Saturday, 20 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Iffat Navaid
  4. Mere Papa

Mere Papa

میرے پاپا

ہمیں گھر کے کام کرنا کبھی پسند نہیں رہا، ان سے بچنے کے لیے کمرے میں کتابوں میں منہ دیے رہتے۔ اس چکر میں سیکنڈ ائر میں پوزیشن آ گئی۔ بچپن سے ہی اعلان کر رکھا تھا کہ وکیل بننا ہے۔ سو پاپا، جنہیں بیٹے اچھے لگتے تھے۔ اب ہمارے اندر انہوں نے ایک مرد مار قسم کی لڑکی دیکھی تو شوق کو بڑھاوا دینے کے لیے سر گرمِ عمل ہو گئے۔ ان کی خصوصی توجہ ملی تو پڑھائی کی طرف شوق مزید بڑھا۔ ادھر باجی کا رشتہ طے پا گیا۔ رخصتی والے دن پاپا رخصتی کے گانوں کی کیسٹ حفظ ماتقدم کے طور پر لے آئے، کہ گانوں کے بول کو دھیان میں رکھ کر آنسوؤں کی جھڑی میں دلہن کو رخصت کر دیا جائے۔ رخصتی کا وقت قریب آیا تو پاپا نے کسی لڑکے سے کہا کہ "بابل کی دعائیں لیتی جا" والا گانا لگا دے۔

پاپا کے ہونٹ کپکپائے، فل جذباتی موڈ میں باجی کے قریب آئے۔ گانا بجا۔ "بریلی کے بازار میں جھمکا گرا رے"۔ پاپا کو جیسے کرنٹ لگا، چہرے کے تاثرات، غصے میں تبدیل ہوئے۔

ببلی، گرتی، پڑتی، "بابل کی دعائیں، بابل کی دعائیں" کہتی، ریکارڈر والے کے پاس پہنچی۔ اس کے پیچھے پیچھے ہم دوڑے، ہم نے جاتے ہی ٹیپ ریکارڈ پر ہاتھ مار کر لتاجی کو خاموش کیا اور انہیں مطلوبہ گانا بجانے کو کہا۔ اداس میوزک فضا میں گونجا، پھر محمد رفیع کی گداز آواز لہرائی "بابل کی دعائیں لیتی جا" پاپا کا ٹیک دوبارہ شروع ہوا۔ مگر اب آنکھ میں ایک آنسو نہیں۔ انہوں نے اپنی آنکھیں بھینچتے ہوئے باجی کو سینے سے لگایا یہ شاید گانے کا ہی اثر تھا، کہ ان کے علاؤہ سب رو رہے تھے۔

اگر ہم گانے کے بول پر دھیان دیتے تو شاید ہمارے بھی چند آنسو ٹپک جاتے۔ لیکن ہماری گود میں ہماری ایک سال کی بہن ندا تھی جو مسلسل رو رہی تھی اور اس سب کے باوجود ہماری کوشش تھی کہ ہم جھک کر دیکھیں کہ باجی کی آنکھوں سے آنسو بھی نکل رہے ہیں یا صرف حلق سے خالی خولی بھوں بھوں نکال رہی ہیں۔ پاپا، باجی سے الگ ہوئے تو ہمیں اشارہ کیا کہ ہم بھی ان سے گلے مل لیں۔ لیکن سچی بات ہے، ان کے کپڑے، کمرہ، پرس اور جوتے ملنے کا خیال دل میں گدگدیاں کر رہا تھا۔

سب سے بڑھ کر یہ سکون کہ صبح سپارہ پڑھے بغیر پراٹھے ملا کریں گے۔ خیر فل فلمی سین میں باجی رخصت ہوگئیں اور صبح کو جب ہمیں خود پراٹھے بنا نے پڑے تو سوچا، اتنے سارے پراٹھے بنانے سے ایک سپارہ پڑھنا زیادہ بہتر تھا۔

