Thursday, 04 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Imran Ismail
  4. Aaj Ka Ustad Mutasir Kyun Nahi Karta?

Aaj Ka Ustad Mutasir Kyun Nahi Karta?

آج کا استاد متاثر کیوں نہیں کرتا؟

کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کے تعلیمی نظام اور بالخصوص اساتذہ کے معیار میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ استاد صرف ایک ملازم یا پیشہ ور فرد نہیں بلکہ نسلوں کا معمار ہوتا ہے۔ وہ بچوں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں علم کی روشنی پیدا کرتا ہے، ان کی سوچ کو سمت دیتا ہے اور ان کے کردار کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر کامیاب قوم نے اپنے اساتذہ کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ جب استاد مضبوط، باصلاحیت اور باکردار ہو تو قوم مضبوط ہوتی ہے، لیکن جب استاد اپنی اصل ذمہ داریوں سے دور ہو جائے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔

آج اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیا ہمارے اساتذہ پہلے کی طرح طلبہ کو متاثر کر رہے ہیں تو جواب زیادہ حوصلہ افزا نظر نہیں آتا۔ بہت سے طلبہ اپنے اساتذہ کو صرف ایک مضمون پڑھانے والے فرد کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ ماضی میں استاد ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا تھا۔ طلبہ اس کی گفتگو، لباس، اندازِ فکر، کردار اور طرزِ زندگی سے متاثر ہوتے تھے۔ استاد کا احترام صرف اس کے علم کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی شخصیت کی وجہ سے بھی کیا جاتا تھا۔

ماضی کے اساتذہ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس آج کی طرح جدید سہولیات، ایئر کنڈیشنڈ کلاس رومز، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی، لیکن ان کے اندر خلوص، لگن اور طلبہ کے لیے حقیقی محبت موجود تھی۔ وہ اپنے شاگردوں کو صرف امتحان پاس کروانے کے لیے نہیں پڑھاتے تھے بلکہ ان کی زندگی سنوارنے کے لیے محنت کرتے تھے۔ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ ان کے شاگرد اچھے انسان، ذمہ دار شہری اور مفید افراد بنیں۔ اسی لیے آج بھی لوگ اپنے پرانے اساتذہ کو عقیدت اور محبت سے یاد کرتے ہیں۔

اس کے برعکس آج کا دور بہت تیزی سے بدل رہا ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے میدان میں بے شمار ترقی ہو چکی ہے۔ دنیا بھر میں تدریس کے جدید طریقے متعارف ہو رہے ہیں۔ طلبہ کی نفسیات، دلچسپیوں اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی تکنیکیں استعمال کی جا رہی ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں اب بھی بہت سی کلاسوں میں روایتی اندازِ تدریس رائج ہے جہاں رٹے کو کامیابی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتاً طلبہ کی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتیں مطلوبہ حد تک پروان نہیں چڑھ پاتیں۔

آج کے استاد کی بعض کمزوریاں بھی اس صورتِ حال کی ذمہ دار ہیں۔ بہت سے اساتذہ اپنے مضمون پر تو دسترس رکھتے ہیں لیکن تدریس کے فن سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔ انہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ ہر طالب علم کی ذہنی سطح، دلچسپی اور سیکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ ایک ہی طریقہ تمام طلبہ کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہو سکتا۔ جدید تدریسی اصول اس بات پر زور دیتے ہیں کہ استاد طلبہ کی انفرادی ضروریات کو سمجھے اور ان کے مطابق تدریسی حکمت عملی اختیار کرے۔

ایک اہم مسئلہ کمیونیکیشن اسکلز کا بھی ہے۔ ایک اچھا استاد صرف علم رکھنے والا نہیں بلکہ علم کو مؤثر انداز میں منتقل کرنے والا بھی ہوتا ہے۔ اگر استاد کی گفتگو غیر مؤثر ہو، اس کا اندازِ بیان خشک ہو یا وہ طلبہ کی توجہ حاصل نہ کر سکے تو بہترین علم بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتا۔ اسی طرح پریزنٹیشن اسکلز اور باڈی لینگویج بھی تدریس میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ایک پُراعتماد اور متحرک استاد طلبہ کی دلچسپی برقرار رکھتا ہے جبکہ بے جان اندازِ تدریس کلاس روم کو بوریت کا شکار بنا دیتا ہے۔

