Tuesday, 13 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Iqbal Bijar
  4. Halal Khud Kushi

Halal Khud Kushi

حلال خودکشی

وہ آدمی ہار ماننے والوں میں شامل نہیں تھا، مگر اس کی زندگی نے اسے کبھی جیتنے والوں میں شمار ہی نہیں کیا۔ اس نے محنت کو عبادت کی طرح نبھایا، صبر کو اپنی عادت بنایا اور انتظار کو روزمرہ کا معمول سمجھ لیا۔ وہ ہر ناکامی کے بعد خود کو یہی دلاسہ دیتا رہا کہ شاید اگلی کوشش فیصلہ بدل دے، شاید وقت کو ترس آ جائے۔ مگر وقت بے حس نکلا اور ترس صرف لفظوں میں رہ گیا۔

اس کا کمرہ اس کی زندگی کی طرح تنگ اور خاموش تھا۔ دیواریں کچھ کہتیں نہیں تھیں مگر سب کچھ سن لیتی تھیں۔ پنکھا گھومتا رہتا، بالکل وقت کی طرح، نہ رکنے والا، نہ پلٹنے والا۔ وہ اکثر اکیلا بیٹھ کر سگریٹ سلگاتا، ایک لمبا کش لیتا اور دھوئیں کو غور سے دیکھتا رہتا۔ دھواں کبھی سیدھا اوپر جاتا، کبھی بکھر کر چھت میں گم ہو جاتا۔ وہ سوچتا کہ اس کے خواب بھی کچھ ایسے ہی تھے، نہ مکمل، نہ واضح، بس ہوا میں تحلیل ہوتے ہوئے۔

ہر کش کے ساتھ وہ اپنی زندگی کا کوئی پرانا منظر یاد کرتا: وہ دن جب امید تازہ تھی، وہ راتیں جب آنکھوں میں نیند سے زیادہ خواب تھے اور وہ لمحے جب اسے یقین تھا کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ مگر اب محنت اس کے ہاتھوں میں نہیں، اس کے چہرے پر لکھی ہوئی تھی۔ انگلیوں میں جلتی ہوئی سگریٹ اسے درد نہیں دیتی تھی، کیونکہ بعض اوقات انسان اس حد تک ٹوٹ جاتا ہے کہ درد بھی اس سے راستہ بدل لیتا ہے۔ جسم موجود ہوتا ہے، مگر روح کب کی پرواز کر چکی ہوتی ہے۔

وہ کئی بار خود سے سوال کرتا کہ آخر اس کی غلطی کہاں تھی۔ کیا اس نے کم محنت کی؟ کیا اس نے غلط خواب دیکھے؟ یا جرم صرف یہ تھا کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں پیدا ہوا جہاں سب کے لیے مواقع برابر نہیں ہوتے؟ جواب کہیں نہیں ملتا تھا، بس خاموشی تھی اور خاموشی کبھی کبھی سب سے سخت جواب ہوتی ہے۔

ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب اس نے سوچا کہ شاید اب سب ختم ہو جانا چاہیے، شاید یہ مسلسل ہار اب کسی انجام تک پہنچے۔ اس نے سر دیوار سے ٹکا لیا، آنکھیں بند کیں اور ایک کش اور لیا۔ مگر قسمت نے یہاں بھی اس کا ساتھ نہ دیا۔ وہ نہ مکمل طور پر ٹوٹ سکا، نہ مکمل طور پر نکل سکا۔ یوں وہ ایک بار پھر ناکام ہوا، حتیٰ کہ ہار ماننے میں بھی۔

یہی اس کی حلال خودکشی تھی۔ بغیر شور کے، بغیر خبر بنے، روز تھوڑا تھوڑا مر جانا۔ معاشرے کی بے حسی، نظام کی سرد مہری اور قسمت کی ضد نے اسے آہستہ آہستہ ختم کیا اور ہم سب نے اسے معمول سمجھ لیا۔ وہ چیخا نہیں، اس نے الزام نہیں لگایا، وہ بس سگریٹ سلگاتا رہا اور دھوئیں میں خود کو گھلتا دیکھتا رہا۔

اصل سوال یہ نہیں کہ وہ کیوں ہارا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایسے کتنے لوگ ہیں جو ہمارے درمیان روز مر رہے ہیں اور ہم انہیں صرف اس لیے نہیں دیکھتے کہ ان کی موت خاموش ہوتی ہے، بالکل حلال۔ آخر میں وہ کسی انجام تک نہیں پہنچا، بس تھک کر خاموش ہوگیا۔ اس کی شکست کسی خبر کا عنوان نہ بنی، اس کی آنکھوں کی نمی کسی بحث کا موضوع نہ ہوئی۔ وہ ہمارے درمیان رہا، مگر گنا نہ گیا، جیتا رہا، مگر مانا نہ گیا۔ اس نے چیخنے کے بجائے جلنا سیکھ لیا، سوال کرنے کے بجائے دھواں بننا قبول کیا۔ ہم نے اس کی خاموشی کو صبر سمجھ لیا اور اس کے جلنے کو کمزوری۔ یوں وہ روز مرتا رہا، ہماری نظروں کے سامنے اور ہم نے اپنے ضمیر کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیا کہ اس نے خود کچھ نہیں کہا۔ یہی سب سے بڑی بے رحمی ہے: وہ مر گیا، مگر کسی کے قاتل کا نام درج نہ ہوا۔ یہ موت نہ حرام کہلائی، نہ حلال، بس قبول کر لی گئی۔

Check Also

Rauf Klasra Jaisa Main Ne Inhen Dekha

By Amir Khakwani