Thursday, 28 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Kashif Hussain
  4. Shikwa: Allama Iqbal Ki Nazm Ka Mukhtasar Taruf (1)

Shikwa: Allama Iqbal Ki Nazm Ka Mukhtasar Taruf (1)

شکوہ: علامہ اقبال کی نظم کا مختصر تعارف (1)

ہمارے بچپن میں اقبال کا اخباروں اور ٹی وی پر بڑا چرچا تھا۔ اردو ادب میں ان پر مضمون لکھنے کیلیے تھوڑا بہت پڑھا۔ پھر ہم بھی معاش کی بیل گاڑی میں جت گئے۔ چند سال پہلے پیرنٹنگ کے ایک کورس میں کسی نے علامہ کا ذکر چھیڑا تو سب احباب، دوست اقبال کا نام سن کر خوب چہکے اور پھر جب مربی نے نشست سنبھالی تو سب چہکنے والے ماند پڑ گئے۔ دل نے کہا کہ مربی کے ساتھ ان لمحوں اور صحبت کو غنیمت جانو۔ کل کا کسے معلوم ہے۔ یہ منظر بھی شاید نہ رہے۔ بقول مربی علامہ اقبال کی مشہور نظم "شکوہ" اردو شاعری اور اسلامی فکر میں اہم مقام رکھتی ہے۔

اس نظم سے اقبال کے ابتدائی دور کی فکری سطح اور اخلاص کی بلندی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ شاعر طبیب بن جائے جس نے بھی اقبال کو حکیم کہا صحیح کہا کہ اقبال کو خدا نے امت کا علاج حکمت سے کرنے کی صلاحیت بخشی تھی۔ اقبال کے ملازمین کا کہنا تھا کہ جب اقبال قران کی تلاوت کرتے تھے تو اوراق آنسووں سے تر ہو جاتے تھے اور بعد میں مصحف کو دھوپ میں رکھ کر سکھایا جاتا تھا۔ یہ بات اقبال کی بیٹی منیرہ نے بھی بیان کی۔

اقبال کا فکری نطام، جذبہ اور اخلاص بہت بلند اور عمیق ہے۔ جسے سمجھنے کیلئے بھی علم و فکر کی بلندی درکار ہے۔ اقبال کے ایک ساتھی غلام رسول مہر نے ان کی رفاقت میں 12-14 سال گزارے اور ان کے ساتھ کئی سفر بھی کرنے کا موقع ملا۔ کلام اقبال کے مستند اور بنیادی مفاہیم بھی بیان کئے۔ جب غلام رسول مہر سے دوستوں نے اصرار کیا کہ اقبال کی اشعار کے بعض مطالب اور تاویل بہت غلط ہیں اور اقبال کے اشعار سے منسلک کئے جانے والے معانی انکی فکر اور سوچ سے بہت دور ہیں اور اقبال کا یہ مطلب تو نہیں ہو سکتا۔ تو غلام رسول مہر پریشان ہو گئے کہ اس کام کا حق کیسے ادا کروں گا۔ پھر انھوں نے مطالب بانگ درا، بال جبریل، ضرب کلیم پر اہم کام کیا۔ ان کی اس ساری کاوشوں پر ہم اعتماد اور بھروسہ کر سکتے ہیں کیوں کہ آپ نے اقبال کے رفیق کے طور پر بھی کام کیا۔ انکے ساتھ سفر کرنے کا موقع بھی ملا ان سے براہ راست کلام اور اشعار پر بات کی۔ اس کے باوجود انہوں نے بھی اپنی کم مائیگی کا اظہار کیا۔ یہی رویہ ہمارے مربی کا بھی ہے۔ عمل اور فہم میں مربی ان تمام گذارشات کو طالب علمانہ قرار دیتے ہیں۔

ہمیں اقبال پر بات کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ ہر عہد کے اپنے سوال ہوتے ہیں اور ہر عہد کی ایک آزمائش ہوتی ہے۔ پچھلے 300 سالوں سے آزمائش کا جو باب کھلا ہے بہت سے اہل علم اس بات سے متفق ہیں کہ یہ آزمائش کافی منفرد نظر آتی ہے اس میں ایمان، روایت، اخلاص اور مذہبی اصلاحات کو بدل کر رکھ دیا۔ جو پہلے منکر تھا اب معروف ہوگیا۔ یہ اس عہد کا کمال ہے۔ یہ اقبال کا احسان ہے کہ انہوں نے اپنے عہد کے ان معاملات کا بہت علمی اور فکری انداز میں عمیق اور موقدانہ جائزہ لیا اور خوبصورت نشاندہی کی۔ جدید تہذیب کے عہد میں ہونے والے شرور اور اس سے منسلک معاملات کا جائزہ لیا۔ اس عہد میں مسلمان مجموعی طور پر محکومی کی زندگی گزار رہے تھے۔ اس منظر نامے میں ایسے شخص کی ضروت تھی جو اسلام کی روح سے بھی واقف ہو اور عہد حاضر کے مسائل کو سمجھتا بھی ہو اور حل کا راستہ بھی دکھا سکے۔ اقبال نے یہ کام بخوبی سرانجام دیا۔

