Sunday, 15 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Iqbal Bijar
  4. Hunar, Mehnat Aur Sarparasti Ke Beech Hammad Sagheer Rawat Ki Kahani

Hunar, Mehnat Aur Sarparasti Ke Beech Hammad Sagheer Rawat Ki Kahani

ہنر، محنت اور سرپرستی کے بیچ حماد صغیر راوٹ کی کہانی

گلگت بلتستان کے پہاڑ صرف برف اور خوبصورتی کے لیے مشہور نہیں، یہاں کے نوجوانوں کی صلاحیتیں بھی کسی سے کم نہیں۔ انہی نوجوانوں میں ایک نام نمایاں ہے: حماد صغیر راوٹ۔ گلگت سپر اسٹار کے سابق کپتان اور نیشنل سطح پر گلگت بلتستان کی نمائندگی کرنے والے حماد نے نہ صرف میدان میں اپنی مہارت کا لوہا منوایا بلکہ کئی اہم میچ اپنی ٹیم کے نام کرکے فٹبال کے شائقین میں عزت و شہرت حاصل کی۔ ان کے کھیل کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی رفتار، اعتماد، گول کرنے کی مہارت اور ٹیم ورک ہے، جس کی وجہ سے وہ مخالف ٹیموں کے لیے ہر میچ میں خطرہ بن جاتے ہیں۔

حال ہی میں ایچ ایف سی این اے کے زیر اہتمام ہونے والے ٹورنامنٹ میں این ایل آئی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے حماد نے اپنی شاندار کارکردگی سے ٹیم کو فائنل جتوایا۔ اس کے کھیل کے دوران نہ صرف ان کی تکنیک اور اسٹریٹجی کی داد دی گئی بلکہ شائقین نے انہیں "گلگت کا سپر اسٹار" قرار دیا۔ تجربہ کار کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ حماد کی ٹریننگ کی لگن اور میچ میں دباؤ کو قابو پانے کی صلاحیت اسے دیگر کھلاڑیوں سے الگ کرتی ہے۔

لیکن کھیل کے میدان سے باہر کی زندگی آسان نہیں۔ حماد گھر کے بڑے بیٹے ہیں اور خاندان کی مالی ذمہ داریاں ان کے کندھوں پر ہیں۔ صبح کی ٹریننگ کے بعد وہ ایک نجی کولڈ ڈرنکس ایجنسی میں کام کرتے ہیں تاکہ گھر کا چولہا جلتا رہے۔ کھیل کا جذبہ اپنی جگہ، مگر معاشی دباؤ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسے نوجوان کو صرف تماشائیوں کی داد تک محدود رہنے دینا چاہیے؟

این ایل آئی رجمنٹ، جو پاک فوج کا معتبر ادارہ ہے، کھیلوں کی سرپرستی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ اس کی پولو ٹیم ملک بھر میں جانی جاتی ہے اور کھلاڑی باقاعدہ ملازمتوں پر ہیں۔ اگر پولو کے لیے یہ ماڈل کامیاب ہے تو فٹبال کے باصلاحیت نوجوان کے لیے کیوں نہیں؟ حماد جیسے کھلاڑی نہ صرف کھیل میں نمایاں ہیں بلکہ نوجوانوں کے لیے تحریک اور مثال بھی ہیں۔

فٹبال عالمی سطح پر سب سے زیادہ کھیلا جانے والا کھیل ہے اور پاکستان میں اس کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، خاص طور پر شمالی علاقوں میں۔ اگر ایک نوجوان محدود وسائل کے باوجود این ایل آئی کی نمائندگی کرتے ہوئے ٹورنامنٹ جتوا سکتا ہے تو تصور کیجیے کہ اگر اسے مالی استحکام، مستقل ملازمت اور باقاعدہ سہولیات مل جائیں تو وہ کس حد تک ملک کا نام روشن کر سکتا ہے۔

یہ محض ایک فرد کی بات نہیں بلکہ ایک سوچ کا امتحان ہے۔ اگر ریاستی اور فوجی ادارے مقامی ٹیلنٹ کو روزگار اور سہارا دیں، تو نوجوان دوہری جدوجہد سے آزاد ہو کر کھیل پر مکمل توجہ دے سکیں گے۔ اس سے نہ صرف انفرادی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ قومی سطح پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

سوشل میڈیا آج رائے عامہ کی طاقت بن چکا ہے۔ حکومت، متعلقہ اسپورٹس حکام اور این ایل آئی رجمنٹ کو چاہیے کہ وہ اس جانب توجہ دیں اور حماد صغیر راوٹ جیسے نوجوان کو ادارہ جاتی تحفظ فراہم کریں۔ ایک سرکاری ملازمت اس کے لیے محض روزگار نہیں بلکہ اس کے خوابوں کو حقیقت بنانے کا موقع ہوگی۔

آج اگر ہم حماد صغیر راوٹ جیسے باصلاحیت نوجوان کی قدر کریں، انہیں سہارا دیں اور مالی دباؤ سے آزاد کریں، تو کل یہ نوجوان نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے ملک کے لیے فخر اور مثال بنیں گے۔ ہنر، محنت اور جذبے کی قدر اسی وقت بڑھتی ہے جب اسے حقیقی سہارا ملے۔

حماد صغیر راوٹ صرف ایک کھلاڑی نہیں، بلکہ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے لیے امید، محنت اور جذبے کی علامت ہیں۔ اگر ہم انہیں مواقع دیں تو یہی نوجوان ملک کا نام روشن کرنے اور نئے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم ہنر کی قدر کریں اور اسے ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبنے نہ دیں۔

Check Also

Islah Ka Mahina

By Mushtaq Ur Rahman Zahid