Tuesday, 05 March 2024
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Dr. Abrar Majid/
  4. Adliya Ki Tashkeel e Nao Ki Zaroorat

Adliya Ki Tashkeel e Nao Ki Zaroorat

عدلیہ کی تشکیل نو کی ضرورت ہے

دو دن قبل جناب عرفان قادر صاحب، مشیر احتساب وزریر اعظم پاکستان نے ایک پریس کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تو عدلیہ کو مضبوط اور متحد دیکھنا چاہتی ہے۔ اور عدلیہ کی تشکیل نو کی ضرورت پر بھی زور دیاجس کا تھوڑا بہت آغاز تو ہمیں پارلیمان کے نافذ کردہ قوانیں میں بھی نظر آرہا ہے۔

جیسا کہ قانون کے زریعے سےچیف جسٹس کے سوؤموٹو اور بنچ کی تشکیل کے اختیارت ججز کی کمیٹی کو دیے گئے ہیں تاکہ ان اختیارات کے استعمال میں شفافیت اور غیرجانبداری پیدا کرکےان سے ابھرنے والا منفی تاثر ختم کیا جاسکے۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ میں آرٹیکل 184 (3) کے تحت مفاد عامہ کے معاملات میں سوؤ موٹو کے فیصلوں کے خلاف اپیل کی طرز پرریویوکا قانون متعارف کروایا گیا ہے جو وکلاء برادری کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا۔ اس سے شفافیت، غیر جانبداری کے انصاف کی فراہمی کےاصولوں کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی اور چیف جسٹس کے مطلق العنان اختیارات کے خاتمے کے بعد بنچ میں شامل ججز کے اندر یہ احساس پیدا ہوگا کہ اس کے خلاف ریویو میں ان کے علاوہ ججز بھی شامل ہونگے جوان کی رائے سے اختلاف بھی کر سکتے ہیں۔ جس سے ایک محتاط اور مضبوط عدالتی رائے کو تقویت ملے گی۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان قوانیں کا جواز وکلاء کے علاوہ سپریم کورٹ کے اندر سے سامنے آنے والے تحفظات ہیں جو چیف جسٹس صاحب کے بنائے ہوئے بنچز کے فیصلوں میں اختلاف رائے اور سپریم کورٹ ہی کے بنچز کی سماعت کے دوران ججز کےکمنٹس سے ابھرے ہیں۔ جن میں" ون میں شو" یا "روب کے پیچھے سیاسی کردار" وغیرہ جیسے تاثرات ہیں۔ عدالتوں میں اختلافات ہوتے ہیں مگر ان کی بنیاد قانونی یا معلوماتی نقاط ہوتے ہیں لیکن اگر ججز کے کنڈکٹ پر سوال اٹھنا شروع ہوجائیں یا ان کے اختیارات کے استعمال پر اعتراضات اور تحفظات آنا شروع ہوجائیں تو ان کو اختلافی آراء نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ عدلیہ کے نظام انصاف میں انصاف کی فراہمی کی راہ میں حائل غلطیوں کی نشاندہی ہوتی ہیں۔

اس وقت ریاست کے اندر ہم جوسیاسی عدم استحکام، بدعنوانی اور قانون کی حکمرانی میں رکاوٹ دیکھ رہے ہیں اس کا تعلق بھی انصاف کے عمل سے ہے اور اگر نظام انصاف پر ہی سوال اٹھ رہے ہوں اور ججز پر مبینہ الزامات کے انکشافات ہو رہے ہوں تو پھر چاہیے تو یہ کہ احتساب کے عمل کا آغاز بھی نظام انصاف سے ہی شروع ہو۔ کیونکہ نظام انصاف ہی ریاستی معاملات کو آئین و قانون کے مطابق چلانے کی ضمانت دے سکتا ہے۔ اگر کہیں بدعنوانی ہوتی ہے یا کسی کا حق مارا جاتا ہے تو اس کی دار رسی کا آخری سہارا عدالتیں ہی ہوتی ہیں۔ اور اگر عدالتیں خود ہی خطرات کا شکار ہوچکی ہوں تو پھر ریاست کے امن، تحفظ اور ترقی کی ضمانت کون دے گا۔

