Hum Apni Harkaton Ki Wajah Se Apno Ko Kho Dete Hain
ہم اپنی ہی حرکتوں کی وجہ سے اپنوں کو کھو دیتے ہیں

زندگی میں رشتے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ انسان دنیا کی ہر دولت حاصل کر لے، مگر اگر اس کے اپنے اس سے دور ہو جائیں تو وہ اندر سے خالی رہ جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ اپنے ہی رویوں، اپنی انا، غرور اور سخت مزاجی کی وجہ سے آہستہ آہستہ اپنے عزیزوں کو خود سے دور کر لیتے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ اصل نقصان کس کا ہو رہا ہے۔
کچھ لوگ ہمیشہ خود کو درست اور دوسروں کو غلط سمجھتے ہیں۔ انہیں اپنی بات، اپنی رائے اور اپنی خواہشات کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ دوسروں کے جذبات کو نظر انداز کرتے ہیں، معافی مانگنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے دوسروں کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ان کا یہ رویہ رشتوں میں فاصلے پیدا کر دیتا ہے۔
نفسیات کے مطابق بعض اوقات انسان کی انا (Ego) اس قدر مضبوط ہو جاتی ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں اور غلطیوں کو دیکھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ سب لوگ اس کے خلاف ہیں، حالانکہ حقیقت میں اس کے اپنے رویے لوگوں کو اس سے دور کر رہے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ جانتے ہیں کہ وہ دوسروں کو تکلیف دے رہے ہیں مگر اپنی ضد کی وجہ سے خود کو بدلنا نہیں چاہتے، جبکہ کچھ واقعی اپنے رویوں سے بے خبر ہوتے ہیں۔ میری گزارش ہے اس کالم کو بہت غور سے پڑھیے گا اور سمجھنے کی کوشش کریے گا مجھے اپنا وقت دینے اور میرا کالم پڑھنے کا آپ کا بہت بہت شکریہ!
رشتے صرف محبت سے نہیں چلتے، بلکہ عاجزی، برداشت اور احترام سے قائم رہتے ہیں۔ جب انسان ہر وقت اپنی انا کو ترجیح دیتا ہے تو وہ دل جیتنے کے بجائے دل توڑنے لگتا ہے اور جب دل ٹوٹتے ہیں تو لوگ خاموشی سے دور ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات لوگ جسمانی طور پر ساتھ ہوتے ہیں، مگر دلوں کے فاصلے میلوں پر محیط ہو جاتے ہیں۔
لیکن اس کالم کا دوسرا رخ بھی ہے۔ ہماری زندگی میں بعض اوقات ایسے لوگ آ جاتے ہیں جن کے رویے سخت، تلخ اور تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ وہ بار بار دل دکھاتے ہیں، غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں یا اپنی انا کی وجہ سے تعلقات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ رہنا یقیناً آسان نہیں ہوتا، مگر اسلام ہمیں صرف انصاف ہی نہیں بلکہ احسان کا بھی درس دیتا ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتیں، برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو بہترین ہو، پھر تم دیکھو گے کہ جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی وہ گویا گہرا دوست بن جائے گا"۔ (سورۃ فصلت: 34)
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا"۔
درگزر کرنا کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی علامت ہے۔ معاف کرنا غلطی کو درست قرار دینا نہیں، بلکہ اپنے دل کو نفرت کے بوجھ سے آزاد کرنا ہے۔ البتہ درگزر کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان ظلم یا بدسلوکی کو ہمیشہ برداشت کرتا رہے۔ اسلام توازن سکھاتا ہے، جہاں ممکن ہو اصلاح کی کوشش کی جائے اور جہاں ضروری ہو وہاں اپنی عزتِ نفس اور ذہنی سکون کی حفاظت بھی کی جائے۔
شاید ہمیں دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری انا، ہمارا غرور یا ہمارا رویہ ہمارے اپنے لوگوں کو ہم سے دور کر رہا ہو؟ اور اگر ہماری زندگی میں ایسے لوگ موجود ہیں تو شاید ہمیں ان کے لیے ہدایت کی دعا کرنی چاہیے، کیونکہ بعض لوگ اپنی انا کے قیدی ہوتے ہیں اور انہیں خود بھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ کتنی قیمتی نعمتیں کھو رہے ہیں۔
یاد رکھیے، رشتے جیتنے کے لیے دل بڑا کرنا پڑتا ہے، انا نہیں۔ جو لوگ اپنی انا کو بچاتے رہتے ہیں، وہ اکثر اپنے لوگوں کو کھو دیتے ہیں اور جو لوگ محبت، عاجزی اور درگزر کا راستہ اختیار کرتے ہیں، وہ ٹوٹتے ہوئے رشتوں کو بھی جوڑ لیتے ہیں۔
میں اپنے لیے بھی اور سب کے لیے یہی دعا کرتی ہوں کہ اے اللہ! ہمارے دلوں کو تکبر، غرور اور انا سے پاک فرما۔ ہمیں اپنی غلطیوں کو پہچاننے اور انہیں درست کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے رشتوں میں محبت، احترام اور اخلاص پیدا فرما اور اگر ہمارے دلوں میں کسی کے لیے ناراضی یا کدورت ہو تو اسے خیر اور ہدایت میں بدل دے۔ اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو دل جوڑتے ہیں، دل توڑتے نہیں۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے رشتہ داروں کے ساتھ تعلق جوڑے رکھو۔ یقیناََ نبی پاک کے یہ فرمانے میں کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوگی۔ اپنے لیے نہیں اپنوں کے لیے نہیں اللہ کی رضا کے لیے اپنوں کے ساتھ رہیں اپنوں کے لیے باعث رحمت بنے خوش رہیں خوشیاں بانٹیں اللہ تعالی آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔

