Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Ijaz Ahmad
  4. Sirf Aik Nehr

Sirf Aik Nehr

صرف ایک نہر

لاہور ایک اپنا مخصوص ثقافتی ورثہ رکھتا ہے۔ اس شہر کی ایک پہچان وہ تاریخی نہر بھی ہے جو دہائیوں سے لاہور کے سینے پر ایک نیلگوں لکیر کی مانند بہتی آ رہی ہے۔ یہ نہر صرف پانی کا راستہ نہیں بلکہ لاہور کی تاریخ، خوبصورتی، ماحول اور شہری زندگی کی علامت ہے۔ آج یہ نہر لاہور کو دو حصوں میں تقسیم کرتی دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ شہر کے دو حصوں کو جوڑنے والی ایک تہذیبی رگ کے طور پر بھی اپنا حصہ ڈالتی نظر آتی ہے۔

اس نہر کی بنیاد برصغیر کے قدیم آبپاشی نظام سے جڑی ہوئی ہے۔ مال روڈ سے لے کر جیل روڈ، گلبرگ، دھرم پورہ اور دیگر علاقوں تک اس کے کنارے لاہور کی ترقی کے گواہ بنے۔ لاہوریوں کے لئے یہ نہر گرمیوں میں آب حیات سے کم نہیں تھی۔ ہمارے ہاں پتہ نہیں کیوں افسر شاہی ایسا حکم نامہ جاری کرتے ہیں۔ جس میں خوف کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔ اب اس نہر پر نہانے پکنک منانے کی سرکاری سطح پر ممانعت ہے۔ دنیا ایسے پوائنٹس سے سیاحت کو فروغ دیتی ہے۔ حکومت کے لئے کمائی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اگر اس نہر کو سیاحتی مقام کی طرز پر جدید خطوط پر استوار کیا جائے تو لاہور کی سطح پر حکومت کے لئے یہ ایک کماؤ پتر بن سکتی ہے۔ پر شرط ایک اس کو افسر شاہی کے ہاتھ میں نہ دیا جائے۔ بلکہ موبائل ایپ کے ذریعے اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بنایا جائے جو کہ ایک خود کار نظام پر مبنی ہو اور اس کی ٹکٹ کی کمائی سیدھی حکومت کے خزانے میں جائے۔

گرمیوں کی شامیں ہوں یا بہار کے دن، لاہور کی نہر ہمیشہ شہریوں کے جذبات کا حصہ رہی ہے۔ یہ نہر صرف پانی نہیں بہاتی، بلکہ یادیں، کہانیاں اور نسلوں کی سانسیں اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے۔ دکھ کی بات یہ کہ بجائے اس کے پانی کو شفاف رکھنے کے ہم نے خود اس میں سیوریج ڈالی ہوئی اسی سی ہماری ترجیحات واضح ہو جاتی ہےآج یہ تاریخی نہر ماحولیاتی دباؤ، بے ہنگم ٹریفک، آلودگی اور غیر منصوبہ بندی کا شکار نظر آتی ہے۔

کئی مقامات پر پانی کی صفائی کا مسئلہ موجود ہے، حکومت بغیر سوچے سمجھے اپنے من پسند نا تجربہ کار لوگوں کے ذریعے عوام کے پیسے کا ضیاع کر رہی ہے۔ کبھی بجلی کا بے دریغ استعمال جب کہ ہم توانائی کے کرائسسس سے گزر رہے ہیں۔ عوام کو بجلی کی بچت کا درس دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف مال روڈ نہر کے اطراف بدصورتی جھلکتی روشنی عوام کے غم وغصہ میں اضافہ کا باعث بن رہی ہے۔ جب حکومت بچت پالیسی نافذ کرے تو سب سے پہلے خود رول ماڈل بنے۔ اس سے عوام کے اندر بھی شعور بیدار ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ہمیشہ الٹی گنگا بہتی ہے۔

ٹریفک کے بڑھتے دباؤ نے نہر کو صرف ایک سڑک کے بیچ بہتے پانی تک محدود کر دیا ہے۔ شور، دھواں اور تجاوزات اس تاریخی ورثے کی خوبصورتی کو متاثر کر رہے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والی نسلیں شاید اس نہر کو صرف تصویروں اور قصوں میں ہی دیکھ سکیں گی۔

