Darya, Haar Aur Insan
دریا، ہار اور انسان

یہ کہانی نہیں، یہ ہمارے معاشرے کا ایک خاموش کالم ہے۔ ایسا کالم جو روز ہمارے اردگرد لکھا جاتا ہے، مگر اخبار کے صفحے تک نہیں پہنچ پاتا۔ وہ شخص زندگی سے بھاگ نہیں رہا تھا، وہ زندگی کے بوجھ سے تھک چکا تھا۔ بھاگنے والے شور مچاتے ہیں، تھک جانے والے خاموش ہو جاتے ہیں۔ اسی خاموشی میں وہ شہر سے دور، دریا کے کنارے آ بیٹھا۔
نہ کسی پر الزام، نہ حالات سے شکوہ۔ اس نے اپنی ہار کو اپنی ہی کوتاہی مان لیا تھا۔ ہمارے ہاں یہی سب سے خطرناک موڑ ہوتا ہے، جب انسان ہر غلطی اپنے نام لکھ لیتا ہے اور دنیا کو بری الذمہ قرار دے دیتا ہے۔
درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر اس نے سگریٹ جلائی۔ دھواں اوپر اٹھتا رہا، جیسے کوئی بے آواز فریاد ہو جسے سننے والا کوئی نہیں۔ وہ دھوئیں کو غور سے دیکھتا رہا۔ شاید وہ خود کو بھی ایسے ہی تحلیل ہوتا دیکھ رہا تھا۔
سامنے دریا تھا۔ موجوں کا شور عجیب تھا۔ ایسا جیسے کوئی اپنی فتح کا اعلان کر رہا ہو۔ دریا کو انسان کی شکست سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ دریا ازل سے بے نیاز ہے، وہ نہ رکتا ہے، نہ پلٹ کر دیکھتا ہے۔
اس نے سگریٹ زمین پر پھینکی، پاؤں سے مسلی، دریا کے قریب آیا اور ایک گہری سانس لی۔ یہ سانس زندگی اور انجام کے درمیان کی لکیر تھی۔ پھر وہ کود گیا۔
دریا نے سوال نہیں کیا۔
فطرت سوال نہیں کرتی، صرف عمل کرتی ہے۔
موجیں اس کے جسم سے ٹکراتی رہیں، پھر آہستہ آہستہ اسے کنارے کی طرف دھکیلنے لگیں۔ جیسے تقدیر یہ جتانا چاہتی ہو کہ ہر فیصلہ انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا، بعض انجام خود لکھے جاتے ہیں۔
سورج کی پہلی کرن نمودار ہوئی۔ دریا کا شور اب اور تیز تھا۔ کنارے پر وہ شخص پڑا تھا۔ آنکھیں کھلی تھیں، آسمان کی طرف۔ شاید وہ خود کو آسمان کی طرف جاتا دیکھ رہا تھا، یا آسمان سے اپنے بے جان جسم کو۔
زمین اسے اب چھوٹی لگ رہی تھی۔
لوگ نظر نہیں آ رہے تھے۔
شاید اس لیے کہ ہم ہارے ہوئے انسان کو دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔
یہ واقعہ صرف ایک فرد کا نہیں، یہ ہمارے اجتماعی رویے کی تصویر ہے۔ ہم کامیابی کے نعروں میں جیتے ہیں، مگر ہارنے والوں کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا۔ ہم نصیحت تو فوراً دے دیتے ہیں، مگر سننے کی زحمت نہیں کرتے۔
ہم کہتے ہیں مضبوط بنو، صبر کرو، شکر کرو۔
ہم یہ نہیں پوچھتے کہ کب سے؟
سوال یہ نہیں کہ اس شخص نے کیا کیا۔
سوال یہ ہے کہ وہ یہاں تک کیوں پہنچا۔
دریا آج بھی بہہ رہا ہے۔
سورج آج بھی نکلتا ہے۔
مگر ہر وہ شخص جو خاموشی سے کنارے پر بیٹھا ہو، ضروری نہیں کہ وہ منظر سے لطف اندوز ہو رہا ہو۔ کچھ لوگ اپنی آخری ہمت کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
یہ کالم کسی فیصلے کے لیے نہیں، ایک یاد دہانی کے لیے ہے کہ زندگی کی سب سے خطرناک آواز چیخ نہیں، خاموشی ہوتی ہے اور اگر ہم نے وقت پر اس خاموشی کو نہ سنا، تو دریا تو بہتا رہے گا، مگر ایک انسان کم ہو جائے گا۔

