Thursday, 16 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Farhad Magsi
  4. Karbala, Aik Intiqam Aal e Rasool Se

Karbala, Aik Intiqam Aal e Rasool Se

کربلا، ایک انتقام آلِ رسولؐ سے

دنیا کے سب یزید اسی غم میں مر گئے
سر مل گیا حسینؑ کا، بیعت نہیں ملی

پچھلے سال ان ایام میں میرا موضوع ایک ذاتی مشاہدے پر مبنی تھا، البتہ آج میرا موضوع ایسا ہے کہ جس زاویے سے ہم اس مقدمے کو کبھی نہیں سمجھ پاتے، یا شاید سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ بلاشبہ بہت سے مذہبی اسکالرز نے اہلِ بیتؑ کی شان میں بہت کچھ بیان کیا اور بالخصوص Gen-Z کے دلوں میں اہلِ بیتؑ کی محبت ہمیشہ کے لیے روشن کر دی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اگلے سال ان ایام تک ہم زندہ رہیں گے بھی یا نہیں، اس لیے ان ایام میں تفرقے سے باہر نکل کر اہلِ بیتؑ کی اس عظیم قربانی کا مشاہدہ کریں اور دماغ کے دریچوں کو کھولنے کی کوشش کریں۔

ہمارے مولا علیؑ سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور اگر بغض ہے تو یہ نفاق ہے۔ یہ بات احادیث سے ثابت ہے، مگر اس کے باوجود بھی بنو امیہ کے دور میں مولا علیؑ پر ممبروں سے سبّ و شتم ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ بالآخر عمر بن عبدالعزیز نے اس گھناونے عمل کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔

مولا علیؑ نے خلافت کا عہد سنبھالتے ہی حضرت عثمانؓ کے تمام گورنروں کو معزول کر دیا، جن میں امیرِ شام بھی تھے۔ انہوں نے خلیفہ کا حکم ماننے کے بجائے قصاصِ عثمانؓ کا مطالبہ کر دیا۔ تاریخی روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ مولا علیؑ جیسے عظیم صحابی، جو حضورﷺ کی تربیت میں رہے تھے، ضرور وقت آنے پر قصاصِ عثمانؓ لیتے، مگر خیر، یوں بغاوت ہوئی اور جنگِ صفین برپا ہوگئی، جس میں مولا علیؑ الحمدللہ سو فیصد حق پر تھے اور دوسرا گروہ بغاوت پر تھا۔

خیر، جن کا مطالبہ تھا قصاصِ عثمانؓ لینے کا، بعد میں وہ بھی اپنے اقتدار کے دور میں یہ نہ لے سکے، کیونکہ نہ اس وقت ٹیکنالوجی تھی اور نہ ہی کوئی واضح ثبوت۔ بہت بڑا ہجوم اس عمل میں ملوث تھا۔

اب آتے ہیں حضرت حسنؑ پر۔ انہیں انتہائی مظلومانہ طریقے سے زہر دے کر قتل کر دیا گیا۔ سنن ابوداؤد 4131 میں اس کا تذکرہ ملتا ہے، آپ مطالعہ ضرور کیجیے گا۔ خیر، امیرِ شام اقتدار میں رہے، اس دوران ملوکیت کا زور و شور برقرار رہا، یعنی قریبی لوگ مالا مال بنتے گئے، حتیٰ کہ سعد بن ابی وقاصؓ کی جگہ ایسے لوگ بھی گورنر بنائے گئے جنہوں نے فجر کی نماز شراب کی حالت میں پڑھائی، نعوذ باللہ۔

اہلِ بیتؑ اور عظیم صحابہؓ کے لیے اسی دور میں راستے تنگ ہونا شروع ہو گئے۔ جیسے حجر بن عدیؓ کا تذکرہ آتا ہے، عبداللہ بن عمرؓ کا خاموش ہو جانا، یہ سب ملوکیت کی نشانیاں تھیں۔ روایات سے یہ بھی ثابت ہے کہ امیرِ شام کے زمانے میں یزید کی نامزدگی کے لیے اعلانات تک کیے گئے، جس پر محمد بن ابی بکرؓ کو بھی بھاگ کر جان بچانا پڑی۔ یہ تھی ملوکیت اور پھر یزید جیسے بدبخت اور ملعون شخص کو حکومت سونپ دینا سب سے بڑا بلنڈر تھا، حالانکہ حضرت حسینؑ سے زیادہ اس منصب کا کون حقدار تھا؟

یزید نے اپنے آباؤ و اجداد کے خون کا بدلہ لینا ہی مناسب سمجھا۔ اسے اقتدار ایک Golden Opportunity کے طور پر ملا۔ جہاں تک میں نے تاریخ کو پڑھا، صحاحِ ستہ کی کتب کا جائزہ لیا اور شعور نے آنکھ کھولی، ایک حقیقت بارہا سامنے آئی کہ یہ اقتدار سے زیادہ انتقام کی جنگ تھی۔

حسینؑ کا سر تن سے جدا کرنا، عباسؑ کے بازو قلم کرنا، مقدس سروں کو نیزوں پر بلند کرنا، سیدہ زادیوں کی چادروں کو پامال کرنا، علی اصغرؑ جیسے معصوم بچے پر ظلم کے پہاڑ توڑنا۔

یہ صرف ایک جنگ نہ تھی، نہ اقتدار کی کشمکش تھی، بلکہ یہ نفرت کی ایک لہر دکھائی دیتی ہے جو کئی عرصے سے پلتی آ رہی تھی۔ آج تک کی انسانی تاریخ میں ایسا ہولناک واقعہ پیش نہیں آیا کہ انبیاءؑ کی اولاد کو ان کے ماننے والے یوں ذبح کریں۔

ساری دشمنی دراصل علیؑ سے تھی، مگر افسوس کہ وہ بھول گئے کہ آلِ علیؑ، آلِ نبیﷺ بھی تو تھی۔ یہ وہ سر تھا جس پر حضورﷺ بوسہ دیا کرتے تھے۔

کربلا کا واقعہ اتنا بڑا مقدمہ ہے کہ یہ کسی ایک تحریر میں سمیٹا نہیں جا سکتا۔ اس کی تفصیل کے لیے آپ کو ذہن کے دریچوں کو کھول کر مولانا مودودی کی کتاب "خلافت و ملوکیت" کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ پھر بھی اگر آپ کا کوئی اختلاف رہتا ہے تو ضرور نشاندہی کیجیے۔

Check Also

Molana Ki Siasat

By Syed Mehdi Bukhari