Tuesday, 28 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Saif Wallahray
  4. Edward Said: Istashraq Aur Ma Baad e Nau Abadiyati Fikr (2)

Edward Said: Istashraq Aur Ma Baad e Nau Abadiyati Fikr (2)

ایڈورڈ سعید: استشراق اور مابعد نوآبادیاتی فکر (2)

رات کے آخری پہر ایک قدیم کتب خانے کی خاموش فضا میں جب گرد آلود مخطوطات کے اوراق بے اختیار الٹنے لگتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ خود اپنے گواہ طلب کر رہی ہو۔ صدیوں پرانے الفاظ سرگوشی کرتے ہیں کہ سلطنتیں صرف لشکروں سے قائم نہیں ہوتیں، ان کی بنیاد پہلے ذہنوں میں رکھی جاتی ہے، پھر نقشوں پر لکیر کھینچی جاتی ہے۔ انہی خاموش سرگوشیوں سے ایک ایسا سوال جنم لیتا ہے جس نے بیسویں صدی کے فکری منظرنامے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا: کیا علم حقیقت کی تلاش کا نام ہے، یا اقتدار کی تشکیل کا بھی ایک وسیلہ؟

اسی بنیادی سوال سے ایڈورڈ سعید کی فکری کاوش کا آغاز ہوتا ہے۔ ان کی فکری عظمت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے استشراق کو صرف ایک علمی روایت کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے طاقت کے ایک ایسے منظم نظام کے طور پر سمجھا جس نے کئی صدیوں تک دنیا کے سیاسی، تہذیبی اور ثقافتی نقشے کو تشکیل دیا۔ ان کے نزدیک کسی بھی علمی روایت کا مطالعہ اس کے تاریخی، سیاسی اور معاشی سیاق سے الگ ہو کر نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ علم خلا میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ مخصوص طاقت کے ڈھانچوں، ریاستی مفادات، تہذیبی تصورات اور معاشرتی اداروں کے درمیان تشکیل پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استشراق کی تنقید دراصل علم کی تنقید بھی ہے اور اقتدار کی بھی۔

مغربی نشاۃِ ثانیہ کے بعد جب یورپ نے سائنسی ترقی، صنعتی انقلاب اور جدید قومی ریاست کے تصورات کو فروغ دیا تو اس کے ساتھ ہی اس کی سیاسی توسیع کا عمل بھی تیز ہوتا گیا۔ سمندری راستوں کی دریافت، تجارتی کمپنیوں کا قیام، عسکری طاقت کی مضبوطی اور سرمایہ دارانہ معیشت کے فروغ نے یورپ کو ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ تک پہنچا دیا۔ لیکن کسی بھی قبضے کو صرف فوجی قوت کے ذریعے دیرپا نہیں بنایا جا سکتا تھا۔ اس کے لیے ایک ایسا فکری جواز بھی درکار تھا جو استعمار کو ظلم نہیں بلکہ تہذیبی خدمت ثابت کرے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں استشراق نے ایک خاموش مگر نہایت مؤثر کردار ادا کیا۔

مستشرقین نے مشرقی معاشروں کا مطالعہ ضرور کیا، لیکن یہ مطالعہ ہمیشہ مساوی تعلق کی بنیاد پر نہیں تھا۔ مشرق کو ایک ایسے "موضوع" (Object) میں تبدیل کر دیا گیا جسے مغرب اپنی علمی نگاہ سے دیکھے، اس کی تعبیر کرے اور اس کی شناخت متعین کرے۔ اس عمل میں مشرق کی اپنی آواز، اپنی تعبیر اور اپنی داخلی فکری روایت کو ثانوی حیثیت دے دی گئی۔ گویا مشرق کو بولنے کے بجائے اس کے بارے میں بولا جانے لگا اور یہی نمائندگی کا بحران (Crisis of Representation) تھا جسے ایڈورڈ سعید نے پوری قوت کے ساتھ بے نقاب کیا۔

