Iqbal Deewan Ka Inkeshaf
اقبال دیوان کا انکشاف

اقبال دیوان کا تذکرہ میں نے پہلی مرتبہ آصف فرخی صاحب سے سُنا، اقبال صاحب کی تحریر کردہ ایک کہانی آصف کے رسالے "دُنیا زاد" میں شائع ہو رہی تھی اور وہ اس کی بہت تعریف کر رہے تھے۔ بعدازاں اقبال صاحب کا ناول "جسے رات لے اُڑی ہوا" پڑھا تو اُن کی تحریر نے دل موہ لیا اور ان کی تخلیقات کا انتظار رہنے لگا۔ رنگ و خوش بو میں سجی بسی تحریریں اردو محاورے کے مطابق مشامِ جاں کو معطر کرنے لگیں۔ "فیکشن" ان کا طرہ امتیاز ٹھیرا۔ ان کے فکشن میں بھی ان کی زندگی کے تجربات و مشاہدات کا عکسِ رنگین خوب جھلکتا ہے، بات سے بات نکلتی ہے اور کہانی میں سے کہانی برآمد ہوتی ہے۔ بہرحال، خوبیِ قسمت دیکھیے، ان سے ایک ملاقات کیا ہوئی، باقاعدہ ملاقات رہنے لگی۔ شناسائی نے عقدہ وا کیا کہ وہ نہ صرف صاحبِ مطالعہ ادیب ہیں جن کے ذاتی کتب خانے میں ہزار ہا کُتب ہیں بلکہ کارِ سرکار کا اہم حصہ ہونے اور کچھ افتادِ طبع کے باعث ان کی زنبیل میں لاتعداد واقعات ہیں۔ وہ اعلیٰ درجے کے خطاط ہیں تو عمدہ مصور بھی۔
گزشتہ روز ان سے بات ہوئی تو ہمیشہ کی طرح ایک روزمرہ معاملے پر نئے رنگ سے روشنی ڈالی۔ کہنے لگے "عرفان میاں ہم نے اِن دنوں ایک نیا مشاہدہ کیا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں مصوری کا شوق ہے سو ہم نے ایک آرٹ اکیڈمی جوائن کر لی ہے۔ وہاں ہمارے ساتھ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہوتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اب جو کمپیوٹر وغیرہ کے ذریعے کمیونیکیشن کا چلن عام ہوا ہے اور ای میل، موبائل پر ٹائپنگ کے ذریعے مراسلت ہوتی ہے آج کے نوجوانوں میں آپس کے جسمانی میل جول میں وربل کمیونیکیشن (زبانی ابلاغ، زبانی بول چال) کا رجحان گھٹتا جا رہا ہے۔ وہ صرف مجبوری کے تحت بات کرتے ہیں۔ جب ہم جوان تھے تو خُوب بولتے تھے، آج کا نوجوان بولتا کم ہے دیکھتا زیادہ ہے"۔
ان کی بات نے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ انسان کے ارتقا کے ساتھ اس کے جسمانی خط و خال بھی بدلتے گئے، بلکہ نظریہ ارتقا کے مطابق لاکھوں برس میں وہی جانور باقی رہ گئے جنہوں نے اپنے آپ کو ماحول کے مطابق ڈھال لیا۔ اُڑنے والی مچھلیوں کے پر چلے گئے، زمینی جانوروں کے فِن نکل آئے اور پھیپھڑے بڑے ہوگئے تاکہ ان کو پانی میں آسانی رہے، انسان کی سُننے، دیکھنے اور سونگھنے کی صلاحیت کم ہوگئی کیونکہ جدید معاشرے میں اسے ارد گرد کے وحشی جانوروں سے فوری خطرہ نہ تھا اور ہر روز خوراک کی تلاش کا امتحان بھی درپیش نہ تھا۔ آج بھی اگر ہم نے ارتقا کے بدن پر اثرات کا عملی مظہر دیکھنا ہو تو ملائشیا کے قریب صباح، جنوبی فلپائن اور مشرقی انڈونیشیا کے غوطہ خور قبائل کے انسانوں کو دیکھ لیا جائے جن کے پھیپھڑے دیگر انسانوں سے بڑے ہیں اور وہ پانی کے نیچے اندر عام آدمی سے زیادہ دیر رہ سکتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ آج کے جدید پاکستان میں عقل مند اور دور اندیش، کیا جوان اور کیا بُوڑھے لوگ دیکھتے زیادہ ہیں اور بولتے کم ہیں۔

