Wo Badal Gaya
وہ بدل گیا

ہم اکثر کہتے وہ بدل گیا۔ یہ بدل گیا۔ وہ بدل گئے سے پہلے ایک سوال یہ ہے۔ کیا آپ پہلے جیسے ہیں؟ وہ تو بدل گیا مگر کیا آپ اس کے ساتھ ویسے ہی ہیں جیسے پہلے تھے؟ کیا آپ نے کبھی سوچا وہ کیوں بدل گیا؟ کیا اس میں سارا قصور ہمارا ہے؟ یا اس کا بھی ہے؟ کیونکہ اگر کوئی آپ کے ساتھ اپنا رویہ بدلتا ہے۔ یا آپ کا رویہ کسی کے ساتھ بدلتا ہے۔ تو اس میں اس کا بھی اتنا ہی قصور ہوتا ہے جتنا کہ ہمارا۔ ہو سکتا ہے اگر وہ ہمیں نہیں سمجھ رہا تو ہم بھی اسے نہیں سمجھ رہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جب بھی ہمارے پاس ایا ہم نے اس کو اس چیز کا احساس دلایا کہ ہمیں اب اس کی ضرورت نہیں۔ اب ہمیں وہ نہیں چاہیے۔ بار بار وہ ایک ہی چیز محسوس کرنے کے بعد شاید اتنا مجبور ہوگیا ہو کہ وہ خود کو بدلنے لگ گیا ہے۔ وہ ہمارے والدین بھی ہو سکتے ہیں جنہوں نے شاید ہمیں اتنا مجبور کیا ہو کہ ہم ان سے اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ وہ ہمارے بہن بھائی بھی ہو سکتے ہیں۔ وہ ہمارے دوست احباب بھی ہو سکتے ہیں۔
جیسے وہ پہلے ہمارے ساتھ تھے ویسے نہیں ہیں اب۔ اس میں انہوں نے بھی کچھ غلط کیا ہوگا اور اس میں ہم نے بھی کچھ غلط کیا ہوگا۔ جس وجہ سے ان کا رویہ ہمارے ساتھ تبدیل ہو رہا ہے یا ہمارا ان کے ساتھ تبدیل ہو رہا ہے۔ وہ ایک کہاوت ہے۔ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بچتی۔ اس کے لیے دونوں ہاتھ استعمال ہوتے ہیں۔ اسی طرح کوئی بھی ایک طرف سے نہیں بدلتا دونوں طرف سے کچھ نہ کچھ ہوا ہوتا ہے۔ بات صرف سمجھنے کی ہوتی ہے۔ یا شاید ہو سکتا ہے وہ بدل نہ رہا ہو۔۔ وہ کسی پریشانی میں مبتلا ہو۔ اسے آپ کی ضرورت ہو۔ مگر اسے بتانا نہ آتا ہو کہ مجھے آپ کی ضرورت ہے۔ اب اگر کسی کا رویہ آپ کے ساتھ تبدیل ہو رہا ہے۔ تو اس میں فائدہ آپ کا ہے۔ اب وہ آپ کو آپ سے ملائے گا۔ اب آپ کو پتہ چلے گا۔
آپ میں صبر کتنا؟ آپ در گزر کرنے والے کتنے ہیں؟ آپ عاجز کتنے ہیں؟ آپ اللہ کی رضا کے لیے رشتہ کتنا نبھاتے ہیں؟ آپ اللہ کی رضا کے لیے معافی مانگنے اور معاف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں؟ اب آپ کو پتہ چلے گا اس انسان کے رویے کے بدلنے کی وجہ سے وہ آپ کے لیے ضروری تھا کہ غیر ضروری؟ آپ اسے کتنا سمجھتے تھے؟ آپ نے محبت کا دعوی کیا آپ نے ساتھ دینے کا دعوی کیا آپ اس پہ پورا کتنا اترتے ہیں؟ کسی کا رویہ جب آپ کے ساتھ تبدیل ہو نا شکوہ نہ کریں۔ خود پہ غور کریں کہ میرے اندر انسانیت کتنے فیصد ہے؟ میں اللہ کی رضا کے لیے کتنے فیصد کام کرتا ہوں یا کرتی ہوں؟ اور ہاں ایک اور چیز جو بہت مزے کی ہے پتہ چلے گا کہ جو بھی رشتہ آپ کے ساتھ اپنا رویہ تبدیل کر رہا ہے نا اس کے ساتھ آپ اگے چل سکتے ہیں یا آپ کی بس ہوگئی؟
سائنس بھی کوئی نئی چیز ایجاد نہیں کرتی۔ جو چیز موجود ہوتی ہے اس کو ثبوت کے ساتھ ثابت کرتی ہے۔ اسی طرح کچھ چیزیں ہمیں بھی ثابت کرنی پڑتی ہیں۔ دکھانی پڑتی ہیں ظاہر کرنی پڑتی ہیں۔ جب بھی آپ کے ساتھ کوئی اپنا رویہ تبدیل کرے۔ سب سے پہلے خود سے سوال کریں کہ کیا ہم نے تو اسے مجبور نہیں کیا اور دوسرے نمبر پہ اس سے پوچھ لیں اور کلیئر کر لیں۔ وہی نہ ہو کہ وہ بدلا نہ ہو کسی پریشانی میں مبتلا ہو اور ہم اپنا ایک عزیز رشتہ کھو دیں اور جو انسان آپ کو آپ سے ملا دے اس سے بڑا محسن دنیا میں کوئی بھی نہیں۔
اس کالم کو پڑھنے کے بعد اس انسان کا شکریہ ضرور ادا کریں۔ جس نے آپ کو آپ سے ملایا۔ جس نے آپ کو اس بات کا احساس دلایا۔ اللہ سے زیادہ محبت اس کے بندے سے کوئی نہیں کر سکتا۔ اللہ سے زیادہ ساتھ اس کے بندے کا کوئی نہیں دے سکتا کسی میں اتنی کپیسٹی ہی نہیں ہے۔ اللہ کے علاوہ کوئی انسان ایسا نہیں ہے۔ جو آپ کی بڑی سے بڑی غلطی کے باوجود بھی آپ سے زیادہ محبت آپ سے کرتا ہے۔ جی صرف اللہ کی ذات ہے۔ اللہ تعالی جو کرتے ہیں وہ بہتر سے بہترین کرتے ہیں۔
ہمیں ضرورت ہوتی ہے چیزوں کو سمجھنے کی۔ خوش رہیں خوشیاں بانٹیں آپس میں تعلق کو جوڑے رکھیں۔ تعلق نہ توڑیں کسی سے میرے لیے بھی دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان ساری چیزوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا کریں اور ہم انسانوں میں انسانیت کو زندہ رکھنے اور انسانیت پہ کام کرنے کی ہمیں توفیق عطا کرے امین۔ بس کسی کو اتنا مجبور مت کریں کہ وہ خود کو آپ سے دور کرنے پر مجبور ہو جائے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔ آپس میں تعلق کو جوڑے رکھو۔

