Kuch Zindani Aurat Ke Baare Mein
کچھ زندانی عورت کے بارے میں

میں نے اپنے آپ کو جب بھی عورت کے روپ میں دیکھا، اچھا لگا۔ مجھے کبھی اپنے عورت ہونے پر شرمساری نہیں ہوئی۔ ہو بھی کیسے سکتی ہے کہ میں نے عورت ہونے کو اپنا فخر سمجھا ہے۔ میرے ابا شعور سنبھالنے سے پہلے ہی میرے کانوں میں عورت کے وقار کا سبق پڑھایا کرتے تھے۔ انھوں نے کبھی مجھے یہ احساس ہی نہیں ہونے دیا کہ میں عورت ہوں، بوجھ ہوں، کمزور ہوں اور غیر ضروری چیز ہوں۔ ہم تین بہنیں اور ایک بھائی ہمیشہ سے ایک دوسرے کے لیے جیے۔ کبھی ایک دوسرے میں کسی قسم کی مسابقت اور برتری کو محسوس نہ کیا۔ ابا مرحوم نے ہماری تربیت ایسی کی تھی کہ کبھی مرد اور عورت میں فرق کا اندیشہ لاحق نہ ہوا۔
ہماری اماں بھی کمال کی خاتون خانہ ہیں انھوں نے روایتی عورتوں کی طرح کبھی گھر میں جھگڑا نہیں کیا اور نہ ہی ابا کو ٹف ٹائم دیا۔ انھیں ہمیشہ ہنستے مسکراتے ہوئے ہر قسم کی آزمائش سے گزرتے دیکھا۔ ابا کی کمی ہمیشہ رہے گی لیکن ان کے جانے سے اُن کے دئیے ہوئے افکار ہم میں ہمیشہ کے لیے باقی رہ گئے۔
میں نوے کی دہائی میں شعور سنبھالا تو اپنے ارد گرد میلی کچیلی پھٹی پرانی سوچ و وضع کی عورتوں کو دیکھا جن سے بات کرکے مایوسی ہوتی اور یوں لگتا جیسے یہ اپنے ہونے سے بیزار ہیں۔ کبھی کبھی سوچتی کہ عورت ایسی کیوں ہوتی ہے۔ لڑکپن گزرا، جوانی آئی اور گزر گئی لیکن جوان ہونے کا پتہ ہی نہ چلا۔ آج کسی لڑکی کے بارے میں سنتی ہوں کہ وہ اپنے عاشق کے ساتھ بھاگ گئی تو حیرت ہوتی ہے کہ اس میں گھر سے بھاگنے والی کیا بات ہے۔ یعنی آج بھی ہمارے سماج میں عورت کو اپنے حق اور آزادی کے لیے گھر سے بھاگنا پڑتا ہے۔ یہ کیسی آزادی ہے اور کیسا حق ہے جو اپنے گھر، سماج، روایت، تہذیب اور اقدار سے انسان کو دور کر دے۔
ہمارے والدین اگر بیٹی اور بیٹے میں فرق نہ کریں تو کبھی عورت کو اپنے عورت ہونے پر شرمساری نہ ہو۔ وقت بدل رہا ہے اب ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں جہاں پوری دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے۔ سوشل میڈیا نے پوری دنیا کو ایک کلک پر جمع کر دیا ہے اب آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں اکیلے اور تنہا نہیں ہیں۔ آپ اپنی مرضی سے خودکُشی کر لیں، زمانے سے تنہا ہوجائیں اور کمرے کی چار دیواری میں خود کو دفن کر لیں لیکن زمانہ آپ سے دور نہیں ہوسکتا۔
آج کے اس سوشل میڈیا دور میں جہاں مرد اور عورت میں اس لحاذ سے کوئی فرق نہیں کہ تعلیم ملازمت اور شادی کے معاملے میں دونوں کی حیثیت برابر دیکھی جاتی ہے۔ وہ زمانہ ختم ہوا جب عورت کو گھر کی چار دیواری میں قید رکھا جاتا تھا اس کا قرآن سے نکاح کر دیا جاتا ہے اور اس کے حصے میں آنے والی جائیداد کو بھائیوں کے نام کر دیا جاتا ہے۔ اب عورت اپنے حق کے لیے رائے دیتی ہے، اختلاف کرتی ہے، جہد کرتی ہے، آگے بڑھتی ہے اور ہتھیار کی جگہ علم کا جھنڈا لے کر اپنے حصے پر قابض نظام کو چیلنج کرتی ہے۔
پاکستانی عورت کو خود سے کوئی ناراضی ہے تو وہ کوئی دور نہیں کرسکتا لیکن زمانہ، حالات، وقت اور ریاست عورت کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت کو پوری طرح آزادی آج بھی میسر نہیں ہے۔ ظاہری اور باطنی حقیقت میں بہت فرق ہے۔ لوگ جیسے دکھائی دیتے ہیں ویسے نظر نہیں آتے ان کے ہاں آج بھی اونچ نیچ اور ذات پات کا تصور موجود ہے جسے کسی نہ کسی صورت میں رائج رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن عورت کا روایتی رونا آج بے معنی ہوگیا ہے۔
