Main Hamesha Dair Kar Deta Hoon
میں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں
وہ ہمیشہ دیر کر دیتا تھا۔
یوں نہیں کہ وہ جان بوجھ کر وقت ضائع کرتا ہو، بلکہ یوں لگتا تھا جیسے وقت ہی اس سے خفا ہو۔
خوابوں تک پہنچنے میں، لوگوں کو سمجھنے میں اور زندگی کو جینے میں، وہ ہر جگہ چند لمحے پیچھے رہ جاتا تھا۔
بدقسمتی اس کی مستقل ساتھی تھی۔
جہاں وہ پہنچتا، وہاں ناکامی پہلے سے موجود ہوتی، جیسے اس کے آنے کی خبر پا کر اس کا استقبال کرنے آ گئی ہو۔
قسمت کبھی اس پر مہربان ہونے لگتی، تو وہ لمحہ بھر میں ہاتھ چھڑا کر یوں اڑن چھو ہو جاتی جیسے وہ کبھی تھی ہی نہیں۔
وہ نوجوان زندگی کی ہر جنگ ہار چکا تھا۔
تعلیم نے اسے رد کیا، رشتوں نے اسے بوجھ سمجھا اور حالات نے اسے بار بار یہ احساس دلایا کہ وہ غیر ضروری ہے۔
دل برداشتہ ہو کر اس نے کئی مرتبہ خود کو ختم کرنے کی کوشش کی، مگر یہاں بھی ناکامی اس کا مقدر بنی۔
موت تک اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتی تھی۔
آہستہ آہستہ اس کی زندگی سے خواہشات کے جنازے نکل گئے۔
مستقبل ایک مبہم لفظ بن کر رہ گیا۔
اب وہ خود ایک خالی مکان تھا، ایسا مکان جس میں برسوں سے کوئی چراغ نہیں جلا۔
جہاں خاموشی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آتی ہے اور یادیں بھوتوں کی طرح منڈلاتی ہیں۔
وہ اسی خالی کمرے میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔
نگاہیں چھت پر جمی تھیں، جیسے وہاں کوئی جواب لکھا ہو۔
اس کے ہاتھ میں سلگتا ہوا سگریٹ تھا اور اس کا دھواں آہستہ آہستہ کمرے کی دیواروں پر بکھر رہا تھا۔
بالکل ویسے ہی جیسے اس کی زندگی بکھر چکی تھی۔
یہ اس کا بیسواں سگریٹ تھا۔
دبئی کا آخری سگریٹ۔
وہ ہمیشہ یہی کرتا آیا تھا۔
ایک سگریٹ بجھتا، تو دوسرا سلگا لیتا۔
جیسے ایک دن ختم ہوتا، تو دوسرا بے دلی سے شروع کر لیتا ہو۔
اچانک اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ خود کو خود کے سامنے کھڑا دیکھ رہا ہو۔
ایک وہ، جو حیران تھا۔
دوسرا وہ، جو خود کو دیکھ کر شرمندہ بھی تھا اور ترس کھانے پر بھی مجبور۔
یہ لمحہ عجیب تھا۔
جیسے جسم اور روح آمنے سامنے آ گئے ہوں۔
روح خاموش تھی اور جسم تھکا ہوا۔
اگلے ہی پل، اسے لگا وہ اس دھوئیں سے بھرے کمرے کو چھوڑ کر اوپر اٹھ رہا ہے۔
وہ تیزی سے آسمان کی طرف جا رہا تھا۔
اس دنیا سے بہت دور۔
ناکامیوں سے بہت دور۔
اور خود سے بھی بہت دور۔
نیچے زمین پر وہی کمرہ تھا۔
دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے وہی ناکام شخص۔
اب بھی چھت کو گھور رہا تھا۔
اس کے ہاتھ میں سلگتا سگریٹ آہستہ آہستہ انگلیوں کو جلا چکا تھا۔
اور آخرکار۔
وہ بھی دم توڑ چکا تھا۔
وہ شخص؟
وہ اب بھی وہیں تھا۔
وہ ہمیشہ کی طرح
دیر کر چکا تھا۔
زندگی سے بھی۔
اور خود سے بھی۔

