Hartal
ہڑتال

احتجاج کی مختلف اشکال ہیں۔ احتجاج کی نوعیت مسئلے کی سنگینی کو آشکار کرتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں عمومی طور پر کم ہی احتجاج دیکھنے کو ملتا ہے اور اس کی جہتیں بھی مختلف ہوتی ہیں اور وہاں کی عوامی حکومتیں ان کے ہومیو پیتھک احتجاج پر کان بھی دھرتی ہیں۔ کسی حد تک اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں ایسا کلچر ابھی تک ڈوویلپ نہیں ہو پایا کہ کارڈ پلے اٹھا کر روڈ کے ایک طرف کھڑے ہو کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ سچی بات حکومت بھی اس کو سنجیدہ نہیں لیتی۔ جب تک پانی سر سے نہ گزر جائے۔ توڑ پھوڑ جلاؤ گھراؤ کے بعد انگڑائی لے کر اٹھتی ہے تب تک بہت سا پانی پلوں سے بہہ چکا ہوتا ہے۔
حال ہی میں پنجاب گورنمنٹ نے ٹریفک آرڈنینس لاگو کیا ہے۔ جس میں چالان کی شرح میں ناقابل حد تک اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کمرشل ٹرانسپوٹرزکے لئے یہ قانون قابل عمل نہیں لگ رہا۔ وہ اس کے لئے اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ لیکن گورنمنٹ کی سطح پر وہ رد عمل دیکھنے کو نہیں مل رہا اور نہ ہی میڈیا اس مسئلے کی سنگینی پر کوئی آواز اٹھا رہا ہے۔ شروع میں ایک میڈیا ٹاک میں اعلان کیا گیا تھا کہ اس قانون کی عمل درآمد پر روک لگا دی گئی ہے۔ تو عوام نے اس بات کو خوش آئند سمجھا تھا۔ اس خوش فہمی کو چوبیس گھنٹے بھی نہ گزرے تھے کہ اس کی تردید آگئی اور معاملات بیچ میں اٹک گئے۔
اب صورتحال نازک ہے، تاجر برادری کے لئے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ سبزی منڈی کے معاملات میں ترسیل کے ایشو آنے لگے ہیں۔ ڈیری فارمرز حضرات کے لئے بحران کی کیفیت ہے۔ جانوروں کی ترسیل بر وقت نہ ہونے سے مسائل دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ دودھ کے جانوروں کے لئے ونڈہ ایک بنیادی جزو ہے اور اس کو زیادہ دیر سٹاک نہیں کیا جاسکتا ہے۔ فنگس لگنے کے چانسز ہوتے ہیں۔ جن کے پاس ختم ہو چکا ہے۔ دوبارہ ترسیل نہیں ہو رہی۔ دودھ والا جانور ایک بار ڈسٹرب ہو جائے تو دوبارہ وہ اس پروڈکشن پر مشکل سے آتا ہے۔ آجکل کینو کا موسم ہے۔ پھلوں کا کاروبار کرنے والوں اور کسان کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
کمرشل ٹرانسپوٹرز کی پہیہ جام ہڑتال اگر لمبی چلتی ہے تو دوسرے شعبہ جات زندگی جان بچانے والی ادویات ضروریات زندگی کی اشیاء کا سٹاک آہستہ آہستہ ناپید ہوتا جائے گا۔ جس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ چیزیں یا تو ملے گی نہیں یا پھر بہت مہنگے داموں خرید کرنا ہوں گی۔ حکومت یا ٹرانسپوٹرز کی ہٹ دھرمی میں سراسر نقصان تاجر برادری اور عام عوام کا ہوگا۔
جمہوریت اور مارشل لا حکومت میں ایک یہ بھی فیکٹر ہوتا ہے کہ عوامی حکومت عوام کو جواب دہ ہوتی ہے۔ جب کہ مارشل لا حکومت کو عوام سے کوئی سروکار نہیں ہوتا انہوں نے کون سا پانچ سال کے بعد الیکشن میں جانا ہوتا ہے۔
پنجاب حکومت سے پر زور گزارش کی جاتی ہے کہ پہیہ جام ہڑتال کو فوری ختم کرنے کے لئے ضروری اقدامات لے۔ اگر یہ لمبی ہوگئی یا دوسرے صوبوں کو بھی ساتھ شامل کر لیا تو بند مٹھی میں ریت آہستہ آہستہ گرنے لگی گی۔ یا یوں سمجھ لیں کے کسی عمارت کےنیچے سے ایک اینٹ کے کھسکنے سے پوری عمارت زمین بوس ہو جائے۔
نیچے کی سطح پر عوام کے اندر ایک اشتعال کی کیفیت ہے۔ جس کو ایڈریس کرنا پنجاب حکومت کی ذمہ داری ہے۔ معاشی سر گرمی میں ایک خلا پیدا ہو رہا ہے۔ جتنی جلد ی ممکن ہو سکتا ہے اس خلا کو پر کر لیں۔
ہڑتال کا اتنے روز تک چلنا اس کی سنگینی کو آشکار کر رہا ہے۔
جو درخت آندھی میں جھک جائے وہ بچ جاتا ہے جو اکڑ جائے وہ زمین سے اکھڑ جاتا ہے۔ میانہ روی اور دنیاوی معاملات میں لچک سے بہت سے معاملات کو حل کیا جا سکتا ہے۔ ہڑتال کسی بھی طرف سے ہو اپنی نحوست چھوڑ کے جاتی ہے۔

