Hamari Dadi Amma
ہماری دادی اماں

حمیدہ خاتون، ہمارے والد کوثر سلطان پوری کی نانی تھیں، لیکن ہم سب بھائی، بہن اُنھیں "دادی امّاں" کہتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے والد اور چچاؤں کو جو اعلیٰ اقدار اور اخلاقی تربیت ملی، اُن میں سب سے اہم کردار دادی امّاں ہی کا تھا، جنھوں نے شب و روز محنت و لگن سے نہ صرف ان کی پرورش کی، بلکہ اُنھیں معاشرے کے کارآمد افراد بنانے میں اپنی پوری زندگی وقف کردی۔۔ دادی امّاں اگرچہ پڑھی لکھی نہیں تھیں، مگر صاحبِ فہم اور بلا کی دُور اندیش ہونے کے ساتھ ایثار و قربانی جیسے اوصاف کی حامل اور غیرت و حمیت، خود داری کا حسین پیکر تھیں۔
وہ اولاد کی پرورش و تربیت کے ایک ایک انداز سے بخوبی واقف تھیں۔ ہمارے دادا کا انتقال تقسیمِ برصغیر سے دو سال قبل ہوگیا تھا۔ اُس وقت ہمارے چھوٹے چچا کی عمر محض 6 ماہ تھی۔ میرے والد سب سے بڑے، جب کہ منجھلے چچا، والد صاحب سے ڈیڑھ برس چھوٹے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہمارے والد کی نانی، حمیدہ خاتون اپنی بیٹی قدسیہ خاتون اور تین نواسوں کے ساتھ بھارت سے ہجرت کرکے1949ء میں کراچی آئیں، تو حکومت کی جانب سے شہر کی حدود سے دُور ایک جھونپڑی نما کوارٹر ان کے حصّے میں آیا۔
یوں تقسیمِ ہند کے بعد ایک حویلی اور بڑے باغ کے مالکوں کی کُل کائنات یہ کوارٹر قرار پایا۔ میرے والد کوثر سلطان پوری سمیت تینوں بھائی، ابھی کم سن تھے، اُن کی عمریں اتنی نہ تھیں کہ انھیں کہیں ملازمت ملتی۔ غربت کا دَور دورہ تھا۔ اس پر مستزاد ہماری دادی قدسیہ خاتون کو تپِ دق کے مرض نے آلیا۔ جہاں دو وقت کا کھانا مل جانا نعمتِ عظیم ہو، وہاں اُس وقت جان لیوا مرض کا علاج کہاں سے ہوتا۔ جو بس میں تھا، وہ کیا، لیکن مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دوا کی۔ بالآخر 1951ء کی ایک صبح وہ خاموشی سے "خاموش کالونی" کے قبرستان میں جا سوئیں۔
ہمارے والد کی نانی، حمیدہ خاتون، ہمارے دادا کی وفات کے بعد اپنی بیٹی قدسیہ خاتون کے پاس آ گئی تھیں کہ قدسیہ خاتون اُن کی اکلوتی اولاد تھیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ بھی بھارت سے ہجرت کرکے اپنی بیمار، بیوہ بیٹی کے ساتھ کراچی آ گئیں۔ یہاں غربت و عسرت کے ڈیرے میں ایک بیمار بیٹی اور تین نواسے ساتھ، کچھ سُجھائی نہ دیتا تھا۔ میرے والد اور چچاؤں نے ہمیں بتایا کہ کس طرح دادی نے اس کٹھن وقت میں ہم سب کو سنبھالا۔ وہ نواسوں کے ناز اٹھانے کے ساتھ تربیت کے معاملے میں انتہائی سخت اور اصول پسند تھیں۔
یہی وجہ تھی کہ اُن کے تینوں نواسے شرافت و دیانت اور خودداری میں اپنی مثال آپ تھے۔ میرے والد بتاتے تھے کہ ہجرت کے بعد جب ہم جیکب لائن میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے اور ایک پلنگ پر پانچ افراد سوتے تھے، تو خاندان کے ایک فرد نے بطور ہم دردی دادی امّاں سے کہا کہ "ایک بنگلے میں بچّوں کو چھوٹا موٹا کام دلوا دیتا ہوں۔ دو چار پیسے ہاتھ آ جائیں گے، اس طرح گزر بسر میں کچھ آسانی ہو جائے گی"۔ لیکن دادی امّاں نے صاف انکار کردیا اور اُن کی پیش کش رَد کرتے ہوئے کہا، "میں یہ کبھی نہیں چاہوں گی، بچّے چھوٹے ضرور ہیں، مگر ہمارے ہاتھ پیر ابھی سلامت ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتری کی کوئی راہ ضرور نکال دے گا"۔
