Khirki Ke Us Paar
کھڑکی کے اس پار

ہسپتال کے تیسرے فلور پر واقع وہ کھڑکی محض ایک کھلا دریچہ نہیں تھی، وہ ایک ماں کی پوری دنیا تھی۔ اس کھڑکی کے ساتھ لگے بیڈ پر لیٹی عورت اکثر خاموشی سے باہر دیکھتی رہتی۔ نیچے بہتا دریا وقت کی طرح بے پرواہ تھا اور سامنے کھڑے بنجر پہاڑ کسی ماں کے ضبط اور تنہائی کی علامت، سخت، خاموش اور صابر۔
وہ کئی دنوں سے ہسپتال میں داخل تھی۔ بیماری آہستہ آہستہ اس کے جسم کو کمزور کر رہی تھی، مگر اس کے چہرے پر درد کی شدت کم اور فکر کی گہرائی زیادہ نمایاں تھی۔ ڈاکٹر آتے، نبض دیکھتے، فائل میں چند سطریں لکھتے اور آگے بڑھ جاتے۔ ان کے لیے یہ ایک مریضہ تھی، مگر حقیقت میں وہ ایک ماں تھی، جس کی سب سے بڑی بیماری اس کا اپنا نہیں، بلکہ اس کے بیٹے کا مستقبل تھا۔
اس کا بیٹا بے روزگار تھا۔ پڑھا لکھا، باصلاحیت، مگر حالات کے تھپیڑوں میں گھرا ہوا۔ ماں جب بھی آنکھیں بند کرتی، اسے اپنا بیٹا زندگی کی دھوپ میں اکیلا کھڑا نظر آتا۔ اسے اپنی سانسوں کے ٹوٹنے کا خوف نہیں تھا، مگر اس بات نے اسے اندر سے توڑ رکھا تھا کہ اگر وہ نہ رہی تو اس کے بیٹے کا سہارا کون بنے گا۔
وہ کبھی دیر تک دریا کو دیکھتی، جیسے اپنی دعائیں اس کے بہاؤ کے سپرد کر رہی ہو اور کبھی بنجر پہاڑوں پر نظریں جما دیتی۔ اس کے دل میں ایک ہی خیال گردش کرتا رہتا: اگر ان پہاڑوں پر درخت اُگ آئیں تو منظر بدل جائے اور اگر میرے بیٹے کی زندگی میں روزگار آ جائے تو سب کچھ سنور جائے۔
اس کی نظریں اکثر وارڈ کے دروازے پر ٹک جاتیں۔ جیسے ہی دروازہ کھلتا، دل دھڑک اٹھتا۔ پھر وہ آیا، اس کا بیٹا۔
اسے دیکھتے ہی ماں کے چہرے پر ایسی روشنی پھیل گئی جو مہنگی دوائیں بھی پیدا نہ کر سکیں۔ بیماری لمحہ بھر کو پیچھے ہٹ گئی اور ماں پوری کی پوری جاگ اُٹھی۔
"آ گئے میرے بچے؟"
کمزور آواز میں پوچھا، مگر لہجے میں وہ محبت تھی جو صرف ماں کی آواز میں ہوتی ہے۔
بیٹے نے حال پوچھا۔
ماں نے ہمیشہ کی طرح سچ چھپا لیا۔
"اب کافی بہتر ہوں، ڈاکٹر کہہ رہے ہیں شاید کل گھر بھیج دیں"۔
وہ جانتی تھی کہ یہ مکمل سچ نہیں، مگر ماں کا کام اولاد کو حوصلہ دینا ہوتا ہے، سچ بتا کر ڈرانا نہیں۔
کچھ دیر بعد اس نے کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہا۔
"دیکھو بیٹا، یہ پہاڑ کتنے ویران ہیں۔ اگر ان پر درخت ہوتے تو کتنا خوبصورت منظر ہوتا"۔
ایک لمحے کا وقفہ آیا، پھر دل کی بات زبان پر آ گئی۔
"بالکل تمہاری زندگی کی طرح، سب کچھ ہے، بس ایک سایہ چاہیے"۔
بیٹا خاموش ہوگیا۔
ماں نے فوراً بات بدلنے کی کوشش کی، مگر آنکھوں میں چھپی فکر چھپ نہ سکی۔
"بیٹا، ہمت نہ ہارنا۔ اللہ دیر کرتا ہے، اندھیر نہیں۔ اگر میں نہ بھی رہوں"۔
"اماں، ایسی باتیں نہ کریں"، بیٹے نے فوراً بات کاٹ دی۔
ماں مسکرا دی، وہ مسکراہٹ جس میں صدیوں کا صبر شامل تھا۔
اس دن رشتہ داروں کی آمد سے وارڈ بھر گیا۔ دعائیں، تسلیاں، رسمی جملے، سب کچھ تھا۔ ماں خوش تھی کہ سب آئے، مگر اس کی نظریں بار بار اپنے بیٹے کو تلاش کرتی رہیں۔ شام کو جب پورا خاندان آیا تو اس کی آنکھیں نم ہوگئیں، شاید دل ہی دل میں سب کو آخری بار دیکھ رہی تھی۔
رات گئے بیٹے نے آہستہ سے کہا۔
"اماں، میں گھر جا رہا ہوں۔ صبح جلدی آؤں گا"۔
ماں نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
"جاؤ، مگر گھر پہنچ کر فون کرنا اور بیٹا، خود کو کمزور نہ سمجھنا۔ تم اکیلے نہیں ہو"۔
یہ ان کی آخری گفتگو تھی، مگر دونوں کو اس کا علم نہ تھا۔
فجر کے وقت موبائل فون کی گھنٹی نے بیٹے کی دنیا بدل دی۔ دوسری طرف کی آواز میں ایسی سنجیدگی تھی جو کسی بھی دل کو دہلا دے۔ بائیک پر ہسپتال پہنچتے ہی اس کی سانسیں رک سی گئیں۔
ماں خاموش لیٹی تھی۔
چہرے پر عجیب سا سکون تھا، جیسے سب فکریں ختم ہو چکی ہوں۔
اور نظریں۔
اب بھی کھڑکی کے اس پار تھیں۔
صبح کے اجالے میں بنجر پہاڑ ایسے دکھائی دے رہے تھے جیسے ان پر سبز درختوں کی چادر بچھ گئی ہو اور دریا غیر معمولی ٹھہراؤ کے ساتھ بہہ رہا تھا، جیسے ماں کی دعاؤں کو اپنے اندر سمیٹ رہا ہو۔
بیٹے نے کھڑکی سے باہر دیکھا، پھر ماں کے چہرے کی طرف۔
وہ ٹوٹ کر رو پڑا۔
ماں کی زندگی شاید ختم ہوگئی تھی، مگر اس کی فکر زندہ تھی۔
وہ ماں مر کر بھی اپنے بیٹے کے مستقبل کی رکھوالی کر گئی۔
کیونکہ ماں کبھی مرتی نہیں۔
وہ دعا بن کر اولاد کے ساتھ چلتی ہے۔

