Thursday, 28 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Uzma Noreen
  4. Kya Aurat Paise Ki Bhooki Hai?

Kya Aurat Paise Ki Bhooki Hai?

کیا عورت پیسے کی بھوکی ہے؟

یہ جملہ مشرقی سماج میں اتنی بار دہرایا گیا ہے کہ اب یہ محض ایک الزام نہیں رہا بلکہ ایک سماجی بیانیہ بن چکا ہے۔ جب بھی کوئی عورت بہتر زندگی کی خواہش کرے، اچھا گھر مانگے، معاشی تحفظ چاہے یا اپنے بچوں کے لیے آسودگی کا خواب دیکھے تو فوراً اس کے کردار کے گرد "لالچ" کا لفظ لپیٹ دیا جاتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہی خواہش اگر مرد کے اندر ہو تو اسے "ذمہ داری" اور "کامیابی کی امنگ" کہا جاتا ہے۔ عورت کے لیے وہی جذبہ اچانک حرص بن جاتا ہے۔

پاکستان میں عورت کو ہمیشہ قربانی کے استعارے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ اسے سکھایا گیا کہ محبت روٹی سے بڑی چیز ہے، وفا زیور سے زیادہ قیمتی ہے، صبر ہر آسائش پر مقدم ہے۔ مگر کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ جو عورت عمر بھر دوسروں کے لیے جیتی ہے کیا اسے خود کبھی سکون کی خواہش نہیں ہوتی؟ کیا اسے اچھے کپڑے پہننے کا حق نہیں؟ کیا وہ اپنے بچوں کے لیے محفوظ مستقبل نہیں چاہتی؟ کیا وہ بیماری کے دنوں میں علاج اور بڑھاپے میں تحفظ کا خواب نہیں دیکھ سکتی؟

اصل مسئلہ عورت کی پیسے سے محبت نہیں بلکہ غربت کے خوف سے نفرت ہے۔ پاکستانی عورت نے محرومی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اس نے وہ مائیں دیکھی ہیں جو شوہر کے مرنے کے بعد رشتہ داروں کے دروازوں پر ذلیل ہوتی رہیں۔ اس نے وہ عورتیں دیکھی ہیں جو محبت کی شادی کے بعد کرائے کے کمروں میں اپنے خواب دفن کرتی رہیں۔ اس نے وہ بیویاں دیکھی ہیں جنہیں معمولی خرچے کے لیے ہاتھ پھیلانا پڑا۔ اس نے وہ لڑکیاں دیکھی ہیں جو جہیز نہ ہونے پر طعنے سنتی بوڑھی ہوگئیں۔ اس لیے اگر عورت معاشی استحکام چاہتی ہے تو یہ صرف "پیسہ" نہیں بلکہ عزت اور تحفظ کی خواہش ہے۔

ہمارے سماج میں اکثر کہا جاتا ہے کہ عورت امیر مرد کی طرف جلد مائل ہوتی ہے۔ مگر اس جملے کے پیچھے موجود نفسیات کو کم ہی سمجھا جاتا ہے۔ ایک لڑکی جب بچپن سے یہ دیکھتی ہے کہ گھر میں پیسے نہ ہوں تو ماں کی آواز دب جاتی ہے، بیماریاں بڑھ جاتی ہیں، تعلیم رک جاتی ہے اور رشتے بدل جاتے ہیں تو وہ لاشعوری طور پر یہ سیکھ لیتی ہے کہ محبت کے ساتھ معاشی سکون بھی ضروری ہے۔ یہ فطری انسانی ضرورت ہے، صرف عورت کی کمزوری نہیں۔

بعض مرد شکوہ کرتے ہیں کہ عورت صرف دولت دیکھتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مرد رشتوں میں صرف روح دیکھتے ہیں؟ کیا وہ خوبصورتی، جوانی، گھریلو صلاحیت یا سماجی مرتبے سے متاثر نہیں ہوتے؟ انسان ہمیشہ اپنے لیے بہتر امکانات تلاش کرتا ہے۔ عورت بھی اسی انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ عورت کے انتخاب کو اخلاقی عدالت میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ عورتیں واقعی دولت کو محبت پر ترجیح دیتی ہیں۔ جیسے کچھ مرد حُسن کو کردار پر فوقیت دیتے ہیں مگر چند مثالوں کو پوری جنس کی حقیقت بنا دینا ناانصافی ہے۔ ہر عورت کا خواب صرف زیورات اور مہنگی گاڑیاں نہیں ہوتیں۔ بہت سی عورتیں صرف اتنا چاہتی ہیں کہ ان کے بچے اچھی تعلیم حاصل کریں، بیماری میں دوائی مل جائے، کرائے کے خوف سے راتوں کی نیند نہ اڑے اور شوہر کی بے روزگاری ہر روز گھر کا سکون نہ کھا جائے۔

مشرق میں عورت کی خواہشات کو ہمیشہ مشکوک سمجھا گیا۔ اگر وہ خاموش رہے تو "فرماں بردار" ہے اور اگر وہ بہتر زندگی مانگ لے تو "مادیت پسند" کہلاتی ہے۔ حالانکہ عورت کی خواہشیں بھی انسان ہونے کی دلیل ہیں۔ اسے بھی خوبصورت چیزیں پسند ہیں۔ وہ بھی چاہتی ہے کہ اس کی سالگرہ پر کوئی تحفہ ملے، اس کی الماری میں پسندیدہ لباس ہو، اس کے گھر میں سکون ہو۔ یہ خواہشات لالچ نہیں بلکہ زندگی سے محبت کی علامت ہیں۔

عورت اور پیسے کے تعلق کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ عورت صرف اپنی ذات کے لیے پیسہ نہیں چاہتی۔ عورت کی معاشی خواہشات دوسروں سے وابستہ ہوتی ہیں۔ وہ اپنے والدین کی مدد کرنا چاہتی ہے، بہن بھائیوں کے لیے آسانی چاہتی ہے، بچوں کے لیے بہتر مستقبل مانگتی ہے۔ عورت جب خوشحال زندگی کا خواب دیکھتی ہے تو اس خواب میں صرف وہ اکیلی نہیں ہوتی بلکہ پورا خاندان شامل ہوتا ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ معاشی طور پر کمزور عورت کو ہمارے معاشرے میں کم عزت ملتی ہے۔ جو عورت شوہر پر مکمل انحصار کرے، اس کی رائے کو کچھ زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اور اس کے فیصلے محدود کر دیے جاتے ہیں۔ اسی لیے نئی نسل کی عورت مالی خودمختاری چاہتی ہے۔ وہ جان چکی ہے کہ خالی جیب عورت کی آواز کو کمزور کر دیتی ہے۔ اس لیے اگر عورت پیسہ چاہتی ہے تو شاید وہ دراصل اختیار چاہتی ہے، اپنی شناخت چاہتی ہے، اپنی ذات کی حفاظت چاہتی ہے۔

محبت اور پیسہ دو الگ چیزیں ہیں مگر زندگی میں دونوں کا تعلق بہت گہرا ہے۔ غربت صرف جیب خالی نہیں کرتی، تعلقات بھی تھکا دیتی ہے۔ مسلسل معاشی دباؤ محبت کے لہجے بدل دیتا ہے۔ اس لیے عورت اگر ایک مستحکم زندگی چاہتی ہے تو اسے صرف "مادہ پرست" کہنا حقیقت سے فرار ہے۔

نسائی زاویے سے دیکھا جائے تو عورت کو ہمیشہ دوسروں کی ضرورتوں کا خیال رکھنے کی تربیت دی گئی۔ وہ اپنی خواہش دبانا سیکھتی رہی۔ جب کبھی اس نے اپنے لیے کچھ مانگا تو اسے "پیسے کی بھوکی" کہہ دیا گیا۔ یہ رویہ دراصل عورت کی خواہشات سے خوف کی علامت ہے۔ سماج تو یہ چاہتا ہے کہ عورت محبت تو دے مگر بدلے میں تحفظ نہ مانگے، قربانی تو کرے مگر آسائش کا خواب نہ دیکھے، وفا تو نبھائے مگر اپنے معیار زندگی پر سوال نہ اٹھائے۔

عورت پیسے کی بھوکی نہیں، وہ بے قدری سے تھکی ہوئی ہے۔ وہ عدم تحفظ سے خوف زدہ ہے، وہ محرومی کے اندھیروں سے نکل کر سکون کی روشنی چاہتی ہے۔ اگر وہ اچھے مستقبل کا خواب دیکھتی ہے تو یہ اس کی فطرت کے خلاف نہیں بلکہ زندگی کے حق میں ہے۔ عورت کو سونے کے ترازو میں تولنے کی بجائے اس کے خوف، تجربات اور ذمہ داریوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ بعض اوقات عورت کو پیسہ نہیں، صرف اتنا یقین چاہیے ہوتا ہے کہ کل کا دن آج سے زیادہ محفوظ ہوگا۔

Check Also

Dawn Ke Ashar Rehman Se Murree Ki Sahafat Tak

By Muhammad Idrees Abbasi