Friday, 21 June 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Abrar Majid
  4. Islamabad Ke Shehri Numaindagi Se Mehroom

Islamabad Ke Shehri Numaindagi Se Mehroom

اسلام آباد کے شہری نمائندگی سے محروم

اسلام آباد کا علاقہ جس کو ملک میں ایک ماڈل کے طور پر ہونا چاہیے تھا وہ اپنی بنیادی نمائندگی سے بھی محروم ہوچکا ہے اور اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اسلام آباد کی آبادی جو تقریباً دس لاکھ پر مشتمل ہے کا ہر سطح کی نمائندگی سے محروم ہونا اگر مکمل طور پر عدم توجہی نہیں بھی تو کم از کم رابطوں سے تو مکمل طور پر منقطہ ہے۔

اسلام آباد کے وفاقی علاقہ جس میں شہری اور دیہاتی دونوں علاقے شامل ہیں کی دو قومی اسمبلی کی سیٹیں ہیں جو تحریک انصاف کے پاس تھیں۔ انہوں نے اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اپنے قومی اسمبلی کے استعفوں سے جہاں پاکستان کی تقریباً آدھی آبادی کو وفاق میں نمائندگی سے محروم کیا ہے وہاں اسلام آباد کے شہریوں کو بھی مکمل طور پر ہر طرح کی نمائندگی سے محروم کر دیا ہے۔ آئین میں موجود اختیارات عوامی فلاح کے لئے ہیں اور تحریک انصاف نے ان کے استعمال سے اسلام آباد کے ترقیاتی کاموں خاص کر دیہاتی علاقوں کو ترقیاتی فنڈنگ سے محروم کر دیا ہے۔

بلدیاتی حکومتیں بھی پہلے کی ختم ہوچکی تھیں اور نئے انتخابات ہو ہی نہیں سکے جس سے مقامی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آنے والے ترقیاتی کام بھی تعطل کا شکار ہیں۔ اس کی ایک مثال میں عمران خان کے رہائشی علاقے سے دینا چاہوں گا جو پونے چار سال وزیراعظم رہے ہیں کی رہائش بنی گالہ بھی اسلام آباد کے دیہاتی علاقہ میں شامل ہے۔ اگر ان کے محلے کی سڑکیں دیکھیں تو یوں لگتا ہے جیسے کسی کچے کے علاقے میں آ گئے ہوں۔ انہوں نے اپنے گھر کو جانے والی سڑک تو بقول انکے توشہ خانہ کے پیسوں سے بنوا لی مگر باقی سڑکوں کا اللہ ہی حافظ ہے۔

2014 میں وزیراعظم نواز شریف جب عمران خان کو ملنے بنی گالہ آئے تھے تو مری روڈ سے آنے والی سڑک کی تعمیر اور کورنگ پر پل کی گرانٹ منظور کروائی تھی جس کی اس وقت سے آج تک مرمت بھی نہیں ہوسکی۔ حکومت سے گزارش ہے کہ جہاں وہ مری روڈ پر اتنے ترقیاتی کام کروا رہے ہیں وہاں تھوڑی سی نظر کرم بنی گالہ کے رہائشیوں کی طرف بھی کر دیں۔ میڈیکل ڈسپنسری اور گیس کی فراہمی بھی بنی گالہ کا ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔

حکومت سے گزارش ہے کہ اگر بلدیاتی اور قومی انتخابات ابھی ممکن نہیں تو کم از کم ترقیاتی کاموں کا کسی متبادل طریقہ سے ہی بندوبست کر دیا جائے تاکہ عوام کی مشکلات کچھ کم ہوسکیں۔ پچھلے سال حکومت نے ایک اسلام آباد کمیونٹی انٹیگریشن ایکٹ کے نام سے قانون منظور کیا تھا جس کی رو سے شہری اور دیہاتی دونوں علاقوں میں ہر دو سو گھروں تک ایک رفاہی کمیٹی کا انعقاد کیا جانا تا اور ہر سو گھروں کی حد تک ایک رفاہی سب کمیٹی بنائی جانی تھی۔

