Tea Positive, Chaye Ke Cup Mein Chupi Puri Kainat
ٹی پازیٹیو، چائے کےکپ میں چھپی پوری کائنات

گذشتہ دنوں چائے کے عالمی دن کے موقعہ پر محترمہ عافیہ مقبول جہانگیر صاحبہ نے بتایا کہ میرا سابقہ مشہور آرٹیکل "چائے کی چسکی اور ادب کی چاشنی" گوگل رینکنگ میں سب سے زیادہ پڑھا گیا ہے۔ جس پر ان کی جانب سے مبارکباد پر میں بےحد مشکور ہوں۔ یہ کالم میں نے اپنے مرحوم دوست انجم لشاری کی یاد میں لکھا تھا جو پیدائشی شاعر تھے اور بعد میں روزنامہ جنگ کراچی کے ایڈیٹر بھی رہے بلا کے چائے اور سگریٹ نوش ہوا کرتے تھے۔ جوانی کے دنوں میں جب اپنا تازہ کلام سنانے تشریف لاتے تو کہتے کہ میری رگوں میں خون نہیں چائے دوڑتی ہے اور سانسوں میں سگریٹ کا دھواں گردش کرتا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ چائے اور ادب کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔
ادب کی چاشنی چائے کے بغیر ادھوری ہوتی ہے تو میری والدہ مرحومہ ایک دفعہ ہی ڈھیر ساری چائے بنا کر بڑے سے تھرموس میں بھجوا دیتیں تھیں کیونکہ ان دنوں چائے بنانے کے لیے لکڑیاں جلانا پڑتیں تھیں یوں ادب کی چاشنی اور چائے کی چسکی ساتھ ساتھ چلتے اور ان کی ذوق کے ساتھ ساتھ دل کی تسکین بھی ہوتی رہتی تھی۔
میرا ایک دوسرا کالم "چائے کا آخری گھونٹ" بھی شائع ہوا تو بہت پسند کیا گیا تھا جو میرے ایک اور دوست استاد منیرخان کے بارے میں تھا جو کہتے ہیں کہ ساری چائے ایک جانب اور آخری گھونٹ ایک طرف کیونکہ تمام تر انرجی تو ہوتی ہی آخری گھونٹ میں ہے۔ چائے کا آخری گھونٹ واقعی سب کچھ ہوتا ہے۔ یہ صرف چائے کا اختتام نہیں بلکہ ایک کیفیت کا حاصل ہوتا ہے۔ پہلے گھونٹ میں جو تیزی ہوتی ہے درمیان میں جو گفتگو ہوتی ہےوہ سب آکر اسی آخری گھونٹ میں ٹھہر جاتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ذہن خالی ہوتا ہے مگر دل بھرا ہوا۔
کہتے ہیں کہ جب باتیں ختم ہوجاتی ہیں مگر احساس باقی رہتے ہیں اور جب محفل بکھرنے لگتی ہے مگر یادیں جم سی جاتی ہیں۔ ان کے بقول چائے کا آخری گھونٹ ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ "ہر خوبصورت، خوشی اور اچھی چیز کا اختتام ضرور ہوتا ہے" تھکا ہوا انسان جب چائے کا کپ تھامتا ہے تو لگتا ہے کہ کسی نے ہاتھ تھام لیا ہے وہ چائے نہیں ایک خاموش تسلی ہوتی ہے کہ کوئی تو ساتھ ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ سب سے اچھی چائےوہ ہوتی ہے جو کوئی دوسرا پلائے اور اگر پلانی پڑ جائے تو نرا نقصان ہے۔ میرے دوست سعید چشتی مرحوم کہا کرتے تھے کہ گو کہ گنے کے رس کو پاکستان کا قومی مشروب گردانا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں سب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب چائے ہی ہے۔
گویا چائے تمام مشروبات کی مرشد ہے اس کا احترام کیا جائے کیونکہ چائے میں چاہت ہوتی ہے اور چائے کو غذا یا مشروب سمجھ کر نہیں بلکہ دوا سمجھ کر پینا ہی اس کا احترام ہے۔ کبھی اس شخص سے محبت مت کرنا جو چائے کو ٹھنڈا کرکے پیتا ہو کیونکہ جب وہ چائے کو اگنور کرسکتا ہے تو پھر آپ کیا چیز ہیں؟ کیونکہ کڑک چائے اور خالص محبت اگر ٹھنڈی ہو تو کم ظرفوں کے لیے ہوتی ہے۔ ہمارے مشترکہ دوست حکیم محمد افتخار حسین اظہر مرحوم کہا کرتےتھے کہ اچھی کتاب اور اچھی چائے سے بڑھ کر کوئی عیاشی نہیں ہو سکتی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ چائے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ نشہ ہو کر بھی حلال ہوتی ہے۔
گزشتہ روز میرے ایک دوست جو شاعر اور ادیب بھی ہیں تشریف لائے تو چائے کی درخواست پر بولے یار! ہمارا تو بلڈ گروپ ہی "ٹی پازیٹیو"ہے۔ بغیر چائے کے بیٹھنا عجیب عجیب سا لگتا ہے۔ دن کا آغاز چائے سے اور رات بھی چائے کے ساتھ ہی ہمارے گھر میں دبے پاوں اترتی ہے۔ کبھی انسان کی پہچان اس کے نام، نسب یا خون کے گروپ سے ہوا کرتی تھی اور آج سوشل میڈیا نے ایک نیا تعارف تراش لیا ہے۔ اب حال یہ ہے کہ پوچھا جاتا ہےکہ "آپ دن میں کتنی چائے پیتے ہیں؟"
