اطمینان دے تو میران پوری عمدہ کملوں (گملوں؟) کی فکر کیجئے گا۔ رام پور میں آب و ہوا بہت ہی فاسد اور بازار حیات کاسد ہے۔

خدا رحم فرمائے میرے گھر میں بھی بہت سے عزیز اور ملازم بیمار ہیں۔ بے حواسی میں غزل دیکھی۔ اس سنگلاخ زمین میں ایسے شعر کہنا آپ ہی کا کام ہے۔ آگ لگی والی غزل آئی ضرور تھی مگر اڑھائی بلکہ تین مہینے سے بوجہ کثرت امراض وبائی ہوش نہیں، خدا جانے وہ غزل کہاں ہے۔ منہ کی بوند، منہ کے پانی کی بوند یہ سب درست ہے مگر ابر کی بوند مستعمل نہیں۔

نسخہ حبوب کہ جمیع اقسام تپ حتی کہ دق را ہم بغایت نافع است:

جواکھار عمدہ پنج تولہ و سم الفار سفید یک تولہ گرفتہ باریک نمودہ آب مصفی بھٹکٹائی سبز مع بیخ و برگ و ثمر کے دراں درد نباشد قدرے قدرے انداختہ در کھرل خوب حل نمایند۔ بروز دوم باز آب بھٹکٹا۔ بوزن پاؤ آثار افزودہ حل نمایند و بروز چہارم کہ قدرے نمی از آب بھٹکٹا باقی ماند آب لیموں کاغذی مصفی انداختہ خوب حل نمایند، ہرگاہ قابل حب بستن گردد حبوب بقدر مونگ بستہ نگاہ دارند و یک حب نہار بخورند۔ برائے تپ مزمنہ تا وقت باقی ماندن اثرش التزام ملحوظ باشد و برائے حمیات دیگر بقدر حاجت کفایت خواہند کرد۔ ان شاء اللہ تعالی بسیار مجرب است۔ اگر وقت ضرورت بھٹکٹا ثمر نہ داشتہ باشد برگ و بیخ ہم کافی است۔

امیر فقیر

***

متن تمام ہوا، فارسی کا ترجمہ:

"حبوب (گولیوں) کا نسخہ جو بخار کی تمام اقسام حتی کہ ٹی بی کے لیے بھی حد درجہ نافع ہیں:

جواکھار عمدہ 50 گرام اور سم الفار سفید 10 گرام کو کھرل میں ڈال کر باریک کرلیں، پھر اس میں بھٹکٹائی (اس بوٹی کو "کنڈیاری" بھی کہتے ہیں، اکثر امراض میں استعمال ہوتی ہے) کے پتوں اور جڑوں اور پھل کا تازہ نچوڑا ہوا صاف رس تھوڑا تھوڑا ڈال کر کھرل کریں۔ دوسرے روز پھر آب بھٹکٹائی ڈال کر یہی عمل دہرائیں۔ تیسرے دن پھر ایسے ہی، یہاں تک کہ ایک پاؤ کے قریب رس جذب ہو جائے۔

چوتھے روز جب ابھی دوا میں گزشتہ نمی باقی ہو کاغذی لموں کا رس ڈال کر کھرل کریں اور جب گولی باندھنے کے قابل ہو جائے تو مونگ کے دانے برابر گولی بنا لیں۔ پرانے بخاروں میں جب تک مکمل آرام نہ آ جائے دوا استعمال کرتے رہیں، موسمی بخاروں میں صرف ضرورت کے مطابق دیں، ان شاءاللہ بہت مجرب ہے۔ اگر دوا تیار کرتے وقت کنڈیاری کا پھل نہ بھی ملے تو صرف پتے اور جڑ ہی کافی ہیں"۔

یہ نسخہ انیسویں صدی کے اواخر کا ہے، اس وقت انگریزی طب میں ٹی بی کا علاج نہیں تھا، عالمی مشاہیر میں سے جان کیٹس، فریڈرک کوپن، چیخوف، لوئس سٹیونسن، شارلٹ برونٹے، ایڈگرالن پو اور جارج آرویل سب اسی مرض کا شکار ہوئے، یوں کہیے بیسویں صدی کے نصف تلک بھی صحیح علاج دریافت نہیں ہوا تھا، خود ہمارے قائد اعظم اس کی مثال ہیں، پھر علاج دریافت ہوا بھی تو کیسا! پہلے دو سال کا، پھر ایک سال کا، پھر نو ماہ پھر آٹھ ماہ اور پھر چھ ماہ کا اور علاج کیا تھا! ضد حیوی (اینٹی بائیوٹک) ادویات جن کے ضمنی اثرات۔۔

امیر مینائی کا جملہ آپ پڑھ چکے "بہت سے اور مدقوقوں کو بھی یہ گولیاں نافع ہوئیں"، میں مانتا ہوں ایسے مرکبات محنت سے تیار ہوتے ہیں، اوپر کی حبوب تیار کرنا بھی ماہر فن کا کام ہے لیکن ایک بات کی گنجائش بہ ہر حال موجود ہے۔

وہ یہ کہ طب عربی ہزاروں سالہ قدیم ہے، اس کے بے شمار مرکبات جید الاثر اور جامع النفع ہیں، مشکل بیماریوں میں بھروسے سے استعمال کروائے جاتے ہیں، پھر یہ طریقہ علاج یہاں کے لوگوں کے مزاج اور طبیعت اور سہولت کے موافق ہے، اگرچہ پاکستان میں عربی طب اور تماثلی طب (ہومیوپیتھک) کا نظام ناقص ہے لیکن یہ نہ چاہیے کہ اربوں کی کیمیاوی ادویات درآمد کی جائیں بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نظام درست کرکے دیسی طبوں سے مقامیوں کو فائدہ دیا جائے اور پھر یہاں کی ادویات عالمی منڈیوں تک پہنچائی جائیں، ماضی میں اس کی چند مثالیں موجود ہیں، کاش ارباب اقتدار اس طرف توجہ کریں۔

Check Also

Pakistan Waqai Aik Jannat Hai

By Syed Mehdi Bukhari