یہاں ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مغربی مستشرقین نے عربی سیکھی، فارسی پڑھی، اسلامی تاریخ لکھی اور مشرقی ادب پر تحقیق کی تو پھر ان کی علمی خدمات کو مشتبہ کیوں سمجھا جائے؟ سعید اس سوال کا نہایت متوازن جواب دیتے ہیں۔ وہ مستشرقین کی محنت، لسانی مہارت یا تحقیقی استعداد کا انکار نہیں کرتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ مسئلہ افراد کا نہیں بلکہ اس علمی نظام کا ہے جس کے اندر وہ کام کر رہے تھے۔ جب پورا علمی ڈھانچہ ہی ایک مخصوص سیاسی تصور کے تابع ہو تو بہترین نیت رکھنے والا محقق بھی غیر محسوس طور پر اسی تصور کو آگے بڑھانے لگتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ استشراق میں مشرق ایک زندہ، متحرک اور تغیر پذیر تہذیب کے بجائے ایک جامد شے کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اسلام کو ایک غیر متبدل مذہب، عرب کو جذباتی انسان، مشرقی عورت کو ہمیشہ مظلوم، مشرقی مرد کو آمر اور مشرقی معاشرے کو جمود کا شکار دنیا کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ یہ عمومی تصورات اتنے بار دہرائے گئے کہ رفتہ رفتہ وہ علمی "حقائق" کا درجہ اختیار کرتے گئے، حالانکہ حقیقت میں مشرق ہمیشہ مختلف زبانوں، مذاہب، ثقافتوں، سیاسی نظاموں اور تاریخی تجربات کا ایک وسیع اور متنوع مجموعہ رہا ہے۔

ایڈورڈ سعید نے اس صورتِ حال کو "علمی اجارہ داری" (Epistemic Monopoly) قرار دیا۔ جب کسی تہذیب کو اپنے بارے میں خود بولنے کا حق نہ دیا جائے اور اس کی تعبیر ہمیشہ دوسرا کرے تو علم ایک غیر جانب دار سرگرمی نہیں رہتا بلکہ طاقت کا آلہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سعید کی فکر جدید علمیات کے بنیادی مباحث سے جڑ جاتی ہے۔

ایڈورڈ سعید کی فکری عظمت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے استشراق کو صرف ایک علمی روایت کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے طاقت کے ایک ایسے منظم نظام کے طور پر سمجھا جس نے کئی صدیوں تک دنیا کے سیاسی، تہذیبی اور ثقافتی نقشے کو تشکیل دیا۔ ان کے نزدیک کسی بھی علمی روایت کا مطالعہ اس کے تاریخی، سیاسی اور معاشی سیاق سے الگ ہو کر نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ علم خلا میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ مخصوص طاقت کے ڈھانچوں، ریاستی مفادات، تہذیبی تصورات اور معاشرتی اداروں کے درمیان تشکیل پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استشراق کی تنقید دراصل علم کی تنقید بھی ہے اور اقتدار کی بھی۔

مغربی نشاۃِ ثانیہ کے بعد جب یورپ نے سائنسی ترقی، صنعتی انقلاب اور جدید قومی ریاست کے تصورات کو فروغ دیا تو اس کے ساتھ ہی اس کی سیاسی توسیع کا عمل بھی تیز ہوتا گیا۔ سمندری راستوں کی دریافت، تجارتی کمپنیوں کا قیام، عسکری طاقت کی مضبوطی اور سرمایہ دارانہ معیشت کے فروغ نے یورپ کو ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ تک پہنچا دیا۔ لیکن کسی بھی قبضے کو صرف فوجی قوت کے ذریعے دیرپا نہیں بنایا جا سکتا تھا۔ اس کے لیے ایک ایسا فکری جواز بھی درکار تھا جو استعمار کو ظلم نہیں بلکہ تہذیبی خدمت ثابت کرے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں استشراق نے ایک خاموش مگر نہایت مؤثر کردار ادا کیا۔

مستشرقین نے مشرقی معاشروں کا مطالعہ ضرور کیا، لیکن یہ مطالعہ ہمیشہ مساوی تعلق کی بنیاد پر نہیں تھا۔ مشرق کو ایک ایسے "موضوع" (Object) میں تبدیل کر دیا گیا جسے مغرب اپنی علمی نگاہ سے دیکھے، اس کی تعبیر کرے اور اس کی شناخت متعین کرے۔ اس عمل میں مشرق کی اپنی آواز، اپنی تعبیر اور اپنی داخلی فکری روایت کو ثانوی حیثیت دے دی گئی۔ گویا مشرق کو بولنے کے بجائے اس کے بارے میں بولا جانے لگا اور یہی نمائندگی کا بحران (Crisis of Representation) تھا جسے ایڈورڈ سعید نے پوری قوت کے ساتھ بے نقاب کیا۔