لیکن باجی کے بعد کیوں کہ ہمارا ہی نمبر تھا اس لیے ہم نے بڑے ہونے کا فائدہ اٹھایا، سب بہنوں کو ذمہ داریاں سونپیں، خود کو مشیر برائے امور خانہ دار جیسے اہم منصب تک محدود رکھا۔ پڑھائی میں کیوں کہ اچھے تھے اس لیے پاپا سمیت سبھی ہمارے رعب میں تھے ہم ناصرف اپنے بہن بھائیوں کے تعلیمی معاملات دیکھتے بلکہ محلے کیا، کالونی کے لوگ اپنے نکھٹو بچوں کے لیے ہمارے پاس مشورے کے لیے آتے۔

وقت گزرا، ایل ایل بی کرنے کے بعد پاپا سے ضد کی کہ ہم کراچی میں وکالت کریں گے یہاں خیر پورمیں سارے مرد وکیل ہیں ایک بھی لڑکی نہیں۔ کہنے لگے۔ "نہیں تمہیں جو کرنا اسی شہر میں کرنا ہے"۔

ہم نے کہا، لوگ کیا کہیں گے، باتیں بنائیں گے۔ آپ کو پتہ تو ہے کیسے گھورتے ہیں یہاں کے مرد۔

کہنے لگے، "شروع میں تمہیں اور انہیں عجیب لگے گا پھر عادت ہو جائے گی۔ تم دوسری لڑکیوں کے لیے راستہ بناؤ۔ کسی کو تو قدم اٹھانا ہے"۔

چھان بین شروع کر دی کہ کون سے سینیئر وکیل کے ماتحت کیا کام جائے، علی اسلم جعفری صاحب ایک معتبر وکیل تھے، ان کے پاس لے گئے۔ اسلم صاحب نے پاپا کے اس قدم کو بہت سراہا۔ پاپا ان سے مل کر مطمئن ہو گئے۔

آفس سے کبھی کبھی سائٹ پر چلے جاتے لیکن شدید تھکن کے باوجود ہمیں کیسز کی تیاری کے لیے روزانہ اپنی کالونی سے اسلم صاحب کے چیمبر چھوڑ کر آتے، پھر وقت مقررہ پر لینے پہنچ جاتے۔ کبھی کسی کیس کی اسٹڈی میں دیر ہو جاتی تو چیمبر میں بیٹھے انتظار کرتے رہتے۔

چھوٹے سے شہر کی عدالت میں دو سو وکیلوں کے درمیان اکیلی لڑکی کیسز لڑ رہی تھی۔ پاپا اپنے آفیسرز، ماتحتوں، دوستوں سب کو بتاتے کہ عفت زمان ایڈوکیٹ ان کی بیٹی ہے۔ ہر کام میں ہم سے مشورہ کیا جاتا۔ ہمیں لیبر لاز کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا، ہم صرف کرمنل، فیملی اور سول کیسز ڈیل کرتے تھے۔ لیکن آئے روز پاپا محض اپنے باس اور ماتحتوں کو رعب میں لینے کی خاطر ان سے کہتے میری بیٹی وکیل ہے چلو اس سے مشورہ کرتے ہیں۔

ہمیں بیٹھک سے ہی آواز دیتے۔ ہم دوپٹہ سر پر رکھ کر تمیز سے جاکر بیٹھ جاتے۔ پاپا ہمیں کیس کی نوعیت سمجھانے کے بعد ہم سے پوچھتے کہ کیا کرنا چاہیے، ہمیں جو بھی سمجھ آتا، انہیں سمجھاتے۔ دل تو چاہتا تھا کہ کہہ دیں کہ ہمیں لیبر لاز کا کچھ علم نہیں، لیکن پاپا کا فخر ٹوٹ جاتا۔ پھر ہم نے ایک دو ہفتے لگا کر لیبر لاز کے متعلق چیدہ چیدہ باتیں سمجھ لیں۔

پھپھیاں طنز کرتیں، ہمیں تو دروازے پر کھڑا نہیں ہونے دیتے تھے، بیٹی کو مردوں میں چھوڑا ہوا ہے۔ پاپا ہنس کر کہتے، یہ بیٹی نہیں بیٹا ہے میرا۔

