Youm e Shuhada e Kashmir
یوم شہدائے کشمیر
جنت ارضِ کشمیر کی تاریخ کئی صدیوں پر مشتمل ظلم و استبداد کے بالمقابل جدوجہدِ آزادی، اپنے حق خود ارادیت اور اجتماعی عدل کی خاطر ہر جبر و بربریت سے ٹکرانے سے عبارت ہے۔ "یومِ شہدائے کشمیر" ان خاص دنوں میں سے ایک ہے جو تاریخ کا دھارا موڑ دیا کرتے ہیں، جو قوموں کے اجتماعی شعور کی بیداری اور ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے کے عزم کی علامت بن جاتے ہیں۔ یہ دن ایک اہم واقعہ کی یاد میں لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن 13 جولائی 1931 کے شہدا سے اظہارِ عقیدت کرنے اور ان کی یاد تازہ کرنے کے لیے منایا جاتا ہے جنہوں نے اپنے مذہبی فریضہ "اذان"کی ادائیگی کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کی تھیں۔
1931 کے اوائل میں جب کشمیر کے غیور عوام میں بھارتی قبضے کے خلاف کچھ کرنے اور غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کا عزم بیدار ہو رہا تھا، اسی اثنا میں تین ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے تحریکِ آزادی کو ایک نیا رخ دے دیا۔
پہلا واقعہ خطبہ عید کے حوالے سے پیش آیا جب جموں کے مسلمانوں کا جمِ غفیر عیدگاہ میں موجود تھا۔ خطیب صاحب نے اپنی شعلہ بیانی سے حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا واقعہ کچھ اس انداز میں پیش کیا کہ حاضرین کا لہو گرما گیا، ان کا ایمان تازہ ہوگیا لیکن وہاں کے ڈوگرہ آئی جی کو گمان ہوا کہ فرعون کے عنوان سے ان کے ڈوگرہ مہاراجہ پر تنقید کی جارہی ہے۔ پس اس نے ایک پولیس انسپکٹر کے ذریعے عیدکا خطبہ جبراً رکوا دیا۔ اس پر مسلمانانِ جموں سراپا احتجاج بن کے سڑکوں پر نکل آئے کیوں کہ انھیں اپنے مذہبی فریضہ کی ادائیگی سے روک دیا گیا تھا۔
دوسرا واقعہ شدت میں پہلے سے بھی فزوں تر تھا۔ جموں جیل میں جہاں مسلمان قیدیوں کو رکھا جاتا تھا، وہاں کے ایک کانسٹیبل لبھو رام نے قرآن پاک کی دانستہ توہین کی۔ کلامِ الہٰی کی بے حرمتی مسلمانانِ کشمیر کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔ ہر طرف کہرام مچ گیا۔ حالات مہاراجہ ہری سنگھ کے کنٹرول سے بھی باہر ہوگئے۔ کشمیریوں میں مذہبی شعار اور روایات کا حد درجہ احترام کیا جاتا ہے۔ یہی ان کی روحانی و اخلاقی بالیدگی کا بنیادی سبب ہے۔ ان کا ایمان ہی ہے جس کے سبب نہتے معصوم عوام ابھی تک مسلح افواج کے سامنے آزادی کی شمع کے پروانے بنے کھڑے ہیں۔ تیسرا واقعہ خانقاہِ معلیٰ میں پیش آیا جہاں حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں میر واعظ مولانا یوسف شاہ اور شیخ عبداللہ تقریر کر رہے تھے کہ مجمع کے اندر سے ایک نوجوان "عبد القدیر" پر جوش انداز سے اٹھ کے کھڑا ہوگیا۔ یہ نوجوان کسی یورپی سیاح کے ہمراہ مقبوضہ کشمیر پہنچا تھا۔
اس نے کہا: "مسلمانو! یادداشتیں پیش کرنے سے ظلم کا دور ختم نہیں ہوگا اور نہ ہی قرآن پاک کی بے حرمتی رکے گی، لہٰذا وقت آگیا ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دو!"۔
