Bachon Se Dosti
بچوں سے دوستی

بچے اللہ تعالی کی بہت ہی پیاری مخلوق ہیں، کیونکہ بچوں کو چہرے پہ چہرہ چڑھانا نہیں آتا۔ مگر ان کی تربیت اچھے سے نہ کی جائے تو۔ وہ بچہ خاندان کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ آج کا عنوان ہے بچوں سے دوستی۔ میرا آپ سب سے سوال ہے۔ کیا ہمیں بچوں سے دوستی کرنی چاہیے یا دوست والا رویہ رکھنا چاہیے؟
ایک ہی سوال کے دو روپ ہیں پہلا دوستی کرنا دوسرا دوست جیسا رویہ رکھنا اور میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں۔ 90 فیصد لوگ یہ کہیں گے کہ بچوں سے دوستی کرنی چاہیے۔ معذرت کے ساتھ میں آپ کے اس جواب سے اتفاق نہیں کرتی۔ کیوں؟ کیونکہ بچوں کے ساتھ دوستی نہیں کرنی۔ بچوں کے ساتھ دوست والا رویہ رکھنا ہے۔ دوستی کرنے اور رویہ رکھنے میں کیا فرق ہے۔ جس سے ہم دوستی کرتے ہیں اس کے ساتھ ہم ادب کا دائرہ کراس کر جاتے ہیں۔ طرح طرح کے مذاق کرتے ہیں۔ مگر رویہ رکھنے سے بچے کو اپنی حدود یاد رکھتی ہے۔
یہ میرا بڑا ہے اور مجھے ہر حال میں ان کے ساتھ ادب سے پیش آنا ہے۔ اب ہم بڑے دوستی تو کر لیتے ہیں۔ پھر دوست کا رویہ یعنی بچے کا رویہ ہم سے برداشت نہیں ہوتا اور وہ برداشت کیوں نہیں ہوتا دوستی تو آپ نے خود ہی کی ہم بڑوں نے خود ہی کی تو پھر رویہ بھی تو ہمیں برداشت کرنا چاہیے نا۔ دیکھیں برداشت نہیں ہوتا کیوں نہیں ہوتا۔ کیونکہ بڑوں کا کام دوستی کرنا نہیں دوست جیسا رویہ رکھنا ہے۔ مثال کے طور پر آپ اپنی بیٹی سے کہتی ہیں یا اپنے بیٹے سے کہتے ہیں کہ میں تمہارا دوست ہوں۔ میں تمہاری دوست ہوں۔ تم مجھ سے ہر بات کر سکتی ہو ہر طرح کی۔ ہم جملہ بول رہے ہیں ہر طرح کے بات کر سکتے ہو۔ اس کی جگہ اگر ہم یہ بول لیں بیٹا میں آپ کی والدہ ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی دوست بھی ہوں۔ والد ہونے کے ساتھ آپ کا دوست بھی ہوں۔ آپ مجھ سے ہر بات کر سکتے ہیں۔ لیکن ادب کہ دائرے میں رہ کر۔ اس طرح سے بچہ آپ پر یقین بھی کرے گا۔ اس کو اس کی حدود بھی یاد رہیں گی۔
ہم نے آج تک یہی سنا ہے کہ بچوں سے دوستی کرنی چاہیے لیکن کیا آپ جانتے ہیں یہ غلط ہے ہمیں بچے سے دوستی نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں بچوں کے ساتھ دوست جیسا رویہ رکھنا چاہیے۔ آپ بڑے ہیں، اللہ تعالی نے آپ کو بہت کچھ سکھانے کے بعد ہی بڑا بنایا ہے۔ کبھی کبھار بچے بھی ہمیں وہ چیز سکھا دیتے ہیں۔ جو ہم نے سوچی بھی نہیں ہوتی ہمیں بچوں کی سننی چاہیے۔ تاکہ انہیں باہر کسی کو اپنی بات سنانے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔ بڑے اللہ تعالی کی رحمت ہوتے ہیں۔ آپ کو رحمت بننا بھی ہے۔ بچوں کے ساتھ دوست جیسا رویہ رکھیں تاکہ اسے یاد رہے کہ آپ اس کے بڑے ہیں۔ اگر آپ اس کے دوست بنیں گے کل کو وہ آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر آپ کے نام سے آپ کو مخاطب کرے گا۔ تو پھر آپ کہیں گے کہ اس کو تمیز نہیں ہے۔
معذرت کے ساتھ اس میں غلطی آپ کی ہے۔ کیونکہ آپ نے اس کو اس کی حدود یاد نہیں کروائی۔ اپنی حدود یاد رکھیں۔ بچوں کی حدود جتنی ہے ان کو اس سے اغاز ضرور کریں۔ اللہ تعالی ہم چھوٹوں کو ہمارے بڑوں کے لیے باعث رحمت بنائے اور ہمارے بڑوں کو ہمارے لیے باعث رحمت بنائے امین۔ آپ بڑے ہیں بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا ضمیر اپنی عقل اور اپنی محبت کو وسیع رکھیں اور اپنے چھوٹوں کے لیے رحمت بنے۔ اللہ ہم سب کو ہمارے فرائض کو بخوبی نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

