Kya Aurat Be Waqoof Hai?
کیا عورت بے وقوف ہے؟

یہ جملہ صدیوں سے مشرقی معاشرے میں ایک خاموش زہر کی طرح پھیلایا جاتا رہا ہے۔ کبھی مذاق کے انداز میں کبھی غیرت کے نام پر اور کبھی مذہب کی غلط تشریح کے ذریعے عورت کی عقل کو کم تر ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ پاکستانی معاشرے میں آج بھی اگر کوئی عورت مضبوط رائے دے تو کہا جاتا ہے کہ "عورت کی عقل گھٹنوں میں ہوتی ہے"۔ اگر وہ جذباتی ہو جائے تو اسے کم عقل قرار دے دیا جاتا ہے اور اگر وہ مضبوط فیصلے کرے تو کہا جاتا ہے کہ وہ عورتوں جیسی نہیں رہی۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی عورت بے وقوف ہے یا یہ ایک ایسا سماجی بیانیہ ہے جو مردانہ بالادستی کو محفوظ رکھنے کے لیے گھڑا گیا؟
حقیقت یہ ہے کہ عورت کو بے وقوف سمجھنے کی بنیاد عقل نہیں بلکہ طاقت کی سیاست ہے۔ ہر وہ معاشرہ جہاں طاقت چند ہاتھوں میں محدود ہو وہاں کمزور طبقے کو ذہنی طور پر کمتر ثابت کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی حیثیت پر سوال نہ اٹھا سکے۔ پاکستانی سماج میں عورت کو شروع سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ تمہاری اصل کامیابی فرمانبرداری ہے۔ لڑکے کو سوال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے لیکن لڑکی کے سوال کو بدتمیزی سمجھا جاتا ہے۔ جب کسی انسان کو اظہار رائے سے محروم رکھا جائے تو پھر آہستہ آہستہ اس کی خود اعتمادی ختم ہونے لگتی ہے اور لوگ اسی کمزور خود اعتمادی کو عورت کی کم عقلی کا نام دے دیتے ہیں۔
ہمارے ہاں عورت کے فیصلوں پر ہمیشہ شک کیا جاتا ہے۔ اگر وہ تعلیم کا انتخاب کرے تو گھر والے کہتے ہیں "تمہیں کیا سمجھ"۔ اگر وہ شادی کے بارے میں رائے دے تو اسے جذباتی قرار دیا جاتا ہے۔ اگر کاروبار کرنا چاہے تو کہا جاتا ہے کہ عورت دنیا داری نہیں سمجھتی۔ یوں عورت کو مسلسل یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ عقل صرف مرد کی ملکیت ہے۔ حالانکہ تاریخ اس تصور کی نفی کرتی ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی درسگاہوں، عدالتوں، پارلیمانوں اور تحقیقی اداروں میں عورتیں اپنی ذہانت کا ثبوت دے چکی ہیں۔ پاکستان میں بے شمار عورتیں طب، تعلیم، قانون، سیاست اور صحافت میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اگر عورت واقعی عقل میں کمزور ہے تو وہ اتنے پیچیدہ شعبوں میں کامیاب کیسے ہوئی؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ عقل کو صرف ایک مخصوص انداز میں دیکھتا ہے۔ مرد کی سختی کو عقل اور عورت کی نرمی کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ جذباتی فہم بھی عقل کی ایک صورت ہے۔ ایک ماں جو پورے گھر کے مزاج کو سمجھتی ہے جو بچوں کی نفسیات پڑھ لیتی ہے جو رشتوں کو جوڑ کر رکھتی ہے وہ محض جذباتی نہیں بلکہ غیر معمولی ذہانت رکھتی ہے۔ چونکہ اس کی ذہانت سے بازار اور اقتدار کو فائدہ نہیں پہنچتا اس لیے اسے اہمیت نہیں دی جاتی۔
