Monday, 22 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Babar Ali
  4. Tahira Kazmi: Pidar Sari Samaj Ke Jabr Talay Sisaskti Aurat Ke Liye Aik Tawana Awaz

Tahira Kazmi: Pidar Sari Samaj Ke Jabr Talay Sisaskti Aurat Ke Liye Aik Tawana Awaz

طاہرہ کاظمی: پدرسری سماج کے جبر تلے سسکتی عورت کےلیے ایک توانا آواز

غرض و غایت کی نفسیات رکھنے والے لوگ ایک محدود دائرے میں جیتے اور مرتے ہیں۔ ان کی بلا سے کوئی روئے یا ہنسے۔ کسی کے درد پہ ان کا دل دکھتا ہے اور نہ ہی کسی کی تکلیف پر وہ آزردہ ہوتے ہیں۔ ان کے تصورات کے پس منظر میں یہ خیال کارفرما ہوتا ہے کہ ہم نے کسی کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا، لوگ اپنے دم پہ جییں، یہ ان کا اور خدا کا معاملہ ہے، مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جنہیں دوسروں کا رونا رُلا دیتا اور دوسروں کی ہنسی ہنسا دیتی ہے۔ وہ اپنے احساسات میں اس درجے کی لطافت رکھتے ہیں کہ لوگوں کے دکھ سکھ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ جس کی حق تلفی ہو رہی ہو، وہ اس کےلیے آواز اٹھاتے ہیں، غاصب سے لڑتے ہیں اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں۔

پاکستان میں یوں تو مرد و زن کی تفریق کے بغیر ہی ہر طرف ستم کی کارفرمائی ہے، مگر عورتوں کی بات ذرا مختلف ہے۔ صنفِ مخالف سے انہیں ایسے ایسے کچوکے لگائے جاتے ہیں کہ روح کانپ اٹھتی ہے۔ مارتے بھی ہیں تو ظالم تڑپا تڑپا کر۔ جنسی تعلق کے معاملے میں عورت کی "ناں" سننے کے یہ مرد ذرا روادار نہیں۔ لڑکی کے چہرے پر تیزاب یوں پھینکتے ہیں گویا کوئی مذاق ہو۔ اس کے بعد پھر لڑکی جس طرح تڑپتی ہے، یہ وہی جانتی ہے۔ چہرہ ڈراؤنا بن جاتا ہے اور زندگی ایک عذاب میں بدل جاتی ہے۔ یوں وہ پل پل جیتی پل پل مرتی ہے۔

عورت پہ روا رکھے جانے والے جبر کی جڑیں جہالت کی سرزمین میں پیوست ہیں، جسے اہلِ مذہب نے آج سے چار پانچ سو سال پہلے بڑی محنت سے تیار کیا ہے۔

جہالت سے اٹے ہوئے برصغیر کے اس پدرسری خطے کا سائنس کی دنیا سے تعلق ہمیشہ کمزور رہا ہے۔ یہاں کے لوگ صدیوں تک جابروں کے زیرِ اثر رہے اور ان کے حواس پہ ملوکیت چھائی رہی۔ رہی سہی کسر مذہبی طبقے نے نکال دی۔ اس خطے کی بہت سی سماجی خرابیوں میں مذہبی قیادت کی غلط تعبیرات اور سخت گیر رویوں کا بہت کردار رہا ہے۔ سائنس اور تنقیدی فکر کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کی روایت نے سماج کی فکری ترقی روک دی۔

جہاں مذہبی طبقے نے سائنسی علوم سے عداوت رکھی، وہیں عورت بھی انہیں ایک آنکھ نہیں بھائی۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ عورت ہمیشہ ان کی محکوم رہے۔ اس نے کیسے جینا ہے، کیا پہننا ہے، کیا سوچنا ہے اور کیا کرنا ہے، یہ سب وہی طے کریں گے۔ انھوں نے عورت کو ناقص العقل قرار دیا اور اس کے لیے مذہب کی غلط دلیلیں دیں، آیات اور روایات کی غلط تفسیر و تشریح کی۔ اس تعبیر نے عورت کو ناکارہ کر دیا۔

یہ تو رہا ستم علما کا عورتوں پہ، مگر ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ عورتوں نے بھی ان جھوٹی روایات کو من و عن قبول کرکے اپنی زندگی کو ایک قید خانہ بنا لیا۔ اس قبولیت سے جبر کی بے شمار روایتوں نے جنم لیں، ظلم کی لاکھوں داستانیں اس سے وجود میں آئیں۔ تاریخ کے اوراق عورت کے خون سے رنگین ہو گئے۔ کاری، سوارہ، ونی، قرآن سے شادی اور غیرت کے نام پر قتل جیسی رسمیں اسی ذہنیت کی پیداوار ہیں۔

دنیا بدل گئی، زمانہ کروٹوں پہ کروٹیں لے چکا، مگر عورتوں کی سیاہ رات ختم نہیں ہو سکی۔ ٹی وی پروگراموں اور سماجی رپورٹوں میں ایسے بے شمار واقعات سامنے آتے ہیں جنہیں دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہر ظلم دوسرے سے مختلف اور ہر ستم اپنی نوعیت میں منفرد دکھائی دیتا ہے۔ عورتیں چیختی ہیں، دہائیاں دیتی ہیں، ہاتھ جوڑتی ہیں، خدا اور رسولﷺ کے واسطے دیتی ہیں، مگر ظالم مرد ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے اور یوں جسمانی و مالی استحصال کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلتا ہے۔