بانگ درا اردو کا پہلا مجموعہ ہے جو 1924 میں شائع ہوا۔ اس سے پہلے اقبال کے فارسی کلام کے مجموعے شائع ہو چکے تھے۔ جن میں اسرارخودی، رموز بے خودی، پیام مشرق، علم الا قتصاد شائع ہو چکے تھے۔ علم الا قتصاد برصغیر میں اقتصادیات کے حوالے سے لکھی جانے والی اولین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اقبال کے خیال میں مسلمانوں کو معیشت سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اقبال کی ان تصانیف سے انکی فکر کی وسعت اورافق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہم جب اپنی محدود سوچ اور فکرکے ساتھ ان کا کلام سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو بڑی مشکل ہوتی ہے۔

بانگ درا دراصل ایک کارواں یا قافلے کا ذکر ہے جو لمبے سفر پر نکلا ہے مگر راستے میں قیام کے دوران منزل کا خیال بھلا کر اس عارضی پڑاو کو منزل مقصود سمجھ لیتا ہے۔ شکوہ 1911 میں کہی گئی ہے۔ جب اقبال کی عمر تقریباََ 35 برس کے قریب ہوگی۔ شکوہ کا اگر پس منظر دیکھیں تو آپ کو مسلمان قومیں یورپی اقوام کے زیر تسلط نظر آتی ہیں۔ مسلمان اس محکومی کے دور میں مرعوبیت، عدم تحفظ، مجبوری، کم ہمتی، پستی اورناامیدی کی نفسیات سے بھرپور تھے۔ امت مسلمہ پر مغرب کی مرعوبیت بری طرح حاوی تھی اور مستقبل کی ناامیدی کی نفسیات نے شعوری جواز پیدا کر دیا تھا کہ اب نکلنے کے اسباب موجود نہیں۔ وہ ہم سے بہتر ہیں اور ہم کمتر ہیں یہ صرف احساس نہیں تھا بلکہ اسکے عقلی دلائل بھی موجود تھے۔

اس بات کا مسلم امہ پر گہرا اثر تھا۔ اقبال اس پس منظر میں یہ نظم کہ رہے ہیں۔ ایک ایسی قوم کا نمائندہ مایوسی کے سمندر میں امید کا بہت بلند پرچم لے کر کھڑا ہے۔ اس قوم کی مرعوبی نفسیات کے نتیجے میں جو رویہ پیدا ہوتا ہے وہ شکایتی ہوتا ہے اس میں چڑچڑاہت اور بے بسی کا اظہار ہوتا ہے۔ شکایت شکر کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ شکر بندگی کا وہ جوہر ہے جس سے مسلمان محروم ہو رہے ہیں۔ بانگ درا کے تین حصے ہیں۔ یہ نظم تیسرے حصے میں موجود ہے۔ بانگ درا کے دوسرے حصے میں ایک نظم عاشق ہرجائی کا بہت خوبصورت شعر ہے۔

مجھ کو پیدا کرکے اپنا نکتہ چیں پیدا کیا

نقش ہوں اپنے مصور سے گلا رکھتا ہوں میں

یہ شعر غالباََ 1905-1908 کے دور کا ہوگا۔ اس شعر میں اقبال کا اضطراب نمایاں ہے اور انکے ذہنی سفر کی بلوغت کا سفر نظر آتا ہے۔ اقبال کے علمی اور فکری سفر کا افق دکھتا ہے۔ بہت سے شارحین کہتے ہیں کہ شکوہ سے جو ارتعاش پیدا ہوا وہ بعد کی کئی نظموں میں نظر آتا ہے۔ شاعر کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ عام آدمی کے محسوسات کو زبان دے سکے اور ان کے خیالات کی ترجمانی کرسکے۔ حکیمانہ شاعری کا فیض یہ ہوتا یے کہ عام آدمی کے شعور کو بلند کر سکے۔ اقبال کی شاعری میں یہ دونوں عمومی اور خصوصی پہلو نظرآتے ہیں۔ شاعری پڑھنے سے پہلے سننے کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ کلام پڑھنے کی چیز بعد میں ہے اور سننے کی چیز پہلے ہے۔ جب شاعر کہتا ہے کہ میں نے رات ایک غزل کہی تو کیا اس نے یہ غزل رات میں کسی کوکہی؟ نہیں یہ تو کلام پہلے ہے اور سپیسچ بعد میں ہے۔