ڈوگرہ حکومت نے محض اس تقریر کی وجہ سے اس نوجوان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ سرکار کے اس فیصلے کے خلاف جموں و کشمیر کے مسلمانوں نے اس نوجوان کی حمایت میں جامع مسجد سری نگر میں بڑا جلسہ منعقد کیا جس میں ایک لاکھ سے زائد نفوس نے شرکت کی اور عبد القدیر کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ عبد القدیر نے عوام کے جذبات کی صحیح معنوں میں دو ٹوک ترجمانی کی تھی مگر سرکار اسے سزا سناکر نشانِہءعبرت بنانا چاہتی تھی۔ 13 جولائی 1931 کا دن تھا جب عبد القدیر کو سنٹرل جیل میں مقدمے کی سماعت کے بعد سزا سنائی جانی تھی کہ اسی دوران نماز کا وقت آ گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس مقدمہ کی سماعت کے لیے جیل کے باہر موجود تھے جب کہ دو سو کے قریب افراد جیل کے اندر جانے میں کامیاب ہوگئے۔ نماز کا وقت تھا تو ایک شخص نے کھڑے ہوکر اذان دینا شروع کی۔ ابھی "اللہ اکبر" کی صدا بلند ہوئی تھی کہ ڈوگرہ پولیس نے فائر کھول دیا۔ مؤذن شہید ہوگیا تو ایک اور مومن آگے بڑھا اور اذان کو جاری رکھا، اسے بھی شہید کردیا گیا مگر آفرین ہے کشمیری مسلمانوں کے جذبہ ایمانی پر کہ برستی گولیوں میں اذان کو جاری رکھا۔ 22 کشمیری موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جب کہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ بعض جگہوں پر یہ تعداد 23 بھی بتائی جاتی ہے۔ یکے بعد دیگرے بائیس فرزندانِ توحید نے سینے پر گولیاں کھاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرکے اذان کو مکمل کیا۔
ان شہدا کو سری نگر میں "نقش بند صاحب" کے علاقے میں دفن کیا گیا۔ شیخ عبداللہ نے اپنی یادداشت میں لکھا کہ جب وہ زخمیوں کے قریب پہنچے تو ایک زخمی نے اپنے آخری پیغام میں ان سے کہا کہ "ہم نے اپنا فرض پورا کردیا ہے، اب قوم اپنا فرض ادا کرنا نہ بھولے"۔
چنانچہ جب شیخ عبداللہ کو ایک معاہدے کے نتیجے میں کشمیر کا وزیراعظم بنایا گیا تو انہوں نے ہر سال 13 جولائی کو "یومِ شہدائے کشمیر" منانے کا اعلان کیا۔
حالات کا تقاضا ہے کہ سفارتی، قانونی اور بین الاقوامی سطح پر کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کا مقدمہ بھرپور انداز سے لڑا جائے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ قانونِ آزادیِ ہند 1947 ریاستوں کو یہ اختیار دیتا تھاکہ وہ:
پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیں یابھارت کے ساتھ الحاق کر لیں یا اپنی آزاد حیثیت کو برقرار رکھیں۔
برطانوی اور کانگریسی رہنمائوں نے ملی بھگت سے اِس قانون کی خلاف ورزی کر تے ہوئے سازش کے تحت ضلع گورداسپور کو بھارت میں شامل کر دیا۔ بھارت کی چال کا آخری مہرہ کشمیر کے مہاراجہِ ہری سنگھ نے تقسیمِ ہند کے وقت کھیلا جِس نے پاکستان حکومت کے ساتھ سٹینڈ سٹل (Standstill) معاہدہ کیا جبکہ دوسری طرف ظلم و ستم میں پسے ہوئے کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے جد و جہد کررہی تھی۔ مگر جب عوام نے مہاراجہ کو ریاست کی حکمرانی سے باہر نکال پھینکا تو نام نہاد راجہ نے سٹینڈ سٹل (Standstill) معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ غیر قانونی الحاق کرکے کشمیر میں بھارتی قبضہ کی راہ ہموار کی اور نتیجتاً بھارت نے اپنی فوجیں 27 اکتوبر 1947 کو کشمیر میں داخل کردیں۔