استاد کی شخصیت بھی اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ طلبہ صرف استاد کی باتیں نہیں سنتے بلکہ اس کا مشاہدہ بھی کرتے ہیں۔ اس کا لباس، گفتگو، وقت کی پابندی، اخلاق اور رویہ سب کچھ طلبہ کے لیے ایک عملی مثال ہوتا ہے۔ اگر استاد خود نظم و ضبط، شائستگی اور مثبت رویے کا مظاہرہ نہ کرے تو وہ طلبہ کو یہ صفات سکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ عظیم اساتذہ اپنے کردار کے ذریعے تعلیم دیتے ہیں۔

ایک اور مسئلہ اساتذہ کی تقرری کا ہے۔ اکثر تعلیمی اداروں میں امیدوار کی تدریسی صلاحیت کے بجائے اس کی ڈگریوں اور تحقیقی کام کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ بلاشبہ تحقیق اہم ہے، لیکن ایک اچھا محقق لازماً اچھا استاد نہیں ہوتا۔ تدریس ایک الگ فن ہے جس کے لیے صبر، ابلاغ کی مہارت، نفسیاتی فہم اور طلبہ کے ساتھ مثبت تعلق قائم کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ اگر ان پہلوؤں کو نظر انداز کیا جائے تو کلاس روم میں مسائل پیدا ہوتے ہیں اور طلبہ کا نقصان ہوتا ہے۔

اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں اساتذہ کو مسلسل تربیتی پروگراموں سے گزارا جاتا ہے تاکہ وہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنی مہارتوں کو بہتر بنا سکیں۔ ہمارے ہاں بھی اساتذہ کے لیے باقاعدہ اور مستقل تربیتی نظام کی ضرورت ہے۔ ان پروگراموں میں جدید تدریسی طریقوں کے ساتھ ساتھ شخصیت سازی، قیادت، طلبہ کی رہنمائی، تخلیقی سوچ کو فروغ دینے اور مؤثر ابلاغ کی تربیت شامل ہونی چاہیے۔

اس تمام صورتِ حال میں صرف اساتذہ کو ذمہ دار قرار دینا بھی درست نہیں۔ معاشرے نے بھی استاد کی عزت اور مقام میں کمی پیدا کی ہے۔ ایک وقت تھا جب استاد کو غیر معمولی احترام حاصل تھا۔ والدین اور معاشرہ استاد کی بات کو اہمیت دیتے تھے، لیکن آج حالات مختلف ہیں۔ جب کسی پیشے کو وہ عزت نہ ملے جس کا وہ حق دار ہو تو اس کے اثرات اس شعبے سے وابستہ افراد پر بھی پڑتے ہیں۔ اس لیے استاد کے وقار کی بحالی بھی ضروری ہے۔

میرے نزدیک ایک کامیاب استاد کے لیے تین چیزیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں: علم، قابلیت اور رویہ۔ علم اسے رہنمائی دیتا ہے، قابلیت اسے مؤثر بناتی ہے اور مثبت رویہ اسے طلبہ کے دلوں میں جگہ دلاتا ہے۔ اگر استاد ان تینوں پہلوؤں پر توجہ دے تو وہ نہ صرف ایک اچھا معلم بلکہ ایک بہترین رہنما بھی بن سکتا ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تدریس کو محض روزگار کا ذریعہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے ایک قومی ذمہ داری اور مشن کے طور پر اختیار کیا جائے۔ اساتذہ کو مسلسل سیکھنے، خود کو بہتر بنانے اور نئی نسل کی حقیقی تربیت پر توجہ دینی ہوگی۔ جب استاد اپنے کردار، علم اور صلاحیتوں کے ذریعے طلبہ کو متاثر کرے گا تو وہی طلبہ آگے چل کر معاشرے میں مثبت تبدیلی کا سبب بنیں گے۔ ایک اچھا استاد صرف ایک کلاس نہیں بدلتا، وہ پوری نسل کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنے اور اپنانے کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

Check Also

IMF Ke Masahib Ban Kar Itraate Hamare Wazir e Khazana

By Nusrat Javed