بہت سے لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے کہ ہمیں ان کا کلام سبجھ نہیں آتا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کو اس کلام کی سماعت کا تجربہ کم ہوا ہے۔ کسی کلام سے محبت اس کی سماعت میں پنہاں ہے۔ اس کی خوبصورت مثال کلام الہی کی ہے۔ جب آپ محبت سے کلام الہی سننے لگیں تو آہستہ آہستہ اس کلام کو سننے کی نتیجے میں کلام الہی سے تعلق پیدا ہو جائے گا۔ یہ کلام کی تاثیر ہے۔ شاعری میں یہ وصف موجود ہے۔ ضیا محی الدین سے اقبال اکیڈمی کے ڈائیریکٹر سہیل عمر نے درخواست کی کہ اقبال اکیڈمی پورا کلام اقبال ان کی آواز میں ریکارڈ کرنا چاہتی ہے۔ ضیا محی الدین کو اس پر راضی کرنا آسان نہ تھا۔ ضیا صاحب کا اپنا ذوق تھا کیوں کہ وہ کسی ٹیوشن سنٹر کے استاد کی طرح کریش کورس نہیں کراتے تھے کہ اقبال کے کلام کا شبینہ ہو جائے اور چند دنوں میں سارا کلام ریکارڈ کر لیا جائے۔ خدا مغفرت کرے ان حضرات کی جنھوں نے اس خوبصورت اور معیاری کام کو سرانجام دیا۔

ہم میں سے جو شخص بھی کلام اقبال سے مناسبت اور ذوق پیدا کرنا چاہے تو ضیا صاحب کا کلام یقیناََ مفید ہوگا۔ شکوہ کے 31 بند ہیں اور یہ اقبال کی طویل نظموں میں سے ہے۔ یہ نطم مسدس ہے یعنی ایسی نظم جسکا ہر بند چھ مصرعوں پر مشتمل ہو۔ مسدس کی روایت اردو میں موجود تھی اس روایت میں مسدس حالی کافی مقبول ہے۔ شکوہ امت مسلمہ کا مرثیہ ہے۔ مرثیے کی روایت بھی برصغیر میں کافی مقبول تھی جس نے دکن اور دلی کو عجب مزاج بخشا۔ اقبال نے شکوہ میں مسدس اور مرثیہ کا استعمال کیا۔ مولانا حالی کا شکوہ برصغیرکے معاشرتی شعور میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔ کیونکہ اس میں نوآبادیاتی استحصال پر تنقید کی گئی، مسلمانوں کے سماجی و سیاسی زوال پر افسوس کیا گیا اور اشرافیہ میں خود اصلاحی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ تاہم مجموعی طور پراس میں یاسیت اور نا امیدی کا عنصرزیادہ نمایاں ہے۔

احساس کی سطح پر حالی کے مسدس اور شکوہ کو ماسٹر پیس قرار دیا جاتا ہے۔ اقبال کے مرثیے میں خاص بات یہ ہے کہ اس کا اختتام رجائیت پر ہو رہا ہے اس کی معنوی انفرادیت اس میں نمایاں ہے۔ حالی کے مرثیے میں امت کے زوال کے اسباب کچھ اور ہیں جبکہ اقبال کے نزدیک امت کے زوال کے اسباب مختلف ہیں۔ ایک امت مسلمہ کا حال ہے اور ایک روایت ہے۔ حالی کا دائرہ کار روایت پر بھی چلا جاتا ہے جبکہ اقبال اپنی شکایت مسلم امہ کے حال پررکھتے ہیں اور روایت سے نکال کر دکھاتے ہیں کہ ہمارے کرنے کے اصل کام کیا ہیں؟ دونوں کے شعور اور احساس کے افق میں فرق نظر آتا ہے۔

جاری ہے۔۔

کتاب مقدس سے آواز آتی ہے۔ بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے نشانی ہے۔ (سورت حجر۔ آیت 77)

Check Also

Patang Bazi Aur Pulao Wala Pateela

By Ashfaq Inayat Kahlon