Sarkon Pe Maut: Kasoor Khuda Ka Ya Insan Ka
سڑکوں پہ موت: قصور خدا کا یا انسان کا

اگر زندگی موت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے تو میرا خیال ہے کہ اس کی یہ ملکیت پاکستان میں کچھ زیادہ ہی کام دکھا رہی ہے۔ سڑکیں پوری دنیا میں ہیں اور ان پہ فراٹے بھرتی گاڑیاں بھی ہیں، مگر حادثات کی کثرت اور ان کی شدت جتنی پاکستان میں ہے، وہاں اس کا 10حصہ بھی نہیں۔ کیا وہاں کے ڈرائیوروں کے دو دماغ ہیں یا انہوں نے گاڑیوں میں سوچنے سمجھنے کے آلات نصب کر رکھے ہوتے ہیں! ایسا کچھ بھی نہیں، تو کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں سالانہ ہزاروں لوگ سڑکوں پہ مرتے اور گاڑیاں تباہ ہوتی ہیں۔ وجہ صرف ایک ہے اور وہ ہے یہاں کا غیر سائنسی معاشرہ، بس۔
یورپ بھر میں قوانین پہ عمل درآمد میں ان کی سختی سے کہیں زیادہ ان کے سائنسی معاشروں کا ہاتھ ہے۔ وہاں رات کی تاریکی میں سنسان سڑک پہ چلتی اکیلی گاڑی بھی رک جائے گی، اگر سڑک پہ سرخ بتی جل اٹھے۔ یہ مثبت سوچ سائنس کی دین ہے، یہ عقل انھیں سائنسی سرگرمیوں کی وجہ سے ملی ہے۔ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ قوانین کی سختی ہے یا وہ کسی قانون شکن کو معاف نہیں کرتے، بھلے وہ کسی بڑے عہدے پہ ہو، تو یہ ناقص سوچ ہے، یہ وجہ نہیں۔ سائنس اور اس کی برکتوں کی وجہ سے ایجادات کے ماحول کا نتیجہ ہے۔ یہ گاڑیاں وہ خود بناتے ہیں اور ہم پیسے دے کر خریدتے ہیں اور جو قومیں پیسے دے کر کوئی چیز خریدیں، وہ ان کا صحیح استعمال نہیں کر سکتے۔
دراصل بات یہ ہے کہ جو معاشرہ سائنٹیفک نہ ہو، وہاں کے لوگوں کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ جو کرتا ہے، اللہ کرتا ہے اور وہ جو کرتا ہے ٹھیک کرتا ہے۔ یہاں کوئی شخص اپنی حماقت اور لاپرواہی کی وجہ سے مر جائے، تو لوگ کہتے ہیں: ایندی لکھی ایویں سی، ایندی گھٹ گئی سی، ودی نوں ٹوہ اے گھٹی نوں ٹوہ نئیں، جب اجل آ جائے تو کہانی ختم، وغیرہ وغیرہ۔
ہمارے ذہنوں میں ملاؤں نے یہ بات بٹھا رکھی ہے کہ یہ کائنات خدا چلا رہا ہے۔ مزید یہ کہ ہمارا فائدہ بھی اسی کی طرف سے اور ہمارا نقصان بھی اسی کی طرف سے، یعنی غلط کام ہم کریں اور ذمے دار خدا ہے۔ واہ!
ہم لوگ اس دنیا کو اسباب کی دنیا ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔ اب یہی دیکھ لیں کہ مری روڈ پہ پک آپ کا یہ خوفناک حادثہ اس قدر شدید تھا کہ دل دہل جاتا ہے۔ ایک ہی خاندان کے دس افراد اتنے خوف ناک انداز سے مرے کہ روح کانپ جاتی ہے۔ گاڑی میں لوگ جل کر کوئلہ بن گئے۔ جان نکلنے تک یہ کن کن اذیتوں سے گزرے ہوں گے، ان کی ہڈیوں کا ماس کیسے جلا ہوگا اور پھر ہڈیوں سے کیسے اترا ہوگا اور پھر ہڈیاں کیسے جل کر راکھ ہوئی ہوں گی، استغفر اللہ!
ایک باپ کے پانچ بچے، اس کی بیوی اور اس کی والدہ ساتوں اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔ اب اس کی کیا حالت ہوگی۔
یہ حادثہ کمبخت ڈرائیور کی تیز رفتاری کی وجہ سے پیش آیا۔ یعنی ایک شخص جس پہ 20 جانوں کا بوجھ ہے وہ انتہائی لاپرواہی سے اور 100 سے اوپر کی سپیڈ سے گاڑی چلا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ڈرائیور نے گاڑی میں گانے چلا رکھے تھے۔ لڑکوں نے منع کیا کہ خواتین موجود ہیں تو وہ ان سے جھگڑنے لگا۔ اسی عالم میں وہ گاڑی کا کنٹرول کھو بیٹھا یا اس نے غصے سے گاڑی دیوار سے ٹکرا دی۔
کبھی بھی ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھے بندے سے الجھنا نہیں چاہیے۔ پیار سے کہیں۔ مان جائے تو ٹھیک، وگرنہ اسے اس کے حال پہ چھوڑ دیں۔ جب واپس آئیں تو اس سے پکی پکی جان چھڑا لیں۔ وجہ یہ ہے کہ اس وقت آپ موت کے منہ میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ اس کا معمولی سا حصہ حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ ڈرائیور حضرات کچھ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے۔
پھر دیکھیں حکومت اور سڑک بنانے والے انجینیئرز کی بدبختی اور نااہلی کا عالم! دیوار کے ساتھ نالی بنا دی ہے تاکہ گاڑی کا ٹائر اس میں آئے تو گاڑی نکل ہی نہ سکے۔
اس بدترین حادثے میں کسی طرح بھی خدا کا کوئی قصور نہیں۔ کوئی احمق ہی کہے گا کہ ان کی موت یہاں آنی تھی یا ان کی زندگی کے دن پورے ہو گئے تھے۔
نیز، ہر کوئی جانتا ہے پاکستان میں سڑکوں پہ ہونے والے کثیر حادثات اور ان کے نتیجے میں اموات کو۔ اس کے باوجود نہ تو ڈرائیور گاڑی کی سپیڈ کم کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے اور نہ سواریاں ہی اس احمق کو منع کرتی ہیں۔ سب یوں سوچتے ہیں جیسے وہ ہوائی سفر کر رہے ہوں۔
جب تک ہم یہ سوچیں سوچتے رہیں گے تب تک یہ حادثات نہیں رکیں گے۔ خدا نے یہ دنیا بنائی اور اس میں انسانوں کے لیے ان کی ضروریات کا سارا سامان رکھا۔ قوانین بنائے، جن کے تحت اس کا یہ پورا نظام چل رہا ہے۔ پھر انسانوں کو زندگی گزارنے کے لیے بھلے برے کی تمیز دی، خیر اور شر کا شعور دیا۔ اب وہ آسمانوں پہ تماشہ دیکھنے کا کردار ادا کر رہا ہے، یعنی پہلے وہ تماشہ گر تھا، پھر تماش بیں بن گیا۔ یہ کردار اس نے قیامت تک نبھانا ہے۔ پھر روزِ قیامت وہ تماشہ گر بن کر فیصلے کرے گا۔
سو اس دنیا میں انسان اپنے ہر کیے کا خود ذمے دار ہے۔