ہمارے آئین میں نظام انصاف کو خود مختار حیثیت دی گئی ہے اور اس میں احتساب کےعمل کو بھی بہت ہی شفاف، غیر جانبدارانہ اورخوددار طریقہ سے متعارف کروایا گیا ہے مگر اس پر عمل درآمد مفلوج ہوچکا ہے جس کی وجوہات اختیارات کی اجارہ داری ہے جس نے غیر جانبداری، شفافیت اور انصاف کے اصولوں کو اپاہج کرکے رکھ دیا ہے اور صورتحال دن بدن انتہائی تشویش ناک ہوتی جارہی ہے۔ اور ان سارے معاملات کا تعلق اخلاقیات سے ہے جو ہمارے معاشرے میں انتہائی گراوٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔

یوں تو اچھی پریکٹس کو قانون پر بھی فوقیت دینے کی کوشش کی جاتی ہے مگر ہمارے اسلاف سے بڑاعمل کس کاہو سکتا ہے۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ کو چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے لئےچالیس دن کوڑے لگوائے جاتے رہے مگر انہوں نے قبول نہیں کیا۔ اس کی وجہ اللہ کے رسول کا وہ فرمان ہے جس میں انہوں نے ججز کو تین درجوں میں تقسیم کرکے سخت وعیدسنائی ہے۔ ایک تو وہ قسم ہے جو اس عہدے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے اور فیصلے بھی غلط کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو اہلیت تو رکھتے ہیں مگر فیصلے انصاف پر مبنی نہیں کرتے اور تیسرا گروہ ان کا ہے جو اہلیت بھی رکھتے ہیں اور فیصلے بھی انصاف پر مبنی کرتے ہیں۔ ان میں سے تیسرا قسم کے ججز جنت میں جائیں گے۔

جس طرح سے تواتر کے ساتھ سپریم کورٹ میں انتظامی اختیارات کے استعمال پر ادارے کے اندر اور باہر سے اعتراضات اور تحفظات سامنے آرہے ہیں لیکن ان کو سنجیدہ نہیں لیا جارہا وہ سمجھ سے باہر ہے۔

جب سپریم جوڈیشل کونسل اتنے بڑے سنگین الزامات کے باوجود بے توجہی سے کام لے رہی ہوتو اس سے عوام کا عدالتوں پر اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ کے اندر ججز میں بھی تشویش پیدا ہو رہی تھی اور دو ممبران ججز کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کر رہے تھے تاکہ ججز کے کنڈکٹ پر لگائے گئے الزامات کو دیکھا جاسکے اگر ان کے خلاف الزامات جھوٹے ہوں تو ختم کریں وگرنہ پھر اس کو منطقی انجام تک پہنچایاجاسکے۔ ایسے حالات میں ادارے کے اندر سے ابھرنے والے تشویشناک تاثرات کو نظر انداز کیسے کیا جاسکتا ہے۔ اور جب اس تشویش کی بنیاد بھی چیف جسٹس صاحب کےانتظامی اختیارات ہی بن رہے ہوں تو پھر اس طرح کے سوالات کا اٹھنا کوئی انہونی بات نہیں ہوتی۔

ان کی بنیاد وہ اصولوں کی خلاف ورزیاں ہیں جن میں سنیارٹی کے اصول کو نظر انداز کیا گیا جن کی اب افزائش نسل شروع ہوگئی ہےاور تباہی کا یہ سلسلہ تھمنے والا نہیں لگ رہا۔ پچھلے سال حکومت نے ججوں کی تعیناتی کے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کوسپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس میں سنیارٹی کو نظر انداز کیاگیا تھا اور اسی بنیاد پر پارلیمانی کمیٹی نے بھی سپریم جوڈیشل کونسل کی سمری کو واپس بھیجاتھا۔ چند دن قبل سپریم کورٹ میں اس معاملے کو سنا گیا اور عجیب اتفاق یہ ہوا کہ فیصلہ کرنے والے تین رکنی بنچ میں دو ججز خود انہیں سنیارٹی کے اصولوں کے خلاف سپریم کورٹ میں تعینات ہوئے تھے جنہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ پارلیمانی کمیٹی سنیارٹی کو نہیں دیکھ سکتی جبکہ سنیارٹی کے اصولوں کے تحت تعینات ہونے والے جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ وہ اس کو دیکھ سکتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان اصولوں کی خلاف ورزیوں کو ہم دوبارہ سے واپس لا سکتے ہیں؟ سپریم کورٹ کے اندر رنگدار گلابوں کی شجرکاری نے جون کے گرم موسم میں جیسے ججز کےچہروں پرخوشگواری اور تازگی پیدا کی ہے اگروہ اسی طرح ان کی سوچوں پر بھی لاسکیں تو یقیناً یہ سب کچھ ممکن ہے، کیوں نہیں۔ سپریم کورٹ کے تمام ججز کو اگر ان غلطیوں کا احساس ہوجائے تو پھر ان کو تسلیم بھی کرنا ہوگا جیسے جیسے یہ واقع ہوئیں اسی طرح ان کی واپسی کو بھی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ فل کورٹ بیٹھ کر اصولوں کو طے کرے اور ان کے مطابق عمل کرتے ہوئے اپنے اور سپریم جوڈیشل کونسل کے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے معاملات کو استدلال پرلے آئیں۔

