Aye Nihari Tere Chakkar Mein Kahan Kahan Na Gaye
اے نہاری تیرے چکر میں کہاں کہاں نہ گئے

نہاری سے پہلا رابطہ بچپن میں پہلی چورنگی ناظم آباد کی کیفے ذائقہ کی نہاری سے ہوا۔ گھر اور اسکول دونوں اس کے قریب تھے۔ گھر والے نہاری مانگتے تو دوڑے چلے جاتے۔ یہاں اصلی گھی کا ٹکڑا لگایا جاتا تھا جس کی اشتہا انگیز خوشبو ناک سے اتر کر پیٹ کو دیوانہ کر دیتی۔
فیڈرل بی ایریا واٹر پمپ پر جہاں اب للی بینکوئٹ ہے وہاں کیفے گلستان ہوا کرتا تھا۔ اس کی نہاری کا مزا بھی یاد رہے گا۔ جیب میں پیسے نہ ہوتے تو کسی کو گھیر گھار کر وہاں لے جاتے۔ صفدر مرزا اس وقت ملازمت پر تھے۔ سو جیب ان کی اور پیٹ ہمارا ہوتا لیکن سننی بہت پڑتی تھیں۔ عام طور پر ویک اینڈ پر مغرب کے بعد صفدر مرزا کو گھیرنے کا آغاز ہوتا ہے اور تقریباََ ایک گھنٹے کی زبردست بے عزتی کے بعد کیفے گلستان پہنچ جاتے۔ وہاں کی ایک خاص بات یہ تھی کہ لیموں کے ٹکڑے ہر وقت ہر میز پر پلیٹ میں رکھے ہوا کرتے تھے جو اس زمانے میں عام طور پر اس طرح نہیں رکھے جاتے تھے۔ نہاری آرڈر کرنے پر ساتھ دیئے جاتے تھے۔ بعد میں کیفے گلستان کے قریب دو تین بنگلے چھوڑ کر تاج محل ریسٹورنٹ کھل گیا تھا۔ یہاں کا کھانا ٹرک ڈرائیور کو بہت مرغوب تھا۔ تعمیر اور سج دھج میں یہ گلستان سے بہتر تھا۔ کڑاہی اور دیگر مرغن کھانے خوب ملا کرتے تھے۔
کالج کے زمانے میں بڑا میدان کی ممتاز نہاری بھی دل اور پیٹ بھر کر کھائی۔ اسٹین لیس اسٹیل کی چھوٹی پلیٹ میں ممتاز نہاری منہ موہ لیا کرتی تھی اور اس کے بعد عمر کا پان۔۔ واہ کیا دن تھے۔ ایک دوست اس کے قریب رہا کرتا تھا۔ کالج کے بعد بھی جانا ہوتا تو واحد لالچ ممتاز نہاری ہوتی۔
اردو بازار جانا ہو اور جیب میں پیسے ہوں تو پہلے حساب لگا لیتے کہ کتابوں سے اتنے پیسے بچ جائیں کہ صابری کی نہاری ہو جائے۔ کبھی تو کتاب ہی غائب کر دیتے اور نہاری پر ہاتھ صاف کرتے اور اس کے بعد چمچماتی، پرانے گانے سناتی W 11 میں گھر آتے۔ جاوید کی نہاری کا ڈنکا بجا تو وہاں بھی پہنچے اور زندہ و جاوید نہاری کو خوب منہ لگایا۔ مزیدار حلیم نے نہاری شروع کی تو بھاگ بھاگ وہاں پہنچے۔ اب بھی جانا ہوتا ہے۔ مزیدار نہاری خالی تیز مرچوں والی ہوتی خود کھاو تو مرچیں لگیں۔ کسی کو بتاو کہ کھا کر آئے ہیں تو اسے مرچیں لگیں۔ ہر دو طرح مرچیں لگانے کا ہنر صرف نہاری کو آتا ہے۔
نثار نہاری کھانے کا اتفاق ہو تو اس کی لذت ہی نرالی تھی۔ شہید ملت روڈ پر ناہید سپر مارکیٹ سے سیدھے ہاتھ پر ڈاکٹر محمود حسین روڈ جاتے ہوئے ایک گلی میں غفار کی نہاری کا ذائقہ سب سے جدا ہے۔ مصالحے تیز نہیں لیکن ایک عجب سا تیکھا پن ہے۔ لکھتے ہوئے بھی منہ میں پانی آرہا ہے۔ یہاں کے کباب بھی بڑے لذیذ ہیں۔ ڈرا چشم تصور میں سوچیں کہ نہاری کھا رہے ہوں اور کنابوں کی خوشبو آرہی ہو۔ بندہ کس کس نعمت سے انکار کرے۔ ایک صاحب نے لالو کھیت میں فردوس سینما کے پیچھے 8 نمبر میں جمیل نہاری کا بتایا۔ آج تک زبان کو وہ ذائقہ یاد ہے۔
صدر اور طارق روڈ پر زاہد نہاری اور اب بہادر آباد جاتے ہوئے جاوید نہاری۔۔ کہاں کہاں نہ گئے۔ زندگی میں سب سے بد مزا نہاری مال روڈ مری میں کھائی۔ بہت چاہ سے منگوائی اور بڑی آہ سے کھائی۔ کوئی دلی والا ہوتا تو تھانہ مطبخ میں نہاری کے قتل عمد کے کیس کا اندراج کر دیتا اور دلی کے کلو خان تو دھرنا ہی دے ڈالتے۔ اپنے سفید براق کپڑوں پر راکھ ڈال لیتے۔
میں نے چند سال پہلے جب یہ مضمون لکھا تو اس وقت تک ادریس نہاری نہیں کھائی تھی۔ کچھ عرصے بعد وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ لاجواب نہاری ہے۔ ایک عرض یہ بھی ہے کہ میں نے صرف ان جگہوں کا ذکر کیا، جہاں جہاں میں نے نہاری کھائی ہے۔
یہ تو وہ نہاریاں ہیں جو مشہور ییں اس کے علاوہ لا تعداد جگہوں پر نہاری کھائی ہے۔ لوگ نہاری پر بڑی بڑی تباہ آزمائیاں کرتے رہتے ہیں مگر نہاری صرف دلی والوں کی ہے اور وہ بھی گائے کے گوشت کی۔ بکرے اور مرغی کے گوشت کی نہاری چائنا نہاری ہے۔ اگر آپ کا کبھی نہاری کا پروگرام بنے تو ضرور بتائیے گا۔