اس کے انتخابات مکمل طور پر غیر سیاسی بنیادوں پر ایک سال کے اندر اندر کیے جانے تھے اور ممبران کا انتخاب پانچ سال کے لئے ہوگا۔ اس سے ہر دس گھروں میں سے ایک ممبر کا چناؤ ہونا تھا۔ اس سے علاقہ کے لوگوں کو متناسب طریقہ سے نمائندگی مل جاتی اور وہ اپنے کئی مسائل مقامی سطح پر حل کرنے کے قابل ہو جاتے اور ساتھ ساتھ وہ اپنے ترقیاتی کاموں کی ضروریات اور مسائل بھی حکومت تک پہنچانے کا ان کو ایک وسیلہ مل جاتا۔ حکومت سے گزارش ہے کہ ان رفاہی کمیٹیوں کے ذریعے سے ہی اسلام آباد کے شہریوں کو اپنی آواز حکومت تک پہنچانے کا حق دے دیا جائے۔

اسلام آباد کی کافی آبادی کے ووٹوں کا اندراج ابھی بھی اپنے اپنے علاقوں میں ہے جس سے وہ عوامی نمائندوں کے ساتھ اس طرح سے روابط قائم نہیں کر پاتے۔ کیونکہ عوامی نمائندوں کو ووٹوں کی غرض بھی ہوتی ہے لہٰذا وہ زیادہ تر ان لوگوں سے رابطے میں ہوتے ہیں جن کے پاس ووٹ کی طاقت کا استعمال ہو۔ یوں رفاہی کمیٹیوں کی افادیت ان لوگوں کے لئے بھی بڑھ جاتی ہے تا کہ وہ بھی آپس میں ایک منظم رابطے میں ہو جائیں گے۔ زیادہ تر سٹریٹ کرائمز مقامی لوگوں کے آپس میں روابط نہ ہونے کی وجہ سے ہوتے ہیں جن پر ان رفاہی کمیٹیوں کے قیام سے قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اور حکومت کی امن فورسز اور ترقیاتی اداروں کو بھی مقامی لوگوں کے ساتھ رابطوں کا ایک فعال نظام میسر آ جائے گا جس سے حکومتی پالیسیوں کو کامیاب کروانے میں بھی مدد حاصل ہوگی۔ اسی طرح وفاق کی کچھ وزارتوں کے دائرہ اختیارات بھی اسلام آباد کی حد تک ہی رہ گئے ہیں جن میں خاص کر وزرت تعلیم، صحت اور سی ڈی اے ان کی نمائندگی بھی اسلام آباد کو ہی دی جانی چاہیے۔ کیونکہ کسی دور دراز کے علاقہ کے رہنے والے قومی اسمبلی کے ممبران کو مسائل کا اتنا اندازہ نہیں ہوتا جتنا مقامی نمائندوں کو ہوتا ہے اور نہ ہی ان کے مقامی لوگوں سے اتنے رابطے ہوتے ہیں کہ ان کو مسائل اور ضروریات سے آگاہی ہو سکے۔

اسی طرح اس وقت صحت سے زیادہ خوراک میں ملاوٹ اور ان کی کوالٹی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ زیادہ تر امراض کا سبب اس وقت ناقص اور ملاوٹ والی خوراک بن رہی ہے۔ پرائس کنٹرول اور فوڈ انسپکٹرز کا تقریباً پورے ملکی میں نیٹ ورک موجود ہے مگر ان کی کارکردگی سے عوام کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہورہا۔ جس کو فعال کرکے کم از کم خوراک کی کوالٹی اور قیمتوں کی نگرانی سے عوام کو فائدہ دیا جا سکتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً ہر سال ڈیڑھ لاکھ کے قریب عوام میں کینسر کی تشخیص ہورہی ہے جس کی زیادہ تر وجہ خوراک میں زہروں کا استعمال اور ناقص کوالٹی ہے۔ اس بارے پالیسی کو پورے ملک میں رائج کیا جانا چاہیے اور خاص کر اسلام آباد کو تو ایک نمونے کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔ اگر مختلف علاقوں میں متعلقہ محکمے ایک دفعہ بھی چکر لگاتے رہیں تو روزمرہ کی اشیاء کے سٹورز اور سبزیوں فروٹ والے نگرانی کے خوف سے اپنے نرخ اور کوالٹی کا خیال رکھیں جس سے عوام کے بہت سارے مسائل حل ہو جائیں۔

Check Also

Saare Jahan Ka Dard Hamari Churi Mein Tha

By Azhar Hussain Azmi