Thursday, 12 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Iqbal Bijar
  4. Gilgit Shehar: Daawon Ki Taraqi Aur Awam Ki Mehroomian

Gilgit Shehar: Daawon Ki Taraqi Aur Awam Ki Mehroomian

گلگت شہر: دعوؤں کی ترقی اور عوام کی محرومیاں

گلگت شہر ایک بار پھر سردیوں کی شدت کے ساتھ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔ بائیس گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ نے معمولاتِ زندگی مفلوج کر دیے ہیں۔ گھریلو صارفین سے لے کر کاروباری طبقے تک ہر کوئی متاثر ہے۔ تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، بیمار اور بزرگ شدید مشکلات سے دوچار ہیں، جبکہ چھوٹے کاروبار اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ صورتحال کسی ایک دن یا ایک ہفتے کی نہیں، بلکہ برسوں سے دہرایا جانے والا منظر ہے۔

حکومتیں بدلتی رہیں، ترجیحات کے دعوے بھی بدلتے رہے، مگر بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔ ہر دور میں ترقیاتی منصوبوں کی فہرست پیش کی گئی، سڑکوں اور عمارتوں کے افتتاح ہوئے، مگر شہر کی گلیاں اور مرکزی شاہراہیں آج بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ بارش اور برف باری کے بعد گڑھے مزید گہرے ہو جاتے ہیں اور شہریوں کے لیے سفر اذیت بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ترقی کے دعوؤں کا فائدہ عام آدمی تک کیوں نہیں پہنچا؟

پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ متعدد علاقوں میں پانی کی قلت اور معیار دونوں پر اعتراضات سامنے آتے رہتے ہیں۔ شہری یا تو فلٹریشن پلانٹس پر انحصار کرتے ہیں یا مہنگے داموں ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں۔ صحت کے ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ آلودہ پانی مختلف بیماریوں کا سبب بنتا ہے، مگر مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہو سکا۔

تعلیم کا شعبہ بھی توجہ کا متقاضی ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات کا فقدان اور انفراسٹرکچر کی زبوں حالی والدین اور طلبہ دونوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اعلیٰ تعلیم اور فنی تربیت کے مواقع محدود ہیں، جس کے باعث نوجوانوں کی بڑی تعداد بہتر مستقبل کی تلاش میں دوسرے شہروں کا رخ کرتی ہے۔ بے روزگاری کا مسئلہ اسی تناظر میں مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ ڈگری یافتہ نوجوان مواقع نہ ملنے پر مایوسی کا شکار ہیں۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ صوبے کا وزیر اعلیٰ اکثر گلگت شہر سے منتخب ہوتا ہے۔ اس کے باوجود گلگت کے شہری بنیادی سہولیات سے محروم کیوں ہیں؟ یہ سوال سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر انتظامی کارکردگی کا جائزہ لینے کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر اقتدار کا مرکز یہی شہر ہے تو سہولیات کی فراہمی میں بھی اسے ترجیح ملنی چاہیے تھی۔

حکومتی مؤقف عموماً وسائل کی کمی، جغرافیائی مشکلات اور موسمی چیلنجز پر مبنی ہوتا ہے۔ ان حقائق سے انکار ممکن نہیں، تاہم شہری یہ جاننا چاہتے ہیں کہ دستیاب وسائل کا استعمال کس حد تک مؤثر اور منصفانہ رہا۔ کیا منصوبہ بندی میں بجلی، پانی، سڑک اور تعلیم کو اولین ترجیح دی گئی؟ کیا نگرانی اور احتساب کا نظام فعال رہا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے واضح جوابات درکار ہیں۔

دو ماہ بعد انتخابات متوقع ہیں۔ سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، انتخابی منشور پیش کیے جائیں گے اور ترقی کے اعداد و شمار بیان کیے جائیں گے۔ تاہم ووٹر کے لیے اصل پیمانہ زمینی حقائق ہیں۔ اگر روزمرہ زندگی کے بنیادی مسائل برقرار ہیں تو محض اعلانات اور تقاریر عوام کو مطمئن نہیں کر سکتیں۔

اس مرحلے پر ضرورت اس امر کی ہے کہ شہری اپنے ووٹ کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں اور نمائندوں سے قابلِ عمل منصوبہ طلب کریں۔ بجلی کی مستقل فراہمی کے لیے جامع حکمتِ عملی کیا ہے؟ پانی کے منصوبوں کی تکمیل کی مدت کیا ہوگی؟ سڑکوں کی بحالی اور تعلیم کے معیار میں بہتری کے لیے کون سے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے؟ بے روزگار نوجوانوں کے لیے مواقع کیسے پیدا کیے جائیں گے؟ انتخابی عمل اسی وقت بامعنی ہوگا جب یہ سوالات مرکزی حیثیت اختیار کریں گے۔

گلگت کے عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ روایتی نعروں پر اعتماد کریں یا کارکردگی کی بنیاد پر اپنا انتخاب کریں۔ جمہوریت میں احتساب کا سب سے مؤثر ذریعہ ووٹ ہے۔ اگر عوام اپنے مسائل کو ترجیح بنائیں گے تو سیاسی قوتیں بھی اپنی حکمتِ عملی اسی کے مطابق ترتیب دینے پر مجبور ہوں گی۔

انتخابات قریب ہیں۔ وقت ہے کہ دعوؤں اور حقائق کا تقابل کیا جائے اور مستقبل کا فیصلہ زمینی سچائیوں کی روشنی میں کیا جائے۔ کیونکہ شہریوں کی بنیادی سہولیات ہی کسی بھی حکومت کی اصل کارکردگی کا معیار ہوتی ہیں۔

Check Also

Zikr Aik Eham Shakhsiyat Ki Bimari Ka

By Nusrat Javed