Kya Shayari Fazool Ho Chuki Hai?
کیا شاعری فضول ہو چکی ہے؟

یہ سوال بظاہر سادہ لگتا ہے مگر اس کے اندر ایک پورا تہذیبی، سماجی اور فکری بحران چھپا ہوا ہے۔ اگر ہم اکیسویں صدی کے انسان کو دیکھیں تو وہ ایک ایسے دور میں سانس لے رہا ہے جہاں رفتار سب سے بڑی قدر بن چکی ہے۔ ہر چیز فوری چاہیے، مختصر چاہیے اور اثر انگیز چاہیے۔ ایسے میں شاعری جو احساس، تخیل اور ٹھہراؤ کی زبان ہے، اکثر غیر ضروری یا پرانی محسوس ہونے لگتی ہے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے یا یہ صرف ہمارے دیکھنے کا زاویہ بدل گیا ہے؟
شاعری انسانی تاریخ کی سب سے قدیم اور سب سے مؤثر اظہار کی شکلوں میں سے ایک ہے۔ جب انسان کے پاس مکمل زبان بھی نہیں تھی تب بھی وہ آواز، ردھم اور علامت کے ذریعے اپنے اندرونی احساسات کو بیان کرتا تھا۔ وقت بدلا، زبانیں بدلیں، تہذیبیں بدلیں، مگر شاعری کی ضرورت ختم نہیں ہوئی۔ آج بھی انسان محبت، دکھ، خوف، امید اور تنہائی جیسے جذبات کو اسی طرح محسوس کرتا ہے جیسے صدیوں پہلے کرتا تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ اظہار کے ذرائع بڑھ گئے ہیں تاہم اندرونی انسانی کیفیت وہی ہے۔
اکیسویں صدی میں سوشل میڈیا نے شاعری کو ایک نئی زندگی دی ہے اور ایک نئی آزمائش بھی کھڑی کی ہے۔ ایک طرف فیس بک، انسٹاگرام، ایکس (ٹوئٹر) اور دیگر پلیٹ فارمز نے شاعری کو کتابوں اور ادبی محفلوں سے نکال کر عام آدمی کی انگلیوں تک پہنچا دیا ہے۔ آج ایک مختصر سا شعر یا دو سطری نظم چند سیکنڈ میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اس سے شاعری کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور نوجوان نسل بھی دوبارہ شاعری کی طرف متوجہ ہوئی ہے۔ دوسری طرف یہی سوشل میڈیا شاعری کو سطحی بھی بنا رہا ہے۔ اب گہرائی سے زیادہ لائکس اور شیئرز اہم ہو گئے ہیں۔ نتیجتاً بعض اوقات شاعری ایک جذباتی نعرے یا سرخی میں بدل کر رہ جاتی ہے۔
تیز رفتار دور نے نوجوانوں کی توجہ کو بھی بدل دیا ہے۔ آج کا نوجوان لمبی نظمیں یا پیچیدہ استعاراتی شاعری پڑھنے کی بجائے مختصر، سیدھی اور فوری اثر ڈالنے والی شاعری کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شاعری سے دور ہوگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی توجہ کی ساخت بدل گئی ہے۔ وہ جذباتی سچائی تلاش کرتا ہے مگر کم وقت میں۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر سادہ اور فوری سمجھ آنے والی شاعری زیادہ مقبول ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ گہری فکر اور فنی پیچیدگی رکھنے والی شاعری پس منظر میں چلی جائے۔
آج کی شاعری کا کردار محدود نہیں ہوا بلکہ بدل گیا ہے۔ پہلے شاعری اجتماعی شعور کو جنم دینے، مزاحمت کرنے اور تہذیبی اقدار کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ تھی۔ آج بھی یہ کردار موجود ہے مگر اس کے ساتھ ایک نیا کردار بھی شامل ہوگیا ہے۔ آج کی شاعری فرد کے اندرونی انتشار، ذہنی دباؤ، تنہائی اور شناخت کے بحران کو بیان کرنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ جدید انسان بظاہر ایک دوسرے سے وابستہ ہے مگر اندر سے بکھرا ہوا ہے۔ شاعری اس بکھراؤ کو زبان دیتی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں انسان خود کو دوبارہ محسوس کرتا ہے۔
سماجی اور سیاسی سطح پر بھی شاعری اب مکمل طور پر غیر مؤثر نہیں ہوئی۔ اگرچہ اس کا اثر پہلے جیسا براہ راست نہیں رہا لیکن یہ اب بھی فکری سطح پر تبدیلی پیدا کر سکتی ہے۔ ایک اچھا شعر یا نظم کسی بھی قاری کے ذہن میں سوال پیدا کر سکتی ہے اور یہی سوال تبدیلی کی پہلی شکل ہوتا ہے۔ آج بھی مزاحمتی شاعری مختلف معاشروں میں اپنی جگہ بنا رہی ہے، اگرچہ اس کی شکل پہلے سے مختلف ہو چکی ہے۔
اب اگر خواتین شاعرات کی بات کی جائے تو یہ ایک نہایت حسّاس اور اہم موضوع ہے۔ یہ درست ہے کہ کئی ادوار میں خواتین شاعرات کی آواز نسبتاً کم سنائی دیتی رہی ہے لیکن اس کی وجہ صرف موضوعاتی محدودیت نہیں بلکہ سماجی اور تاریخی حالات بھی رہے ہیں۔ آج کے دور میں خواتین شاعرات بڑی تعداد میں سامنے آ رہی ہیں اور وہ مختلف موضوعات پر لکھ رہی ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات انہیں ایسے لیبلز میں محدود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جیسے محبت، ذاتی احساسات یا رومانوی تجربات۔ حالانکہ ان کی شاعری میں سماجی ناانصافی، شناخت، جسمانی و ذہنی آزادی اور وجودی سوالات بھی بھرپور انداز میں موجود ہیں۔ مسئلہ شاعرات کے موضوعات کی تنگی نہیں بلکہ ہمارے تنقیدی رویے کی تنگی بھی ہے۔
یہ سوال کہ شاعری فضول ہو چکی ہے دراصل شاعری سے زیادہ ہمارے رویے پر سوال اٹھاتا ہے۔ جب معاشرہ تیزی سے مادیت اور فوری نتائج کی طرف جاتا ہے تو وہ ہر اُس چیز کو غیر ضروری سمجھنے لگتا ہے جس کا فائدہ فوری اور واضح نہ ہو۔ شاعری چونکہ فوری فائدہ نہیں دیتی بلکہ آہستہ آہستہ ذہن اور دل میں اثر کرتی ہے۔ اس لیے وہ بعض لوگوں کو غیر ضروری محسوس ہونے لگتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو چیز انسان کے احساس کو زندہ رکھے وہ کبھی فضول نہیں ہو سکتی۔
شاعری آج بھی انسان کو اس کی اندرونی دنیا سے جوڑنے کا سب سے نرم اور گہرا ذریعہ ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنی خوشی، اپنا دکھ، اپنی شکست اور اپنی امید دیکھ سکتا ہے۔ اگر شاعری نہ ہو تو زبان صرف معلومات کا ذریعہ رہ جائے گی اور احساس کی دنیا سکڑ جائے گی۔
ہم یقین سے کہ سکتے ہیں کہ شاعری فضول نہیں ہوئی بلکہ اس کا کردار بدل گیا ہے۔ وہ شور میں اپنی جگہ خاموشی سے بنا رہی ہے۔ شاید پہلے سے زیادہ خاموش مگر زیادہ گہری۔ یہی گہرائی اسے آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہے۔