وسیع ذہن کے مالک، سندھی زبان سیکھنے پر سختی، ہندو، کرسچن سب دوستوں کے گھر آنا جانا لگا رہتا لیکن انہیں کبھی ایمان اور دین کی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ نظر نہیں آیا۔ آدھی رات کے وقت کسی کو اسپتال جانے کی ضرورت پڑتی تو فوراً گاڑی نکال لیتے اور امی سے بھی کہتے کہ وہ بھی چلیں۔ وکالت کا امتحان پاس کرنے یا کسی انٹرویو کے لیے اچانک کراچی آنا ہوتا، تو سیٹ نہ ملنے پر کسی نہ کسی کی منت کرکے ہمیں تو سیٹ پر بٹھا دیتے اور خود زمین پر بیٹھ جاتے۔

لسانی فسادات ہوئے تو ہم کراچی چلے آئے، تین بہن بھائیوں کو بھی ہمارے پاس بھیج دیا اور جب احمد کی طرف سے رشتہ آیا تو انہیں ان کے شیعہ ہونے پر تو کیا اعتراض ہوتا، وہ ان کے گھر کی ویرانی اور زبوں حالی پر بھی معترض نہ ہوئے خوش تھے کہ اعلی اخلاق و نسب کا خاندان ہے۔ شادی کے بعد امی نے بتایا کہ انہیں لگتا تھا کہ تم احمد کی محبت میں گرفتار ہو لیکن کبھی اپنی زبان سے نہیں کہوگی۔

جب امی نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ لوگ کیا کہیں گے، تو بولے "جب ایک باپ خود اپنی بیٹی کی شادی کررہا ہو تو دنیا کی کیا مجال"۔

احمد کی شاعری سے باقاعدہ متاثر تھے۔ ان کی کتاب در نیم وا، پڑھی، آسمان کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے۔ میں تمہیں وہاں دیکھنا چاہتا ہوں۔

شادی کی تاریخ طے ہوئی تو کراچی آ کر جہیز کی ایک ایک چیز خریدی۔ ہم حسب معمول انہیں سمجھاتے رہے کہ آپ نے ہمیں اتنا پڑھایا لکھایا ہے، یہ بہت ہے۔ ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔ احمد کے گھر والوں نے بھی جہیز کو منع کر دیا تھا۔ مگر باپ تھے، سمجھتے تھے کہ بیٹی کو گھر میں چند بنیادی چیزوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ بارات کا شاندار استقبال، شاندار کھانا اور موقع کی مناسبت سے گیتوں کے انتخاب کی کیسٹ بھی تیار کر رکھی تھی۔ کچھ رسموں کے بعد رخصتی کا وقت آ پہنچا۔

بہنوں نے اس بار کوئی گڑ بڑ نہ ہو، بابل کی دعا والا گانا اسٹینڈ بائی رکھا ہوا تھا۔ زلفی قرآن شریف ہمارے سر کے اوپر رکھ کر کھڑا ہوگیا، ہم احمد کے ساتھ آگے بڑھے، امی بہنیں سب ایک ایک کرکے گلے ملتی رہیں۔ جیسے ہی پاپا کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ آگے بڑھے شفو نے مجھے ہنسانے کے لیے میرے کان میں کہا، پاپا کی ایکٹنگ شروع۔

پاپا نے ہمیں گلے لگا لیا اور بلک بلک کر رونے لگے۔ احمد نے پاپا کو الگ کیا۔ پاپا ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو گئے۔ شفو پاپا کو ایک طرف لے گئی۔

رفیع صاحب کا گانا بج رہا تھا۔

بیتیں تیرے جیون کی گھڑیاں آرام کی ٹھنڈی چھاؤں میں
کانٹا بھی نہ چبھنے پائے کبھی میری لاڈلی تیرے پاؤں میں

اس دوار سے بھی دکھ دور رہے، جس دوار سے تیرا دوار ملے

About Iffat Navaid

Iffat Navaid is an author, columnist, fiction writer and teacher.

She started his practical life as an advocate. Ever since marriage, she has been involved in teaching.

Her autobiography "Deep Jalte Rahe" has come out. You can hear her autobiography on YouTube in the form of an audio book on @iffatnavaid6253.

Check Also

Tehzeeb Ka Tohfa

By Sarfraz Saeed Khan