مذہب کے نام پر بھی عورت کو کم عقل ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بعض لوگ چند روایات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر عورت کی تذلیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ اسلام نے عورت کو وراثت، تجارت، تعلیم اور رائے کا حق دیا۔ حضرت خدیجہ ایک کامیاب تاجرہ تھیں۔ حضرت عائشہ کو اسلامی تاریخ کی بڑی عالمہ مانا جاتا ہے جن سے ہزاروں احادیث روایت کی گئیں۔ اگر عورت عقل میں ناقص ہوتی تو دین کی اتنی بڑی علمی روایت ایک عورت کے ذریعے آگے نہ بڑھتی۔ اسلام نے عورت کو انسان سمجھا لیکن معاشرے نے اسے کردار بنا دیا۔ عورت کو کبھی عزت کا نشان، کبھی غیرت کی علامت اور کبھی مرد کی ملکیت سمجھا گیا۔
پاکستانی معاشرے میں عورت کو بے وقوف ثابت کرنے کے پیچھے ایک نفسیاتی خوف بھی موجود ہے۔ مرد جانتا ہے کہ اگر عورت خود مختار ہوگئی تو صدیوں سے قائم طاقت کا توازن بدل جائے گا۔ اسی لیے عورت کو محدود رکھنے کے لیے اس کی عقل پر حملہ کیا جاتا ہے۔ ایک عورت اگر اپنی رائے پر قائم رہے تو اسے ضدی کہا جاتا ہے اور یہی کام مرد کرے تو اسے باوقار کہا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار عورت کی ذہانت نہیں بلکہ معاشرے کی منافقت ظاہر کرتا ہے۔
سوشل میڈیا اور ڈراموں نے بھی اس تصور کو تقویت دی۔ اکثر کہانیوں میں عورت کو یا تو سازشی دکھایا جاتا ہے یا معصوم اور بے وقوف۔ شاذ و نادر ہی ایسی عورت دکھائی جاتی ہے جو متوازن عقل اور خودمختار شخصیت رکھتی ہو۔ بچپن سے لڑکیاں یہ کردار دیکھ دیکھ کر خود کو انہی سانچوں میں ڈھالنے لگتی ہیں۔ جب کسی طبقے کی ذہنی تصویر مسلسل کمزور بنائی جائے تو معاشرہ رفتہ رفتہ اسے حقیقت مان لیتا ہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ بعض عورتیں واقعی غلط فیصلے کرتی ہیں لیکن یہی بات مردوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ عقل کا تعلق جنس سے نہیں تربیت، تجربے تعلیم اور ماحول سے ہے۔ اگر ایک لڑکی کو بچپن سے خوف میں رکھا جائے، اس کی تعلیم محدود ہو، اس کی رائے کو دبایا جائے تو وہ زندگی کے بڑے فیصلوں میں اعتماد کیسے پیدا کرے گی؟ پھر یہی کمزور اعتماد مرد کے لیے دلیل بن جاتا ہے کہ عورت عقل میں کمزور ہے۔ گویا زخم بھی خود دو پھر کمزوری کا الزام بھی اسی پر لگا دو۔
دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں اب یہ شعور بڑھ رہا ہے کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ تکمیل ہیں۔ عورت کو برابر مواقع دیے جائیں تو وہ معاشی اور فکری ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اقوام کی ترقی صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں بلکہ ذہنوں کی آزادی سے ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں عورت خوف کے ساتھ زندہ رہے وہاں تخلیق مرنے لگتی ہے۔
عورت بے وقوف نہیں ہے۔ وہ صرف ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہی ہے جہاں اس کی عقل پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔ اسے بولنے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اسے ہر کامیابی کے بعد خود کو ثابت کرنا پڑتا ہے۔ مرد کی غلطی کو انسانی کمزوری کہا جاتا ہے اور عورت کی غلطی پوری جنس کے خلاف ثبوت بنا دی جاتی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ عورت کو عقل کے ترازو میں نہیں بلکہ انسانیت کے دائرے میں دیکھا جائے۔ اسے کمتر ثابت کرنے کی بجائے اس کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا جائے۔ مختصر یہ کہ جب عورت کی عقل پر شک کرنا پورے معاشرے کی ترقی پر سوالیہ نشان لگانا ہے۔