یہاں ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مغربی مستشرقین نے عربی سیکھی، فارسی پڑھی، اسلامی تاریخ لکھی اور مشرقی ادب پر تحقیق کی تو پھر ان کی علمی خدمات کو مشتبہ کیوں سمجھا جائے؟ سعید اس سوال کا نہایت متوازن جواب دیتے ہیں۔ وہ مستشرقین کی محنت، لسانی مہارت یا تحقیقی استعداد کا انکار نہیں کرتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ مسئلہ افراد کا نہیں بلکہ اس علمی نظام کا ہے جس کے اندر وہ کام کر رہے تھے۔ جب پورا علمی ڈھانچہ ہی ایک مخصوص سیاسی تصور کے تابع ہو تو بہترین نیت رکھنے والا محقق بھی غیر محسوس طور پر اسی تصور کو آگے بڑھانے لگتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ استشراق میں مشرق ایک زندہ، متحرک اور تغیر پذیر تہذیب کے بجائے ایک جامد شے کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اسلام کو ایک غیر متبدل مذہب، عرب کو جذباتی انسان، مشرقی عورت کو ہمیشہ مظلوم، مشرقی مرد کو آمر اور مشرقی معاشرے کو جمود کا شکار دنیا کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ یہ عمومی تصورات اتنے بار دہرائے گئے کہ رفتہ رفتہ وہ علمی "حقائق" کا درجہ اختیار کرتے گئے، حالانکہ حقیقت میں مشرق ہمیشہ مختلف زبانوں، مذاہب، ثقافتوں، سیاسی نظاموں اور تاریخی تجربات کا ایک وسیع اور متنوع مجموعہ رہا ہے۔

ایڈورڈ سعید نے اس صورتِ حال کو "علمی اجارہ داری" (Epistemic Monopoly) قرار دیا۔ جب کسی تہذیب کو اپنے بارے میں خود بولنے کا حق نہ دیا جائے اور اس کی تعبیر ہمیشہ دوسرا کرے تو علم ایک غیر جانب دار سرگرمی نہیں رہتا بلکہ طاقت کا آلہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سعید کی فکر جدید علمیات کے بنیادی مباحث سے جڑ جاتی ہے۔

اس ضمن میں فرانسیسی مفکر مشیل فوکو کا اثر ان کی فکر میں نمایاں نظر آتا ہے۔ فوکو نے استدلال کیا تھا کہ طاقت صرف ریاستی اداروں یا عسکری قوت کا نام نہیں بلکہ وہ پورے معاشرے میں منتشر ہوتی ہے۔ عدالتیں، جامعات، ہسپتال، نصاب، زبان، میڈیا، مذہبی ادارے اور حتیٰ کہ روزمرہ گفتگو بھی طاقت کی تشکیل میں کردار ادا کرتی ہے۔ طاقت اپنے آپ کو صرف جبر کے ذریعے نہیں بلکہ "علم" کے ذریعے بھی قائم رکھتی ہے۔ جو چیز علم کہلاتی ہے، اکثر وہی طاقت کی زبان بھی ہوتی ہے۔

ایڈورڈ سعید نے اسی تصور کو نوآبادیاتی تناظر میں استعمال کیا۔ ان کے مطابق استشراق ایک ایسا علمی ادارہ تھا جس نے مشرق کے بارے میں معلومات پیدا کیں، لیکن ان معلومات کی ترتیب، انتخاب اور تعبیر ہمیشہ مغربی سیاسی مفادات سے ہم آہنگ رہی۔ یوں علم اور طاقت ایک دوسرے کی تکمیل کرنے لگے۔ مستشرق کا قلم نوآبادیاتی افسر کی تلوار سے پہلے پہنچتا تھا، کیونکہ تلوار جسموں کو فتح کرتی ہے جبکہ قلم ذہنوں کو۔