اور اگر یہ محض چہروں کی تازگی کا رسمی ساماں ہی تھا تو پھر اس علامتی تبدیلی سے معاملات کا مکمل حل ڈھونڈنا ممکن نہ ہوسکے اور قوم کو پارلیمانی اصلاحات کے زریعے سے ہی کوئی حل ڈھونڈنا پڑے گا۔

عوامی تاثرات تو اپنی جگہ مگر جس نہج پر ہم پہنچ چکے ہیں یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے سالوں کی محنتیں ہیں اور آنے والی دہائیوں کے بندوبست کئے جاتے رہے ہیں۔ کیا عدلیہ کے اندر سے اٹھنے والی آوازوں کو دبایا نہیں جاتا رہا۔ کیا اس میں عدلیہ کا اپنا حصہ نہیں؟ کیا آئینی تشریحات نے اس اٹھتے ہوئے اعتماد کو ہوا نہیں دی؟ کتنے دکھ کی بات ہے کہ جب پارلیمان میں ججز کی نیک نامیوں کو زیر بحث لایا جارہا ہو اور حکومت اپنے اداروں کی عزتیں اچھال رہی ہو تو دنیا میں ہمارا کیا تاثر ابھر رہا ہوگا۔ اس طرح تو نظام خطروں میں پڑ جاتے ہیں مگر ہمیں پھر بھی خیال نہیں آرہا۔ آج ہماری سلامتی کو للکارنے والوں کے خلاف فوجی عدالتوں کی آوازیں کیوں بلند ہورہی ہیں؟ کیا یہ ہمارے مروجہ نظام عدل پر ایک سوال نہیں؟

اداروں میں انتظامی عہدوں پر بیٹھے لوگ تو بدلتے رہتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر ریاستی اداروں کی عزت و احترام ریاست کی ساکھ اور عوام کےاداروں پراعتماد کا اساس ہوتا ہے جس کو کسی صورت بھی ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیے۔ بعض دفعہ اس طرح کے چیلنجز کا سبب ان آئینی عہدوں پر بیٹھی شخصیات کاکنڈکٹ ہوتا ہے جوقانون میں بہتری لانے کے مواقعوں کا سبب بنتا ہے مگر اس میں نیک نیتی اور اصلاح کا پہلو پیش نظر ہونا چاہیے نہ کہ انا کی تسکین یا مفادات کا حصول۔

سپریم جوڈیشل کونسل کو فعال کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اگر یہ ادارہ اپنے فرائض منصبی صحیح معنوں میں ادا کر رہا ہوتا تو اس قدر حالات خراب نہ ہوتے اور عدالت عظمیٰ پر اٹھنے والے سوالات جنم ہی نہ لیتے۔ اگر شوق سے کندھا دیا ہے تو پھر اب وزن بھی اٹھانا پڑے گا یا پھر جہاں سے اٹھایا تھا وہیں واپس لوٹانا ہوگا۔ اس دھرتی کے ساتھ صدی کا جو سب سے بڑا سیاسی پرینک ہوا ہے اس میں اپنے حصے کی تباہی کو تسلیم کرکے اس کا ازالہ بھی کرنا ہوگا وگرنہ فطرت کے انتقام کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Check Also

Ye Shaadi Nahi, Ye Bharat Ka Power Show Hai

By Arif Anis Malik