Thursday, 12 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Iqbal Bijar
  4. Gilgit Baltistan Mein Bijli Ka Bohran

Gilgit Baltistan Mein Bijli Ka Bohran

گلگت بلتستان میں بجلی کا بحران

گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے۔ یہاں کے برف پوش پہاڑ، بہتے دریا اور سال کے بیشتر حصے میں دستیاب دھوپ اس امر کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں کہ یہ علاقہ توانائی کے میدان میں خود کفیل ہو سکتا ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ آج گلگت بلتستان شدید بجلی بحران کا شکار ہے اور لوڈشیڈنگ یہاں ایک وقتی مسئلہ نہیں بلکہ مستقل اور سنگین صورت اختیار کر چکی ہے۔

سرکاری و غیر سرکاری اندازوں کے مطابق گلگت بلتستان میں بجلی کی مجموعی طلب اس وقت تقریباً 200 سے 250 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ دستیاب پیداوار 120 سے 130 میگاواٹ کے درمیان رہتی ہے۔ سردیوں کے موسم میں صورتحال مزید ابتر ہو جاتی ہے، کیونکہ پن بجلی گھروں میں پانی کے بہاؤ میں کمی کے باعث پیداوار گھٹ کر 90 میگاواٹ تک آ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گلگت، سکردو اور دیگر اضلاع میں روزانہ 18 سے 22 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے، جبکہ بعض علاقوں میں عوام کو دن بھر میں صرف ایک یا دو گھنٹے بجلی میسر آتی ہے۔

گلگت بلتستان میں بجلی کی پیداوار کا بنیادی ذریعہ پن بجلی ہے، مگر بدقسمتی سے اس شعبے میں بروقت اور مؤثر منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ کئی منصوبے یا تو تاخیر کا شکار رہے یا کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گئے۔ موجودہ چھوٹے پن بجلی گھروں کی اکثریت موسمی اثرات کی وجہ سے سال بھر پوری استعداد سے کام نہیں کر پاتی، جس کے باعث بجلی کا نظام کمزور ہوتا چلا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کا قومی گرڈ سے منسلک نہ ہونا بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے، جس کی وجہ سے یہاں کسی متبادل نظام سے فائدہ اٹھانے کا امکان موجود نہیں۔

دوسری جانب سولر توانائی گلگت بلتستان کے لیے ایک قدرتی نعمت ہے۔ یہاں سال کے بیشتر دن دھوپ دستیاب ہوتی ہے، مگر اس وسیع صلاحیت کے باوجود اس شعبے میں پیش رفت انتہائی سست ہے۔ حکومت کی جانب سے 100 میگاواٹ کے سولر پاور منصوبے کا اعلان یقیناً ایک مثبت قدم ہے، تاہم عوام اس وقت تک مطمئن نہیں ہوں گے جب تک یہ منصوبہ عملی طور پر مکمل ہو کر بجلی کے نظام میں شامل نہیں ہو جاتا۔ عارضی طور پر ڈیزل جنریٹرز پر انحصار کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف مہنگا ذریعہ ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا باعث بھی بن رہا ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ گلگت بلتستان کا بجلی بحران محض وسائل کی کمی کا مسئلہ نہیں بلکہ ناقص منصوبہ بندی اور کمزور انتظامی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ بجلی کی قلت نے عوامی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ تعلیمی ادارے، ہسپتال، کاروبار اور گھریلو زندگی سب اس بحران کی زد میں ہیں۔ سرد موسم میں بجلی کی عدم دستیابی عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنتی ہے، جس سے مایوسی اور بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اگر مستقبل کی طرف دیکھا جائے تو لوڈشیڈنگ سے نجات ناممکن نہیں، مگر اس کے لیے وقتی اقدامات کے بجائے دیرپا اور سنجیدہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ پن بجلی کے بڑے اور درمیانے درجے کے منصوبوں کی تکمیل، سولر توانائی کو پالیسی کی سطح پر فروغ، دور دراز علاقوں میں آف گرڈ سولر اور مائیکرو ہائیڈرو سسٹمز کا قیام اور ترسیلی نظام کی بہتری ہی اس مسئلے کا مستقل حل ہیں۔ اگر توانائی کے شعبے کو ترجیح دی جائے تو گلگت بلتستان نہ صرف اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ مستقبل میں خود کو ایک توانائی دوست خطے کے طور پر بھی منوا سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کا بجلی بحران قدرتی وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کے غلط تعین کا نتیجہ ہے۔ اگر بروقت اور درست فیصلے نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے، لیکن اگر اب بھی سنجیدگی اور عملی اقدامات کا مظاہرہ کیا جائے تو اندھیرے کو روشنی میں بدلا جا سکتا ہے۔

Check Also

Wo Maa Jo Maa Na Rahi

By Javed Ayaz Khan