اسی سلسلے میں اطالوی مفکر انتونیو گرامشی کا نظریۂ ثقافتی بالادستی (Cultural Hegemony) بھی سعید کی فکر کو سمجھنے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ گرامشی کے مطابق حکمران طبقہ صرف ریاستی طاقت کے ذریعے حکومت نہیں کرتا بلکہ وہ سماج کی فکری اور ثقافتی قیادت بھی اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ جب محکوم طبقہ حکمران کے نظریات کو ہی "فطری" اور "درست" سمجھنے لگے تو بالادستی مکمل ہو جاتی ہے۔ سعید نے دکھایا کہ نوآبادیاتی طاقتوں نے بھی یہی حکمتِ عملی اختیار کی۔ انہوں نے مشرقی اقوام کو صرف سیاسی طور پر محکوم نہیں بنایا بلکہ ان کے ذہنوں میں اپنی تہذیبی برتری کا تصور بھی راسخ کر دیا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں نوآبادیات صرف زمینوں پر قبضے کا نام نہیں رہتی بلکہ ذہنوں، زبانوں، یادداشتوں اور شناختوں پر تسلط کا عمل بن جاتی ہے۔ استعمار کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ کسی ملک پر حکومت کرے، بلکہ یہ ہے کہ محکوم قوم اپنے بارے میں بھی وہی رائے قائم کر لے جو استعمار اس کے بارے میں رکھتا ہے۔ جب کوئی قوم اپنی زبان سے شرمندہ ہونے لگے، اپنی تاریخ کو کمتر سمجھے، اپنی تہذیب کو فرسودہ قرار دے اور ترقی کا واحد معیار مغربی تقلید کو سمجھنے لگے تو نوآبادیاتی منصوبہ اپنی معراج کو پہنچ جاتا ہے۔

اسی لیے ایڈورڈ سعید کے نزدیک آزادی صرف سیاسی آزادی کا نام نہیں بلکہ فکری آزادی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ اگر ذہن غلام ہوں تو جھنڈوں کی تبدیلی بھی حقیقی آزادی نہیں لا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے "ڈی کولونائزیشن آف دی مائنڈ" یعنی ذہن کی نوآبادیات سے نجات کے تصور کو غیر معمولی اہمیت دی، اگرچہ اس اصطلاح کو بعد میں دیگر مابعد نوآبادیاتی مفکرین نے مزید وسعت دی۔

استشراق کا سب سے گہرا اثر عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ بیسویں اور اکیسویں صدی میں مشرقِ وسطیٰ، اسلام اور مسلمانوں کی جو تصویر مغربی میڈیا میں بارہا دہرائی گئی، وہ اکثر استشراقی تصورات کی توسیع محسوس ہوتی ہے۔ دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی، خواتین کے حقوق، جمہوریت اور انسانی آزادی جیسے موضوعات کو اکثر اس انداز میں پیش کیا گیا کہ پوری مسلم دنیا ایک یکساں اور غیر متنوع خطے کے طور پر دکھائی دینے لگی۔ سعید نے اپنی متعدد تحریروں اور لیکچرز میں اس رجحان پر سخت تنقید کی اور واضح کیا کہ میڈیا بھی جدید دور کا ایک طاقتور ثقافتی ادارہ ہے، جو عوامی شعور کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایڈورڈ سعید کی فکر محض ماضی کی نوآبادیاتی تاریخ کا مطالعہ نہیں بلکہ عصرِ حاضر کی عالمی سیاست کو سمجھنے کی بھی ایک مؤثر کلید ہے۔ آج جب معلومات کی ترسیل چند عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، میڈیا کارپوریشنز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظاموں کے ذریعے ہو رہی ہے تو یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے کہ علم کون پیدا کر رہا ہے؟ بیانیہ کون تشکیل دے رہا ہے؟ حقیقت کی تعبیر کس کے ہاتھ میں ہے؟ اور دنیا کے مختلف معاشروں کی نمائندگی کس زاویۂ نظر سے کی جا رہی ہے؟

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایڈورڈ سعید کی فکر صرف استشراق کی تنقید تک محدود نہیں بلکہ وہ ہر اس علمی، ثقافتی اور سیاسی نظام پر سوال اٹھاتی ہے جو طاقت کو علم کا لباس پہنا کر پیش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں آج بھی دنیا بھر کی جامعات، تحقیقی اداروں اور علمی مباحث میں اسی شدت سے پڑھی جاتی ہیں جس شدت سے ان کی اشاعت کے وقت پڑھی گئی تھیں، بلکہ ڈیجیٹل استعمار، معلوماتی اجارہ داری اور عالمی میڈیا کے عہد میں ان کی معنویت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

Check Also

Zahaar

By Muhammad Hanif