گھریلو تشدد اور جنسی زیادتی کے کئی واقعات ایسے بھی ہوتے ہیں جو پردۂ اخفا میں رہ جاتے ہیں۔ بہت سی عورتیں شرم، خوف یا معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اپنے ماں باپ تک کو کچھ نہیں بتا پاتیں کہ ظلم اپنی ذات میں شرمناک ہی اس قدر ہوتا ہے۔

عورت کے ایسے ہی برے حالات میں طاہرہ کاظمی جیسی ایک عورت سامنے آتی ہے اور سوشل میڈیا پہ لڑکیوں کو مسلسل یہ باور کراتی ہے کہ اللہ نے انھیں بے بس پیدا نہیں کیا۔ وہ بھی مردوں کی طرح مکمل انسان ہیں۔ ان کی بھی اپنی خواہشات، حقوق اور عزتِ نفس ہے۔ انہیں بھی باوقار اور آزادانہ زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل ہے۔ یہ بھی اپنی مرضی سے شادی کر سکتی ہیں، کاروبار یا ملازمت کر سکتی ہیں اور گھر والوں کو ان کی اس مرضی کا احترام کرنا ہوگا۔ مذہب کے نام پر عورتوں کو محدود کرنے والے مولویوں کے ضابطے دراصل مذہب کی غلط تشریحات کا نتیجہ ہیں۔

طاہرہ کاظمی صاحبہ عورتوں کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کریں، معاشی طور پہ خود مختار بنیں اور جبر کی زنجیریں توڑ ڈالیں۔ جب تک عورت اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہوگی اور معقول حد تک کمانا نہیں سیکھے گی، تب تک وہ اپنی زندگی کے اہم فیصلے آزادانہ طور پر نہیں کر سکے گی۔ پھیلا ہاتھ کبھی عزت نہیں پا سکتا، بھلے وہ باپ، بھائی کے آگے پھیلے یا خاوند یا بیٹے کے آگے۔

وہ یاد دلاتی ہیں کہ جس طرح عورت باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کا احترام کرتی ہے، اسی طرح اسے بھی ان رشتوں کی طرف سے احترام ملنا چاہیے۔

طاہرہ صاحبہ کا کردار صرف عورتوں کو ان کے حقوق کا شعور دینے تک محدود نہیں۔ وہ انہیں جسمانی صحت، نسوانی مسائل اور جنسی بیماریوں سے متعلق بھی آگاہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنے طبی مسائل کے بیان میں جھجک کو بیچ میں مت آنے دیں۔ ان موضوعات پر وہ باقاعدگی سے لکھتی ہیں اور اس ضمن میں ان کی کئی کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں۔ چونکہ وہ ایک ماہر گائناکالوجسٹ ہیں، اس لیے خواتین کے پیچیدہ طبی مسائل کو سادہ اور قابلِ فہم انداز میں بیان کرتی ہیں۔

حال ہی میں ایک خاتون نے ان کی تحریریں پڑھنے کے بعد اپنے ایک طبی مسئلے کے سلسلے میں ایک لیڈی ڈاکٹر کی طرف رجوع کیا۔ جب ڈاکٹر نے ایک نامناسب حل تجویز کیا اس کی بچہ دانی کے متعلق، تو اس خاتون نے متبادل امکانات کی طرف توجہ دلائی۔ ڈاکٹر نے حیرت سے پوچھا، "کیا آپ ڈاکٹر ہیں؟" جواب ملا، "نہیں، میں نے طاہرہ صاحبہ کو پڑھا ہے"۔

یاد رکھنا چاہیے کہ ان مسائل سے آگاہی ہر عورت کے لیے ضروری ہے۔ لاعلمی اور مناسب طبی سہولتوں کی کمی کے باعث پاکستان میں ہر سال بے شمار عورتیں یا تو وقت سے پہلے موت کا شکار ہو جاتی ہیں یا اناڑی ڈاکٹروں کے ہتھے چڑھ کر عمر بھر مختلف بیماریوں اور پیچیدگیوں کا سامنا کرتی رہتی ہیں۔

یوں طاہرہ کاظمی ایک طرف عورتوں کو ان کی وہ حیثیت یاد دلا رہی ہیں جو خدا نے انہیں عطا کی ہے اور جو مردانہ بالادستی کے جبر تلے کہیں گم ہوگئی تھی، جبکہ دوسری طرف وہ انہیں صحت مند زندگی گزارنے کے اصول بھی سکھا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی عورتیں ان کے وجود کو اپنے لیے باعثِ رحمت سمجھتی ہیں۔

ایسے معاشرے میں جہاں عورت سے اکثر خاموش رہنے، سہنے اور سر جھکا کر جینے کی توقع کی جاتی ہے، وہاں طاہرہ کاظمی کی آواز اس کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہے۔ یہ آواز عورت کو یاد دلاتی ہے کہ اس کی زندگی اور اس کے خواب سب اہم ہیں۔ یقیناً قومیں بھی اسی دن بدلنا شروع ہوتی ہیں جب ان کی عورتیں اپنے وجود کی قیمت پہچان لیتی ہیں۔

میری دعا ہے کہ شعور کی یہ شمع مزید روشن ہو، ظلم کی تاریکیاں سمٹتی جائیں اور اس ملک میں پیدا ہونے والی ہر بچی کو ایسا معاشرہ میسر آئے جہاں وہ خوف نہیں، وقار کے ساتھ جی سکے، جہاں اس کے حقوق نہ چھینے جائیں، جہاں وہ آزادانہ زندگی گزارے اور سر اٹھا کر دلی اطمینان اور مسکراہٹوں کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو۔

Check Also

Kheme Ka Fasla Aur Chand Minton Ka Safar

By Peer Intizar Hussain Musawir