یہ "ٹی پازیٹو" لوگ دراصل وہ کردار ہیں جن کی زندگی کی کہانی چائے کی بھاپ میں لکھی جاتی ہے۔ ان کے لیے صبح کا آغاز سورج کی روشنی سے نہیں بلکہ کیتلی کی سیٹی سے ہوتا ہے۔ آنکھ کھل تو جاتی ہے، مگر دل اس وقت تک بیدار نہیں ہوتا جب تک لبوں کو چائے کی پہلی چسکی نصیب نہ ہو۔ چائے کی ایک ہی چسکی میں جو سکون ملتا ہے کہ ساری ذہنی وجسمانی تھکاوٹ جنون اور امنگ میں بدل جاتی ہے۔ وہ بولے بھلا چائے پلانے کے لیے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟
آج ہمارے معاشرے میں چائے محض ایک مشروب نہیں رہا بلکہ ایک مکمل تہذیب، ایک روایت اور ایک نفسیاتی سہارا بن چکی ہے۔ مہمان آئے تو چائے، خوشی ہو تو چائے، غم ہو تو بھی چائے، پیار کا اظہار کرنا ہو تو چائے، استقبال بھی چائے اور الودع بھی چائے ہی ترجیح ہوتی ہے۔ گویا زندگی کے ہر موڑ پر ایک کپ چائے ہمارا ساتھ نبھاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے تو چائے کو صبح بخیر اور شب بخیر کے پیغامات کا حصہ بنا دیا ہے۔ ہمارے ٹی وی پر کوئی بھی ڈرامہ چائے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔
چائے کی اقسام بھی بڑھتی جارہی ہیں جیسے سادہ چائے، کڑک چائے، فوٹو چائے، چاہت والی چائے، گڑ اور شکر والی چائے، کشمیری چائے، زیرہ پلس، لونگ، دارچینی اورکلونجی والی چائے اور اب تو جگہ جگہ چرسی چائے کے بورڈ آویزاں دکھائی دینے لگے ہیں۔ ہر علاقے کی اپنی ہی ایک چائے اور اپنا ہی ذائقہ ہوتا ہے۔ گزشتہ روز ایک اور دوست تشریف لائے تو کہنے لگی یار چائے کا نہیں پوچھتے آبنائے ہرمز سے تو صرف تیل بند ہوا ہے چائے تو بند نہیں ہوئی؟
لمس کی آنچ پہ جذبوں نے ابالی چائے
عشق پیتا ہے کڑک چاہتوں والی چائے
"ٹی پازیٹو" ہونے کے لیے کسی لیبارٹری کی رپورٹ درکار نہیں ہوتی، نہ ہی کسی ڈاکٹر کی مہر۔ یہ کیفیت خود بخود دل میں اترتی ہے، کبھی دوستوں کی محفل میں، کبھی تنہائی کے سکوت میں اور کبھی بارش کی رم جھم کے ساتھ۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسان خود سے کہتا ہے: "زندگی اتنی بھی کٹھن نہیں، بس ایک کپ چائے کی کمی تھی۔ چائے کی پیالی محض ذائقہ نہیں دیتی، یہ احساس دیتی ہے، رشتے جوڑتی ہے اور بکھرے ہوئے دلوں کو سمیٹتی ہے۔ ایک کپ چائے کے گرد بیٹھے لوگ صرف چائے نہیں پیتے بلکہ اپنے دکھ، اپنی خوشیاں اور اپنے خواب ایک دوسرے میں بانٹتے ہیں۔ ایک کپ چائے ملتے ہی دل بھی قریب آجاتے ہیں تو پھر لفظ کم پڑ جاتے ہیں مگر جذبات چھلکنے لگتے ہیں۔
آترے سنگ ذرا پینگ بڑھائی جائے
زندگی بیٹھ تجھے چائے پلائی جائے
لیکن اس مزاحیہ "ٹی پازیٹو" کے پیچھے ایک گہری سچائی بھی پوشیدہ ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں ذہنی دباؤ، بےچینی اور تھکن انسان کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہی ہے۔ ایسے میں چائے ایک چھوٹا سا وقفہ بن جاتی ہے، ایک لمحہ سکون کا، جہاں انسان خود کو دوبارہ جوڑ لیتا ہے۔ شاید اسی لیے "ٹی پازیٹو" لوگ ہر حال میں مسکراتے دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ زندگی کے مسائل کا مکمل حل تو نہیں، مگر ایک وقتی سکون ضرور ایک کپ چائے میں چھپا ہوتا ہے۔
چھور آیا تھا میز پر چائے
یہ جدائی کا استعارہ تھا
یہی وجہ ہے کہ "ٹی پازیٹو" ایک مزاحیہ اصطلاح ہونے کے باوجود ایک گہرا احساس بن چکی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خوشی ہمیشہ بڑی چیزوں میں نہیں ہوتی، بلکہ کبھی کبھی وہ ایک سادہ سی پیالی میں بھی چھپی ہوتی ہے۔ آخر میں بس اتنا کہنا کافی ہے کہ اگر آپ بھی تھکن کے بعد، پریشانی کے بیچ، یا خوشی کے لمحوں میں یہ جملہ دہراتے ہیں چلو، ایک کپ چائے ہو جائے تو یقین جانیے، آپ صرف چائے کے شوقین نہیں، آپ دل سے "ٹی پازیٹو" ہیں۔ ہم نے مانا کہ یہ بس چائے کا اک کپ ہی سہی پر یہی کپ کئی بکھرے دلوں کو جوڑتا ہے۔