پنجاب حکومت اگر سنجیدہ منصوبہ بندی کرے تو لاہور کی نہر ایک عظیم عوامی اور معاشی منصوبہ بن سکتی ہے۔ نہر کے دونوں اطراف خوبصورت واکنگ ٹریک اور سائیکل لینز بنائی جا سکتی ہیں تاکہ شہری صحت مند سرگرمیوں کی طرف آئیں۔ منتخب مقامات پر فیملی پارکس، اوپن کیفے، کتاب کارنرز اور ثقافتی بیٹھکیں بنائی جا سکتی ہیں، جس سے شہریوں کو تفریحی مقامات میسر آئیں گے۔

اگر پانی کی صفائی اور بہاؤ بہتر بنایا جائے تو محدود اور محفوظ انداز میں بوٹنگ یا واٹر ٹورازم جیسی سرگرمیاں متعارف کروائی جا سکتی ہیں، جیسا دنیا کے کئی شہروں میں ہوتا ہے۔ تیراکی کے مقابلے کروائے جا سکتے ہیں۔ اپنی نسل کو تیراکی سکھائی جا سکتی ہے۔ میڈیکل کے حوالے کچھ علاج بطور تھیراپی تیراکی سے ممکن ہے۔ موجودہ وزیراعظم اس طریقہ علاج سے بخوبی آگاہ ہیں۔ لیکن یہ چونچلے صرف ایک مخصوص طبقے تک محدود ہیں۔ ان کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔

بہار، جشنِ لاہور یا ادبی میلوں جیسے ثقافتی پروگرام نہر کے کنارے منعقد کیے جا سکتے ہیں، جو شہر کی ثقافت کو فروغ دیں گے۔

نہر کے اطراف مزید درخت لگانے، سولر لائٹس اور گرین بیلٹس بنانے سے لاہور کے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی مسائل میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

یہ نہر صرف خوبصورتی نہیں بلکہ ایک معاشی موقع بھی ہے۔ اوپن کیفے، فوڈ اسٹریٹس اور تفریحی پوائنٹس کے لائسنس جاری کرکے آمدن حاصل کی جا سکتی ہے۔ سیاحتی سرگرمیوں اور بوٹنگ سے ٹکٹنگ ریونیو پیدا ہو سکتا ہے۔ کلچرل ایونٹس اور سپانسرڈ فیسٹیولز حکومت کے لیے مستقل مالی ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اشتہاری حقوق، ڈیجیٹل اسکرینز اور برانڈنگ کے ذریعے بھی خاطر خواہ آمدن ممکن ہے۔

نہر کے اطراف گرین ٹورازم زون بنا کر ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو متوجہ کیا جا سکتا ہے۔

لاہور کی نہر محض ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ یہ شہر کی روح کا حصہ ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنے تاریخی اور قدرتی وسائل کو محفوظ کرکے انہیں معیشت، سیاحت اور عوامی فلاح کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اگر لاہور کی نہر کو بھی جدید وژن، ماحولیاتی شعور اور خوبصورت منصوبہ بندی کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جائے تو یہ نہ صرف لاہور کی خوبصورتی میں اضافہ کرے گی بلکہ شہر کی معیشت، سیاحت اور شہری زندگی میں بھی نئی روح پھونک سکتی ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم اس نہر کو صرف سڑک کے کنارے بہتا پانی نہ سمجھیں، بلکہ اسے لاہور کی تاریخ، ثقافت اور مستقبل کے ایک قیمتی اثاثے کے طور پر دیکھیں۔ اس کو عوام کے لئےشجر ممنوع نہ بنایا جائے۔ بلکہ عوام کے لئے گرمیوں میں خاص کر اس سے بھر پور لطف اندوز ہونے کا موقع دیا جائے۔ عوام کو یہ ملک ایک جیل کی طرح محسوس نہیں ہونا چاہئے۔ عوام یہ سوچنے پر مجبور کہ ہماری چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر یہ خوف کے سائے کیوں ہیں؟

Check Also

Bohran Aabna e Hormuz Aur Americi Sharait

By Muzammil Iqbal