کشمیر پر بھارت کا قبضہ مکمل طور پہ غیر قانونی ہے، اِس کے دلائل برطانوی مصنف "ایسٹر لیمب"نے اپنی کتاب Kashmir: A Disputed Legacy، (1846-1990) میں لکھے ہیں، مصنف کا زیادہ اصرار اِس بات پہ ہے کہ راجہ کی جو دستاویزِ الحاق کہی جاتی ہے وہ مکمل طور غیر قانونی ہے - اس کے بقول دستاویز کے غیر قانونی ہونے کی وجوہات یہ ہیں۔
الحاق غیر قانونی تھا، اس کو Stand Still Agreement کی خلاف ورزی بھی کہا جا سکتا ہے جو کہ ریاست جموں و کشمیر نے پاکستان کے ساتھ کیا اور یہ الحاق تقسیمِ ہند کے اصولی طریقہ کار کے خلاف تھا۔
مہاراجہ ان وجوہات کی وجہ سے الحاقی دستاویز پر دستخط کرنے کے قابل نہیں تھا۔
مہاراجہ چوبیس اکتوبر کو بننے والی ریاست آزاد کشمیر پر کنٹرول کھو چکا تھا۔
مہاراجہ 26 اکتوبر کو اپنا سمر کیپیٹل سری نگر چھوڑ کے بھاگ چکا تھا اورکسی بھی صورت چھوڑی ہوئی ریاست کا فیصلہ کرنے کا اہل نہیں تھا۔
اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے الحاقی دستاویز کے دستخط ہونے سے پہلے ہی اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کر دی تھیں۔
(بحوالہ مراۃ العارفین انٹرنیشنل)
کشمیر کے شہدا نے اپنے لہو سے چناروں کو سرخی بخشی اور ذرے ذرے میں آزادی و حریت کا پیغام نقش کردیا۔ سید علی گیلانی مرحوم کے الفاظ آج بھی گونج رہے ہیں "ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے!"۔
"کشمیر" دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان فلیش پوائنٹ ہے جس کا منصفانہ حل ضروری ہے۔ یہ مسئلہ برسوں سے اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے اور کئی قراردادیں منظور کی جاچکی ہیں کہ کشمیری عوام کو آزادانہ استصواب رائے کا موقع فراہم کیا جائے، مگر بھارت کی دس لاکھ سے زائد فوج نے کشمیری عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ باوجود گھر گھر جارحانہ تلاشی لینے اور راستوں کی ناکہ بندی کے، بھارتی فورسز کشمیری عوام سے ان کا نظریہ، ان کا وژن اور جذبہ حریت چھیننے میں ناکام رہی ہیں۔ 13 جولائی کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی کتنی عظیم نعمت ہے اور اس نعمت کی حفاظت اپنے لہو کی قربانی سے کی جاتی ہے۔ 13 جولائی کے شہدائے کشمیر نے اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان کرتے ہوئے اپنی جان قربان کی، اسی لیے ان کا نام آج بھی زندہ ہے اور تاریخ کے سنہرے اوراق میں ہمیشہ جگمگاتا رہے گا!
قرآن پاک میں ارشادِ الہٰی ہے: "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کیے جاتے ہیں ان کی نسبت یوں بھی مت کہو کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ تو (ایک ممتاز حیات کے ساتھ) زندہ ہیں لیکن تم (ان حواس سے اس حیات کا) ادراک نہیں کرسکتے"۔
سر کٹا کر بھی جو زندہ رہیں کرداروں میں
وہ شہید اپنے وطن کی مٹی کے تاجداروں میں
خونِ شہید سے مہکتی ہے زمیں کی خوشبو
یہ چراغ ایسے جلتے ہیں جو اندھیاروں میں
شہادت موت نہیں، زندگی کا درجہ ہے
یہی پیغام چھپا ہوتا ہے شہ پاروں میں
جو مذہب پر ہوئے قربان، امر ہو بیٹھے
نام روشن ہیں انہی کے سبھی میناروں میں

