Aah, Bechari Aurat
آہ، بے چاری عورت

عورت معاشرے کی سب سے خوب صورت تخلیق بھی ہے اور سب سے زیادہ مظلوم وجود بھی۔ پاکستان کے محلےکوچوں سے لے کر سیاست کے ایوانوں تک عورت کے نام پر عزت کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔ عورت کو ماں، بہن، بیٹی کا مقدس رتبہ دیا جاتا ہے۔ عورت کے قدموں تلے جنت تلاش کی جاتی ہے، پھر اسی عورت کو زندگی کے ہر موڑ پر ذلت، خوف، تشدد اور محرومی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ گھر کی چار دیواری سے دفتر کے کمروں تک عورت مسلسل اپنے وجود کی جنگ لڑ رہی ہے۔
پاکستان میں عورت کے خلاف تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ 2025 کی مختلف رپورٹس کے مطابق خواتین پر تشدد، اغوا، عصمت دری، گھریلو تشدد اور غیرت کے نام پر قتل کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2025 میں خواتین پر تشدد کے 6543 کیسز سامنے آئے جبکہ غیرت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین کی تعداد 470 رہی۔ یہ صرف وہ عورتیں ہیں جن کی چیخیں اعداد و شمار تک پہنچ سکیں۔ اس کے برعکس ہزاروں عورتیں ایسی بھی ہیں جو خوف، غربت، خاندان یا معاشرتی دباؤ کے باعث خاموش قبروں کی طرح زندہ ہیں۔
پاکستانی عورت کی زندگی عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف اشتہارات میں عورت کے جسم کو فروخت کی علامت بنایا جاتا ہے۔ صابن سے لے کر موبائل فون تک ہر شے عورت کے چہرے اور جسم کے ذریعے بیچی جاتی ہے۔ دوسری طرف اسی عورت کے لباس، ہنسی، آواز اور چلنے کے انداز پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ مردانہ سماج عورت کو آزادی کا خواب دکھاتا ہے، پھر اسی آزادی کو بے حیائی کا نام دے کر اس کی تذلیل کرتا ہے۔ میڈیا اور سرمایہ دارانہ نظام نے عورت کو انسان سے زیادہ کموڈٹی میں تبدیل کر دیا ہے۔ حُسن اب شخصیت نہیں، کاروبار بن چکا ہے۔
عورت مردوں کے جھانسے میں اتنی آسانی سے کیوں آجاتی ہے؟ اس سوال کا جواب عورت کی جسمانی کمزوری میں کم، معاشرے کی ساخت میں زیادہ پوشیدہ ہے۔ بچپن سے عورت کو محبت، قربانی، فرمانبرداری اور سہارا ڈھونڈنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ لڑکی کو بتایا جاتا ہے کہ اس کی کامیابی کسی مرد کی رضا میں ہے۔ یہی نفسیاتی تربیت اسے جذباتی استحصال کا شکار بناتی ہے۔ مرد محبت کے نام پر خواب بیچتا ہے، عورت انہی خوابوں کو اپنی زندگی سمجھ بیٹھتی ہے۔ سوشل میڈیا نے اس استحصال کو مزید خطرناک بنادیا ہے۔ جعلی محبتیں، آن لائن بلیک میلنگ، جذباتی دھوکا اور جسمانی استحصال جیسے سانحے نئی شکلوں میں سامنے آرہے ہیں۔
پاکستانی عورت کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کی پہچان آج بھی کسی مرد کے رشتے سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ کسی کی بیٹی ہے، کسی کی بیوی ہے اور کسی کی ماں ہے۔ بطور انسان اس کی انفرادی شناخت بہت کم تسلیم کی جاتی ہے۔ ایک مرد ناکام ہوجائے تو اسے دوبارہ موقع مل جاتا ہے۔ عورت ایک بار ٹھوکر کھالے تو پورا معاشرہ اس کے کردار کا مُنصف بن جاتا ہے۔ عورت کی عزت کو خاندان کی عزت سے جوڑ دیا گیا ہے جبکہ مرد کی اخلاقیات کو کبھی خاندان کی عزت نہیں سمجھا گیا۔
کیا عورت کو کبھی حقیقی آزادی مل سکے گی؟ یہ سوال آج بھی پاکستانی سماج کے ماتھے پر لکھی ہوئی بے چینی ہے۔ آزادی صرف گھر سے باہر نکلنے کا نام نہیں۔ آزادی، سوچ، فیصلے، تعلیم، روزگار، تحفظ اور اظہار کا نام ہے۔ پاکستانی عورت تعلیم حاصل کررہی ہے، ملازمت کررہی ہے، سیاست، صحافت، ادب اور کاروبار میں اپنی جگہ بنارہی ہے پھر بھی اس کے قدموں میں صدیوں پرانی زنجیریں بندھی ہوئی ہیں۔ دیہات کی عورت آج بھی کھیتوں میں کام کرتی ہے، گھروں میں مزدوری کرتی ہے پھر بھی اس کی کمائی مرد کے نام لکھی جاتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں خواتین کی بڑی تعداد غیر رسمی یا بلا معاوضہ کام کرتی ہے جبکہ معاشی خودمختاری انتہائی محدود ہے۔
ترقی یافتہ ممالک کی خواتین کے مقابلے میں 2026 کی پاکستانی عورت بہت پیچھے کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ یورپ اور مغربی دنیا کی عورت کو مکمل جنت حاصل نہیں ہوئی، وہاں بھی استحصال موجود ہے، اس کے باوجود قانون، تعلیم، معاشی خودمختاری اور سماجی تحفظ نے عورت کو وہاں ایک مضبوط شناخت دی ہے۔ پاکستانی عورت آج بھی بنیادی تحفظ کے لیے خاندان یا مرد کی محتاج محسوس ہوتی ہے۔ عدالتوں میں انصاف سُست ہے، پولیس میں ہمدردی کم ہے، سماج میں عورت کی گواہی اکثر شک کی نظر سے دیکھی جاتی ہے۔ بیشتر رپورٹس کے مطابق خواتین پر تشدد کے مقدمات میں سزا کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔
کیا عورت ہمیشہ مرد اور معاشرے کے زیرِ اطاعت رہے گی؟ تاریخ کا جواب نفی میں ہے۔ عورت نے ہر دور میں مزاحمت کی ہے۔ وہ تعلیم حاصل کرکے نکلی، اس نے قلم اٹھایا، عدالتوں میں آواز بلند کی، ظلم کے خلاف کھڑی ہوئی۔ پاکستانی عورت اب خاموش نہیں رہی۔ اس کی آواز کمزور ضرور ہے، ختم نہیں ہوئی۔ ہر وہ لڑکی جو تعلیم کے لیے لڑ رہی ہے، ہر وہ عورت جو گھریلو تشدد کے خلاف بول رہی ہے، ہر وہ ماں جو اپنی بیٹی کو خودمختار بنانا چاہتی ہےوہ اس معاشرے کے تاریک ذہن کے خلاف ایک خاموش انقلاب ہے۔
عورت ہونا کافی کیوں نہیں؟ اس لیے کہ پاکستانی معاشرے نے عورت کو انسان سے زیادہ کردار بنا دیا ہے۔ اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خاموش رہے، برداشت کرے، قربانی دے، معاف کرے، ٹوٹ جائے، پھر بھی مسکراتی رہے۔ عورت کو اپنی ذات کے ساتھ جینے کا حق کم ہی دیا جاتا ہے۔
پاکستانی معاشرہ اس وقت تک مہذب نہیں کہلا سکتا جب تک عورت کو مکمل انسان تسلیم نہ کیا جائے۔ عورت کو ہمدردی نہیں، انصاف چاہیے۔
عورت کو نعروں سے زیادہ تحفظ چاہیے۔ عورت کو آزادی کے نام پر استعمال نہیں، عزت کے ساتھ جینے کا حق چاہیے۔
جس دن عورت کو مرد کے سہارے کے بغیر مکمل انسان مان لیا گیا، اس دن یہ معاشرہ حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ کہلائے گا۔

