Tolo e Zameen
طلوعِ زمین

آدمی نے اپنے آپ کو پہلی مرتبہ تب دیکھا جب اس نے اپنا عکس کسی جھیل یا ندی میں دیکھا۔ اسی طرح ہم روز اپنی زمین کی تصاویر دیکھتے ہیں اور ان تصاویر کو دیکھنے کے اتنے عادی ہو چُکے ہیں کہ اب ہمیں ان میں کچھ بھی نہیں چونکاتا۔ البتہ جب آدمی نے پہلی مرتبہ چاند سے زمین کو طلوع ہوتے دیکھا تھا تو وہ ششدر رہ گیا تھا۔ یہ زمین کی پہلی تصویر ہے، باہر کی آنکھ سے۔
انسان پہلی بار چاند کے مدار میں پہنچا تو اُس نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے انسانی شعور کا زاویہ ہی بدل دیا۔ چاند کی خاموش، بے رنگ اور ویران سطح کے اوپر اچانک ایک نیلا، سفید اور زندہ سیارہ اُبھرتا دکھائی دیا، ہماری زمین۔ یہ وہ لمحہ تھا جب انسان نے پہلی بار اپنے آپ کو، اپنی ننھی سی دُنیا (واقعی چھوٹی سی دُنیا) کو باہر کھڑے ہو کر دیکھا تھا۔
اس تصویر کی سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس میں نہ کوئی سرحد دکھائی دیتی ہے، نہ قومیں، نہ مذاہب، نہ جنگیں اور نہ طاقت کے وہ تمام دعوے جن پر انسان صدیوں سے خون بہاتا آیا ہے۔ خلا کی بے کنار تاریکی میں صرف ایک ننھا سا نیلا سیارہ معلق دکھائی دیتا ہے، جیسے سرد کائنات میں جلتا ہوا کوئی چراغ۔
شاید پہلی بار انسان کو احساس ہوا کہ وہ جس زمین پر اپنی انا، نفرتوں اور تقسیم کی عمارتیں کھڑی کرتا ہے، وہ دراصل کائنات کے سمندر میں تیرتی ہوئی ایک نہایت نازک کشتی ہے۔
چاند سے دیکھی گئی دنیا کی تصاویر نے جدید ماحولیاتی شعور کو جنم دیا۔ لوگوں نے پہلی بار محسوس کیا کہ زمین قدرت کی مفت (یہاں زور مفت پر ہے) میں فراہم کردہ لامحدود نعمتوں کی جا نہیں بلکہ ایک قیمتی امانت ہے۔ چاند کی خاموشی اور تنہائی، لامتناہی تنہائی سے دیکھیں تو انسان کی جنگیں بچوں کے جھگڑوں جیسی لگتی ہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ اُس وقت زمین پر سرد جنگ اپنے عروج پر تھی، طاقت کے کھیل جاری تھے، قومیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا تھیں، مگر خلا کی بلندی سے یہ سب کچھ بہت چھوٹا اور بے معنی دکھائی دیتا تھا۔
یہ تصویر انسان کی عظمت کی بھی علامت ہے۔ یہی مخلوق جو کبھی غاروں میں رہتی تھی، ایک دن چاند تک جا پہنچی اور پھر وہاں سے پلٹ کر اپنی ہی دنیا کو حیرت سے دیکھنے لگی۔
میں نے یہ تصویر پہلی مرتبہ اپنے اسکول کی کتاب میں دیکھی تھی، چند لمحے اسے تکا تھا اور ورقہ پلٹ دیا تھا۔
ابھی سوشل میڈیا پر یہ تصویر میرے سامنے آئی تو خیال آیا کہ اگر چاند ایک زندہ وجود ہوتا تو زمین پر رینگتے اور برسات میں پر لگ کر اُڑنے والے ہم ذہین کیڑوں مکوڑوں کو لڑتے، مرتے، نفرت کرتے، کُفرانِ نعمت کرتے اور بالآخر نابود ہوتے ہوئے دیکھ کر کتنا ہنستا اور کہتا۔
"نالائق، ناشکرے"۔

