Naye Zilon Ki Bazgasht
نئے ضلعوں کی بازگشت

اپنے اپنے علاقے کو ضلع بنانے کے بارئے میں لوگوں کے جذبات کا یہ عالم ہے کہ گذشتہ الیکشن میں جب میں اپنا ووٹ ڈالنے احمدپور شرقیہ گیا تو ہمارئے علاقے کے کونسلر اور میرے دوست نے مجھ سے پوچھا کہ ووٹ کس کو دینا ہے تو میں نے جواباََ پوچھا کہ آپ بتائیں کس کو دینا چاہیے؟ تو وہ کہنے لگے ووٹ اس دفعہ کسی شخصیت یا پارٹی کی بجائے "احمدپور شرقیہ ضلع"کو دینا چاہیےکیونکہ شہباز شریف نے ضلع بنانے کا اعلان کردیا ہے اس لیے ووٹ بھی اسکا ہی ہونا چاہیے۔
ہمارئے علاقے میں عام طور پر انتخابات کی مہم کے دوران صوبہ بنانے یا ضلع اور تحصیل بنانے کی بات اور وعدئے کثرت سے کئے جاتے ہیں۔ ہر جماعت کا ہر امیدوار قومی و صوبائی اسمبلی اپنے سیاسی منشور میں عوامی خواہشات، جذبات اور مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے ان وعدہ کو پچھلی کئی دھائیوں سے دوہراتا چلا آیا ہے۔ پاکستان کی تینوں بڑی جماعتیں مختلف ادوار میں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچی تو ضرور مگر بدقسمتی سےاپنا یہ دیرینہ وعدہ وفا نہ کر پائیں۔
گذشتہ الیکشن میں تو موجودہ برسراقتدار پارٹی کے "ن لیگ"کے وزیر اعظم نے ایک انتخابی جلسہ عام میں احمدپور شرقیہ کو ضلع بنانے کا اسٹیج پر اعلان کیا تو پورئے علاقے میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی اور لوگوں کی امیدیں پھر سے جوان ہوگیں۔ مگر تقریباََ پانچ سال اور بیت گئے وہ وعدہ وفا نہ ہو سکا۔ جبکہ سابقہ الیکشن میں اسی جماعت کے امیدوار جیت کر ایوانوں تک پہنچے ہوئے ہیں۔ اب ایک بار پھر پنجاب میں نئے ضلعے بنانے کی بازگشت سنائی دئے رہی ہے۔ اگر یہ درست ہے تو بظاہر انتخابات تو قریب نظر نہیں آتے اس لیے یہ نئے ضلعے یقیناََ سیاسی نہیں بلکہ عوامی مشکلات کے پیش نظر انتظامی وجوہات پر بنائے جا سکتے ہیں جو یقیناََ موجودہ حکومت کا ایک اچھا قدم شمار کیاجائے گا۔
ان افواہوں کے بعد احمدپورشرقیہ کے سیاسی، سماجی، تجارتی اور صحافتی حلقے متحد ہوکر بڑے زور شور سے ضلع بنانے کا مطالبہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن حکومتی بینچوں پر موجود ایوانوں میں بیٹھے یہاں کے نمائندوں کی آوازیں اور دیرینہ مطالبہ کی گونج کسی بھی ایوان میں سنائی نہیں دیتی یہاں تک کہ اپوزیشن کی جانب سے بھی اس بارئے میں کوئی ٹھوس مطالبہ یا مضبوط آواز سنائی نہیں دیتی۔ البتہ عوامی نعروں کی گونج ضرور سامنے آئی ہے۔
کہتے ہیں ریاست کی مضبوطی کا اندازہ اس کے دارالحکومت کی چکاچوند اور خوبصورتی یا اچھی سڑکوں ہی سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ دور دراز بستیوں میں بسنے والا عام آدمی اپنے مسائل کے حل کے لیے کتنے دروازے کھٹکھٹاتا ہے۔ جب ایک شہری کو معمولی سرکاری کام، عدالتی پیشی، زمین کے ریکارڈ یا علاج معالجے کے لیے درجنوں میل کا سفر کرنا پڑے تو یہ صرف فاصلے کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ انتظامی ڈھانچے کی کمزوری کا سوال بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں آبادی اور ضروریات کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ انتظامی اکائیوں کو بھی ازسرنو ترتیب دیا جاتا ہے تاکہ حکومت عوام کے زیادہ قریب آسکے۔
ضلع صرف نقشے پر کھنچی گئی لکیر یا زمین کے ٹکڑئے ہی کا نام نہیں ہوتا بلکہ یہ ریاست اورعوام کے درمیان رابطے کا ایک موثر انتظامی پل ہوتا ہے۔ جب آبادی بڑھ جائے، شہر اور ملحقہ قصبے پھیل جائیں اور لوگوں کی ضروریات میں اضافہ ہو جائے تو پرانے انتظامی ڈھانچے اکثر کام کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ ایسے میں علاقائی محرومیوں کے ازلے کے لیے بہتر انتظامیہ، تیز تر ترقی، روزگار کے نئے مواقع، ہنگامی حالات میں فوری رسپانس، شہری ترقی اور صحت و علاج کی جدید اور بہتر سہولت کے لیے ایسے نئے اضلاع کا قیام انتظامی ضرورت بن جاتا ہے۔
پاکستان اور خصوصا پنجاب میں بھی نئے اضلاع کے قیام کی بحث کوئی نئی نہیں۔ ہر چند برس بعد یہ مطالبہ پھر سر اٹھاتا ہے کہ ایسے علاقوں کو ضلع کا درجہ دیا جائے جو آبادی، رقبے، تاریخی حیثیت اور انتظامی ضرورت کے اعتبار سے اس کے مستحق ہیں۔ گذشتہ سالوں میں کوٹ ادو، تونسہ شریف جیسی تحصیلیں بھی ضلع کا درجہ حاصل کر چکی ہیں جن کے درمیان صرف پچاس کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ جبکہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے بہاولپور کے تین اضلاع ہی نظر آتے ہیں جن میں بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یارخان جو ایک دوسرے سے کئی گھنٹوں کی مسافت پر واقع ہیں۔
جنوبی پنجاب میں جب بھی اس موضوع پر گفتگو ہوتی ہے تو احمد پور شرقیہ کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ ایک ایسا شہر جو اپنی سابق ریاست بہاولپور کا صدرمقام ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخ، تہذیب، زرعی اہمیت اور جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث محض ایک تحصیل نہیں بلکہ ایک مکمل انتظامی اکائی بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ احمد پور شرقیہ کے باسیوں کا مؤقف ہے کہ ضلع کا درجہ ملنے سے سرکاری دفاتر، عدالتی سہولیات، صحت اور تعلیم کے ادارے مقامی سطح پر دستیاب ہوں گے، لوگوں کے سفر اور اخراجات کم ہوں گے اور ترقیاتی فنڈز تک براہِ راست رسائی ممکن ہو سکے گی۔
دوسری جانب ناقدین کا خیال ہے کہ صرف نئے اضلاع بنا دینے سے مسائل حل نہیں ہوتے، اصل ضرورت مؤثر طرزِ حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ جب بھی پنجاب میں نئے انتظامی یونٹوں کی بات ہوتی ہے تو احمد پور شرقیہ کا نام خاموشی سے نہیں گزرتا۔ یہ مطالبہ کئی دہائیوں سے زندہ ہے اور ہر نئی سیاسی بحث کے ساتھ دوبارہ سر اٹھا لیتا ہے۔ شاید سوال یہ نہیں کہ احمد پور شرقیہ ضلع بنے گا یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اپنے دور افتادہ علاقوں تک سہولتیں پہنچانے کے لیے انتظامی ڈھانچے کو عوام کی ضرورت کے مطابق ڈھالنے کے لیے تیار ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو احمد پورشرقیہ کی خواہش صرف ایک عوامی مطالبہ ہی نہیں بلکہ ایک منطقی امکان بھی بن سکتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ نئے ضلعے کیوں بنائے جائیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا عوامی سہولت، بہتر حکمرانی اور متوازن ترقی کے لیے اب یہ ناگزیر ضرورت نہیں بن چکی؟ احمدپور شرقیہ آج بھی ضلع بننے کے خواب کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ ہر نئی سیاسی ہوا اس خواب کو تازگی بخش دیتی ہے مگر یہاں کی عوام اب وعدوں سے زیادہ نوٹیفیکیشن کے منتظر ہیں کہ کب اس شہر کے ساتھ "ضلع" کا اضافہ ہوگا۔ اگر ترقی کو واقعی نچلی سطح تک پہنچانا ہے تو احمدپور شرقیہ کو ضلع بنانا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک تاریخی انصاف ہوگا۔ کیونکہ یہ صرف ایک شہر کا مطالبہ نہیں بلکہ پورئے وسیب کی ضرورت اور آواز ہے۔