نانی شب و روز یتیم نواسوں کی پرورش میں لگی رہیں اور تینوں نواسے بھی انھیں امّاں کہتے اور ایک اشارے کے منتظر رہتے۔ اگرچہ اُن کی شخصیت بہت بارعب اور پُراثر تھی، تاہم، محبت اور ممتا نچھاور کرنے میں بھی اُن کا کوئی ثانی نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے نواسوں نے بھی آخر وقت تک بے حد عزت و احترام کے ساتھ اُن کا بھرپور خیال رکھا۔ ایثار و قربانی کی پیکر ہماری دادی امّاں کبھی اپنی ذات پر کچھ خرچ نہ کرتیں۔ دن اچھے آنے کے باوجود بھی اُن کا طرز حیات نہ بدلا۔ ہمیشہ غرارہ اور ہاف آستین کی قمیص میں ملبوس رہتیں۔ اُن کا اگر کچھ خرچہ تھا، تو وہ اُن کے قدیم پان دان کے لوازمات کا تھا۔ پان بنا کر پیتل کا سنہرا پان دان جب بند کرتیں، تو بہت تیز آواز آتی۔
دادی امّاں کے ایک پیر میں ہلکا سا لنگ تھا، مگر کھانا پکانے سے لےکر گھر کے جملہ امور انتہائی چابک دستی اور مہارت سے انجام دیتیں، ذرا بھی تساہل کا مظاہرہ نہ کرتیں۔ یہ اُس زمانے کی بات ہے کہ جب پٹرے پر بیٹھ کر کھانا کھایا اور روٹیاں پکائی جاتی تھیں۔ بہرحال، اُن ہی کے زیرِ اثر تربیت پاکر اور تعلیم سے فراغت کے بعد والد صاحب کو ایک محکمے میں اسسٹنٹ اکاؤنٹنٹ کے طور پر ملازمت مل گئی۔
منجھلے چچا ایک بڑی مل میں ملازم ہوکر بتدریج ترقی پاتے ہوئے اعلیٰ پوسٹ پر فائز ہوگئے۔ چھوٹے چچا بھی منجھلے چچا کے ساتھ ان کے دفتر میں بطور ڈیزائنر ملازم ہوگئے۔ پھر یکے بعد دیگرے سب کی شادیاں ہوگئیں اور اُن کی زندگی ہی میں اُن کے نواسوں کی اولاد بھی ہوگئی۔ پھر ہم جب ذرا بڑے ہوئے، تو معلوم ہوا کہ یہ ہماری دادی امّاں نہیں، بلکہ ہمارے والد کی نانی ہیں، لیکن اس سے کیا فرق پڑتا تھا، ہمارے لیے تو بس وہ ہماری دادی امّاں ہی تھیں۔ دادی اماں کے پان دان میں مختلف سکّے پڑے رہتے تھے، جو وہ ہم سب بچّوں کو روزانہ دیتی تھیں اور سب کا ایک آنہ (چھے پیسے) طے تھا۔ ایک پانچ کا سکّہ اور ایک پائی۔ ایک دن دادی اماں نے مجھے ایک پائی کی جگہ چونی (چار آ نے) دے دی، جسے پاکر میری تو لاٹری کُھل گئی۔ پورے بازار میں دوڑتا پھرا۔
عُمر کے آخری حصّے میں دادی اماں فالج کا شکار ہوئیں، تو شروع شروع میں ہم ایمپریس مارکیٹ سے جنگلی کبوتر لا کر اس کا خون اُن کے ہاتھ اور پیر پر مَلتے، مگر کچھ افاقہ نہ ہوا۔ عُمر بھی خاصی ہوگئی تھی۔ سو، کوئی تدبیر کارگر نہ ہوسکی۔ بالآخر 1976ء کی ایک شب وہ ہمیں داغِ مفارقت دے گئیں۔ آج اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی جب ہم اُن کی زندگی اور جہدِ مسلسل پر غور کرتے ہیں، تو احساس ہوتا ہے کہ دادی امّاں ہماری زندگی کا ایک ایسا مرکزی کردار تھیں کہ جن کے دیئے ہوئے اسباقِ زندگی ہم اب تک فراموش نہیں کرسکے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایک تنہا عورت بھی اپنے کردار و عمل سے ایک بہترین نسل پروان چڑھا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری دادی امّاں کے درجات بلند فرمائے اور اُنھیں جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔

