Dil Dukhane Walon Ka Shukriya
دل دکھانے والوں کا شکریہ

آج کا کالم تھوڑا سا مشکل ہے۔ مگر کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا۔ مشکل اس لحاظ سے ہے کہ آج ہم ان کا شکریہ ادا کریں گے جنہوں نے ہمارا دل دکھایا۔ شکریہ ادا کرنے سے پہلے ہمیں ان پہ ہمیں غصہ ہے۔ ہمیں ان سے شکایات ہیں۔ ہماری انا ہمیں معاف کرنے کی اجازت نہیں دے رہی اور ہم کام کرنے جا رہے ہیں شکریہ ادا کرنے کا۔ یہ دل دکھانے والے لوگوں کا بھی کردار اللہ نے کمال بنایا ہے۔ ان کی وجہ سے ہم اللہ کے سامنے روتے ہیں۔ اللہ تعالی سے ان کی شکایتیں کرتے ہیں اور پھر کہیں جا کے مانتے ہیں۔ 70 ماؤں سے بھی زیادہ محبت صرف اللہ تعالی کرتا ہے اور اس بات کا احساس ہو جانا بھی بہت بڑی بات ہے اور پھر جس نے اس بات کا احساس دلایا ہو۔ وہ برا انسان کیسے ہوا؟ اس نے تو ہمارا فائدہ کیا۔ اب یہ آپ کا امتحان ہے کہ آپ اس کو کس طرح سے حل کرتے ہیں؟
خود سے سوال پوچھیں۔ کیا اس کے دل دکھانے کے بعد آپ اللہ کے قریب ہوئے کہ نہیں؟ کیا جس نے آپ کا دل دکھایا دل دکھنے کے بعد آپ مضبوط ہوئے کہ نہیں؟ کیا آپ نے کچھ نیا نہیں سیکھا؟ کیا آپ کو احساس نہیں ہوا کہ آپ کے اندر ایک صفت ہے معاف کرنے کی صفت۔ معاف کرنے والا اور معافی مانگنے والا انسان اللہ کو پسند ہے۔ کیا آپ نے معافی مانگنا اور معاف کرنا نہیں سیکھا؟ اگر ہاں تو کس وجہ سے سیکھا؟ دل دکھنے کی وجہ سے نا۔ دل دکھانے والے کا حق بنتا ہے نا۔ ہم ان کا شکریہ ادا کریں۔ انہوں نے ہمیں ہمارے رب کے قریب کیا۔ انہوں نے ہمیں احساس دلایا ہم انسان ہیں اور ہم میں انسانیت بھی موجود ہے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ معاف کرنے پر اللہ تعالی اجر کتنا دیتا ہے۔
معافی مانگنے پر اللہ تعالی کتنا خوش ہوتا ہے اور معاف کر کر ہم دوسروں پر نہیں بلکہ خود پر احسان کرتے ہیں۔ کیونکہ معاف کرنے سے ہمارے لیے چیزوں کو بھولنا آسان ہو جاتا ہے۔ دل دکھانے والا یہ سوچ کر بیٹھا ہے کہ اس نے ہمارا دل دکھایا اس نے ہماری آنکھوں میں آنسو بھرے۔ مگر یہ اس کا وہم ہے جب تک اللہ نہ چاہے کسی انسان میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ دوسرے انسان کی انکھ میں ایک آنسو بھی لا سکے اور دل دکھانے والا سمجھ کر بیٹھا ہے اس نے دل دکھایا۔ دل دکھانے والے تو ہمارے بال بھی بانکا نہیں کر سکتے۔
یہ تو ہمارا رب ہمیں اپنے قریب کرنا چاہتا ہے۔ اس نے ذریعہ دل دکھانے والوں کو بنایا ہے۔ کیونکہ دل دکھانے والے دل کے قریب ہوتے ہیں نا۔ اس لیے اگر وہ دل نہ دکھائیں۔ تو ہم اپنا دکھ اپنے رب کو کیسے سنائیں؟ اس لیے آج کا کالم دل دکھانے والوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ہے۔ دل دکھانے والے لوگ ہمارا ایک بہت بڑا فائدہ کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ ہمیں ہم سے محبت کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ انسان بہت قیمتی ہے۔ اسے اپنی قدر نہیں ہے۔ وہ اس کو اس کی قدر کرواتے ہیں۔ وہ اسے احساس دلاتے ہیں کہ تم دنیا کے سب سے قیمتی انسان ہو۔ تمہارے جیسا اس دنیا میں کوئی بھی نہیں۔
جب بغیر کسی کوس کے بغیر کسی سیمینار کے ایک روپیہ بھی خرچ کیے بغیر آپ کو آپ سے ملا رہے ہیں آپ کو آپ پر کام کرنے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ تو پھر دل دکھانے والوں سے بہتر محسن آپ کا کوئی بھی نہیں ہے۔ اگر آپ کا بھی دل دکھا ہے۔ کسی نے آپ کا دل دکھایا ہے۔ تو آپ کو مبارک ہو آپ کا تعلق آپ کے رب سے گہرا ہو جائے گا اور ہو بھی رہا ہے۔ بس ضرورت ہے غور و فکر کرنے کی۔ بس ضرورت ہے اس دل دکھنے کے پیچھے کی وجہ تلاش کرنے کی۔ بس ضرورت ہے دل دکھانے والے سے بدلا لینے سے زیادہ خود پر کام کرنے کی۔ بس ضرورت ہے اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالے کرنے کی۔ تو اب بتائیں اگر دل دکھنے پر ہمیں ہمارا رب مل جائے ہم خود کو جاننے لگ جائیں ہم اچھی عادتیں بنانا اور بری عادتوں کو چھوڑنا شروع کر دیں۔
اپنی نمازوں پر کام کرنے لگ جائیں۔ اپنے رب سے باتیں کرنے لگ جائیں۔ تو کیا یہ ہمارے لیے کافی نہیں؟ بالکل کافی ہے کیونکہ زندگی میں سب سے مشکل کام مطمئن ہونا ہے۔ آپ کو آپ کے رب پر یقین ہوگیا ہے آپ مطمین ہو گئے ہیں۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے۔ لوگوں کی فکر کرنا چھوڑیں آپ نے لوگوں کو نہیں رب کو اپنا جواب دینا ہے۔ لوگوں کا اتنا حق انہیں ضرور دیں جتنا اللہ کا حکم ہے ضرورت سے زیادہ نہیں۔ دیکھا تھوڑے سے غور و فکر سے ہمیں معلوم ہوا کہ دل دکھانے والوں نے ہمیں کتنی زیادہ کوالٹی سکھا دی جانے انجانے میں ہماری کتنی مدد کر دی۔ تو پھر وہ شکریہ کے حقدار تو ہیں۔
جس جس نے آپ کا دل دکھایا آج اسے اللہ کی رضا کے لیے معاف کر دیں اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی وجہ سے کسی کا دل دکھا ہے تو اللہ کی رضا کے لیے اس سے معافی مانگ لے میرا کالم پڑھنے کا بہت بہت شکریہ۔ اللہ تعالی ہمیں دل دکھانے والوں کو معاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ مجھے ایک فلم کا ڈائیلاگ یاد ا رہا ہے۔ ڈائیلاگ کچھ اس طرح ہے جن کے چھوٹی عمر میں دل ٹوٹتے ہیں وہی اگے جا کے ریکارڈ توڑتے ہیں۔ یعنی دل ٹوٹنا بھی ضروری ہے۔ وہ ہمیں ہم سے محبت کرنا اور ہمارے مقصد تک پہنچنے میں آسانی کرتا ہے۔