آج کی عورت باشعور ہے اور پڑھی لکھی ہے وہ اپنے حق کے لیے آواز اُٹھا سکتی ہے اور اپنا حق عزت اور وقار کے ساتھ لے سکتی ہے۔ میں ذاتی طو ر پر عورت کو مظلوم سمجھنے سے قاصر ہوں۔ روایتی عورتوں کی اس کہنہ سوچ سے باہر نکلنا ہوگا کہ کوئی ایسا خاندان ہوگا جہاں بیٹے کے مقابلے میں بیٹی کو پڑھایا نہ جاتا ہو۔ ہاں یہ فرق ضرور آیا ہے کہ پڑھی لکھی اور ملازمت پیشہ خواتین کے ہاں ایک رکھ رکھاؤ اور روکھا رویہ ضرور تشکیل پایا ہے جس سے مجھے بھی اختلاف ہے۔
عورت نے اپنی ذات کو کہیں کہیں ظاہری خودداری کے سو کالڈ ماڈرن تصور کے اظہار کے لیے منفی استعمال ضرور کیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر عورت جو ملازمت پیشہ ہے وہ پیسہ کماتی ہے اور اپنی ذات کے علاوہ کسی پر خرچ نہیں کرتی۔ عورت آج بھی صابر، شاکر، قربانی دینے اور اطاعت گزار ہے البتہ مردوں نے اپنے روئیے تبدیل نہیں کیے۔
آج بھی پدرسری نظام یہ چاہتا ہے کہ مذہب و معاشرت کی آڑ میں عورتوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جائے، ان کی آواز کو دبایا جائے اور ان کے پروں کو کاٹ کر خودساختہ پنجرے میں ڈالا جائے۔ میں ایک زمانے تک عورت کے حق میں لکھنے اور اس کی مظلومیت کو واضح سے ہچکچاتی رہی کہ حالات کی سنگینی نے وقت ہی نہیں دیا کہ کالم لکھوں اور اپنی آرا کا اظہار کروں۔
بعض عورتیں ایسی ہیں جنھیں وجود کے اعتبار سے عورت ہی دیکھا جاتا ہے لیکن عملی طور پر وہ مردوں سے زیادہ فرائض انجام دیتی ہیں۔ میرے ابا مجھے اکثر کہا کرتے تھے کہ عظمی میرا بیٹا ہے۔ مجھے اس جملے کی سمجھ نہیں آتی تھی۔ ان کی طویل بیماری اور وفات کے بعد کے حالات اور آزمائشوں نے مجھے اس جملے کو اس طرح سمجھایا کہ گھر کیسے چلانا ہے۔ بہن بھائیوں کی شادیاں کیسے کرنی ہے، خود کو کیسے مینج کرنا ہے اور پھر دوسروں کی خواہش کے لیے اپنے خوابوں کو کیسے مارنا ہے۔
مجھے یہ احساس ہوا کہ وجود کے فرق سے انسان کے فرائض نہیں بدل سکتے۔ اب یہ فرق صرف بناوٹ اور خدوخال کا رہ گیا ہے کہ میں عورت ہوں اور آپ مرد ہیں۔ فرائض کی انجام دہی میں سب ایک ہی لائن میں اور احوال میں خود کو سکوں کی طرح صرف کر رہے ہوتے ہیں۔ خوشی اور اطمینان کی بات یہ کہ میں نے اپنے حصے کے قرض اور فرض خو ش اسلوبی سے ادا کیے اور مجھ پر یہ منکشف ہوا کہ خدائے مہربان ابدان کی بناوٹ کی تفریق کو نہیں دیکھتا۔
"زندانی عورت" میرے کالمز کا مجموعہ انتخاب ہے جو میں ڈیلی کالمز میں گاہے گاہے لکھتی رہی ہوں۔ ان کالمز میں عورت سے وابستہ توقعات اور تصورات کو میں نے اپنی سوچ، فکر اور بیانیے کے اعتبار سے بیان کیا ہے۔ ان کالموں کو پڑھتے ہوئے آپ کہیں مجھ سے اختلاف کریں گے اور کہیں اتفاق۔ قاری اور مصنف کا معاملہ بھی دلچسپ ہے کہ قاری کو کچھ بھی پسند نہیں آتا اور مصنف ہر ہر سطر میں اپنی تکلیف کا درد محسوس کر رہا ہوتا ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ کے آپ بعد آپ فیصلہ کریں گے کہ آج کی عورت زندانی ہے یا نہیں۔
قوی امید ہے یہ کالمز آپ کو عورت کے بارے میں مزید جاننے اور اس کی شخصیت، فکر، روئیے اور نفسیات کو سمجھنے میں معاون ہوں گے۔ میں ورلڈ ویو پبلشرز کے روحِ رواں جناب کامران احمد مقصود کی شکر گزار ہوں کہ انھوں نے اس کتاب کو شائع کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔

