Islahat Ke Khwahan Log
اصلاحات کے خواہاں لوگ

معاملات کے درست ہونے کی خواہش رکھنا اچھی بات ہے مگر اس کے لیے انسان جو بھی کر سکتا ہے اگر وہ کرتا رہے تو بہتر۔ ذاتی معاملات کو درست، بہتر اور بہترین کرنے کی سعی کرنے والے سارے خودغرض نہیں ہوتے مگر وہ بہرحال اپنی اور اپنوں کی اغراض پوری کرنے کی جانب راغب ہوتے ہیں، اس لیے انہیں دوسروں کے لیے بھلائی کا خواہاں نہیں کہا جا سکتا۔ یہ اور بات ہے کہ بہت زیادہ باثروت ہو جانے کے بعد ان میں سے کچھ کسی طرح سے سمیٹے گئے مال میں سے کچھ اور بعض اوقات بہت کچھ دان کر دیتے ہیں جیسے ملک ریاض یا بل گیٹ وغیرہ۔
سچ تو یہ ہے کہ ایسے لوگ جس دولت کے ذخیرے سے دولت سمیٹتے ہیں وہ مشترکہ ذخیرہ، وہاں رہنے والے سبھوں کا ہوتا ہے۔ اگر کروڑ ہوں گے تب ہی اس میں سے کوئی ننانوے لاکھ لے سکے گا۔ یہ اور بات ہے کہ باقی مثال کے طور پر نو کروڑ ننانوے لاکھ ننانوے ہزار نو سو ننانوے لوگوں کے لیے ایک لاکھ ہی بچ رہیں گے۔ زمین پہ موجود پانی وہی پانی ہے جو شروع میں پیدا ہوا تھا۔ اسی طرح زمین میں دبی معدنیات یا زمین کی صلاحیت یا ذخائر بھی پیدا ہوئے تھے۔ بعد میں ان کو خام مال کی صورت میں سونے چاندی سے آنکا گیا، پھر دھاتی سکے اور بعد میں کاغذی نوٹ دولت کا پیمانہ بنا دیے گئے۔ بینکاری شروع کی گئی۔ بعض اوقات بینکوں میں کرنسی نوٹ ہوتے ہی نہیں لیکن رقوم کا لین دین کاغذوں میں ہوتا رہتا ہے۔ یہ جو پہلے اپنے لیے پھر اس پار جانے سے پہلے اس پار ہونے والے احتساب سے ڈر کے یا خلقت خدا کے لیے خرچ کرکے نام بنانے والے لوگ ہیں، ان کی تو بات ہی نہ کریں۔ ان کی بھی اب بات کیا کرنی جو عجلت میں معاملات کو درست کرنے کی شدید خواہش میں انقلاب لانے کے خواہاں ہیں۔ انقلاب کے بعد کے عذاب بہت غیر انسانی ہوتے ہیں اور انقلاب کے بعد کے دور کی عمر بھی زیادہ سے زیادہ چوہتر سال رہی ہے یعنی سوویت یونین کی۔ چین بھی ویسا چین نہیں رہا اور کیوبا بھی ویسا کیوبا نہیں۔ شمالی کوریا کی تو بات ہی چھوڑیں۔
اصلاح کی خواہش رکھنا ولایت ہے اور اصلاح کے لیے کام کرنا پیغمبرانہ عمل۔ اس کام کی سینکڑوں جہتیں ہیں۔ انفرادی خدمت اور مدد سے لے کر اجتماعی بہتری کے ہزاروں کاموں کو شروع کرنا، ان میں شریک ہونا، ان کو جاری رکھنا، جاری کاموں کو بہتر کرنا۔ لوگوں کو سمجھانا، خود سمجھنا، لیکچر دینا، جوش کے بغیر تقریر کرنا، تحریر کرنا، سوچنا، لوگوں میں سوچنے کی عادت ڈالنا، کسی بہتر کام کے لیے لوگوں سے رابطہ کرنا، لوگوں کو اصلاح کے عمل کی خاطر اکٹھا کرنا، اچھی بات کو آگے پہنچانا، غلط بات کی نفی کرنا، غلط عمل کو آگے بڑھنے سے روکنا، غلط بات کے پرچار سے منع کرنا یعنی مذہبی زبان میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔
اپنے خیال میں اچھے کام کو آگے بڑھانے اور ابنے خیال میں برے کام کو روکنے کا کام آج کے بنیاد پرست اسلامی جنگجو بھی کرتے ہیں اور کل کے کمیونسٹ انقلابیوں نے بھی کیا تھا مگر دونوں نے اپنی ہی سوچ کو حتمی جانا تھا اور اس ضمن میں دونوں ہی اعمال یعنی اچھی بات بڑھانے اور غلط یا بری بات روکنے کے سلسلے میں آج بھی طاقت کا بے محابا اور غیر انسانی استعمال کر رہے ہیں اور ماضی میں دیگر انقلابیوں نے بھی طاقت کا غیر منظقی اور غیر انسانی استعمال کیا تھا۔
اصلاحات کے خواہاں لوگ ثابت قدمی کے ساتھ چیزوں اور معاملات کو بہتر بنانے کے عمل میں مشغول رہتے ہیں۔ کبھی آہستہ ہو جاتے ہیں، کبھی تیز۔ کبھی نرم پڑ جاتے ہیں کبھی تند اور کبھی تھوڑا سا رک کر سانس لے لیتے ہیں۔ اسی لیے تھکتے نہیں۔ اس کے برعکس جنونی اور انقلابی دونوں ہی یا تو مارے جاتے ہیں، یا اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں تو آپس کے دھڑوں میں ٹھن جاتی ہے۔ جو دھڑا کامیاب ہو جاتا ہے وہ اپنی پالیسی منواتا اور چلاتا ہے جیسے بالشویکوں نے مینشویکوں کو چپ کرایا تھا۔ سٹالن نے ٹراٹسکی کو ملک بدر کیا تھا اور پھر مروا دیا تھا۔ افغان طالبان نے تاجک مسعود کو پیچھے دھکیلا تھا۔ پھر وقت آنے پر شمالی اتحاد نے طالبان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا تھا، وغیرہ وغیرہ۔
معیشت اور معاشرت کی اصلاح کے خواہاں لوگ صرف اپنی بات نہیں منواتے بلکہ وہ ان سب کی بات سنتے ہیں جو معیشت اور معاشرت کی بھلائی کے خواہاں ہوتے ہیں لیکن ان کا نقطہ نظر مختلف ہوتا ہے۔ ان کئی دھڑوں میں مکالمہ ہوتا ہے اور کھلے عام۔ لوگ جس کے موقف کو زیادہ وزنی سمجھتے ہیں اس کے حامی ہو جاتے ہیں۔ مقابلہ دلیل سے شروع ہو کر انتخاب پر ختم ہوتا ہے۔ انتخاب موقف کا نہیں بلکہ اقتدار کے لیے انتخاب۔ ایک فریق اگر اکثریت لے لیتا ہے تو دوسرا فریق ہار مان لیتا ہے لیکن اپنے موقف کو زیادہ مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کرنے کا عمل جاری رکھتا ہے۔ اس مناسب اور مہذب انداز میں معاشرہ بھی آگے کی جانب بڑھتا ہے اور معیشت بھی ترقی کی جانب گامزن ہو جاتی ہے۔
ایسا نہیں ہوتا کہ اصلاحات کے خواہاں لوگوں کے مخالف نہیں ہوتے۔ معیشت اور معاشرت کو بہتر کرنے کی خواہش کرنے والے دراصل ان لوگوں اور قوتوں کے لیے ناقابل قبول ہوتے ہیں جن کو سٹیٹس کوو سے فائدہ پہنچ رہا ہوتا ہے۔ اصلاحات کی آواز چونکہ تند اور جذباتی نہیں ہوتی اس لیے ایسا کرنے والوں کے مخالف ان پر براہ راست حملہ آور نہیں ہو سکتے۔ وہ ایسے لوگوں کے خلاف اس قسم کا پرچار کرتے ہیں کہ انہیں غیر محب وطن اور کسی دوسرے کے موقف کے پرچارک ہونا ثابت کر سکیں۔
آج کل ایسا کیا جانا اس لیے بھی آسان ہے کہ اصلاح کی جدوجہد میں بہت زیادہ این جی اوز شامل ہو چکی ہیں۔ بیشتر این جی اوز ملک کے اندر اور بیرون ملک سپانسرز سے مالی مدد لیتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ سپانسر اپنی بات کو آگے بڑھانے کو پیش نظر رکھتے ہیں لیکن ایسا بھی نہیں کہ وہ ساری ہی اپنی بات منواتے ہوں اور اپنا موقف آگے بڑھاتے ہوں۔ دوسرا نقطہ جو ان کے خلاف استعمال ہوتا ہے وہ یہ کہ سپانسرز سے ملنے والے فنڈز کا ایک بڑا حصہ بہت اچھے مشاہروں اور آسائشیں پانے میں خرچ کیا جاتا ہے۔ سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں این جی اوز کے کرتا دھرتاؤں کی زندگی کا معیار تبدیل ہوتے دیکھا جانا اب کوئی اچنبھا نہیں رہا۔ سپانسرز بھی اس باعنوان بدعنوانی سے متعلق جانتے ہیں مگر آنکھیں بند رکھتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ تو ہو ہی رہا ہے۔ کچھ ایسے بھی مغربی سپانسرز ہیں جنہوں نے انقلابیوں کے جوش کو کم کرنے کی خاطر انہیں اپنے سایہ عاطفت میں لیا تھا۔
اصلاحات کا کام اجتماعی طور پر کسی تنظیم بلکہ بہت سی تنظیموں کے تحت ہی ہو سکتا ہے۔ ایسی تنظیمیں غیر سرکاری یعنی این جی اوز بھی ہو سکتی ہیں اور سرکاری بھی۔ فلاحی بھی ہو سکتی ہیں رفاحی بھی مگر اصلاحات کا اصل کام انفرادی سطح پر ہوتا ہے۔ نشاۃ ثانیہ لانے والے کسی تنظیم کا حصہ نہیں تھے بلکہ ان کی سوچ اور ان کے اعمال نے لوگوں کو بہت سے معاشرتی معاملات میں اپنی روش تبدیل کرنے کی جانب مائل کیا تھا۔
اس وقت ہم دو مسائل بلکہ دو مصائب کا شکار ہیں۔ ایک تو یہ کہ زندگی بذات خود اور معلومات کی ترسیل اور فراہمی بہت زیادہ تیز ہو چکی ہے۔ اوّل تو ملک میں تھنک ٹینکس ہیں ہی نہیں جو ایک آدھ ہیں بھی وہ طاقت یا اقتدار کے اداروں کے زیر سایہ ہیں۔ ان سے استفادہ کرنے والوں کا ایک محدود حلقہ ہے جو اشرافیہ کہلاتا ہے اور جنہیں بحیثیت مجموعی کسی بھی نوع کی اصلاحات بشمول معاشی و معاشرتی درکار نہیں ہیں۔ دوسرا مسئلہ یا مصیبت یہ ہے کہ ہمارے ہاں دانشور گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں جو ایک عمومی اور بے ضرر عمل ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ ہر دانشور اپنی ذات میں ایک گروہ ہے۔ کچھ بہت صریع الخواہش ہیں۔ ہر شے کو تہس نہس کرکے نیا معاشرہ استوار کرنا چاہتے ہیں۔ چوراہوں میں مقتل بنانا چاہتے ہیں اور اچھے لوگوں کو "یک لخت" سامنے لائے جانے کے خواستگار ہیں۔ دوسرے فطرت کے اصولوں پر تکیہ کرنے والے ہیں کہ جب ہوگا جو بھی ہوگا وہ پہلے سے بہتر ہوگا۔
ایسے میں بنیاد پرست اسلامی انقلابی لوگ بلکہ تنظیمیں ہیں بالخصوص داعش اور اس سے ملحقہ تنظیمیں، جن کی سوچ باہمی اور اجتماعی ہے۔ وہ فوری طور پر سب کچھ بدل دینے کا تجربہ رکھتے ہیں چاہے باقیوں کو کتنی ہی زیادہ تکلیف کیوں نہ ہو۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم بہت زیادہ رابطوں میں رہیں، دور ہوتے ہوئے بھی تھنک ٹینکس ترتیب دیں، آج سوشل میڈیا میسّر ہے، سب کے لیے بہتر، انسانی، غیر متشدد، آسائش بخش سوچ کو جتنا زیادہ نشر کیا جائے اتنا بہتر ہوگا۔

