Virat Kohli Aur Haar Na Manne Ka Hunar
ویرات کوہلی اور ہار نہ ماننے کا ہنر

ویرات کوہلی اور وہ یادگار اننگز جو کسی سانحے، کسی شکست خوردہ کہانی یا بے بسی کی علامت بننے سے صاف انکار کر گئی، یہ صرف ایک کرکٹ میچ کی روداد نہیں، بلکہ ایک ذہنی کیفیت، ایک کردار اور ایک ایسے عہد کی نمائندگی ہے جہاں عظمت محض ٹیلنٹ سے نہیں بلکہ ردِعمل، مزاج اور اندرونی آگ سے جنم لیتی ہے۔ ویرات کوہلی کو دیکھتے ہوئے ایک بات شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ وہ یا تو خوشی سے بھرپور ہوتا ہے یا غصے میں دہکتا ہوا، مگر کبھی بے بس، لاچار یا ہارا ہوا نہیں دکھائی دیتا۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو اسے سچن ٹنڈولکر جیسے عظیم مگر خاموش اور تقدیر کے سامنے جھک جانے والے لیجنڈ سے جدا کرتا ہے۔ یہ تقابل کسی کو چھوٹا یا بڑا ثابت کرنے کے لیے نہیں بلکہ کرکٹ کے دو مختلف نفسیاتی سانچوں کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔
ویرات کوہلی کی یہ اننگز، جس نے المیہ بننے سے انکار کیا، دراصل اس کی پوری شخصیت کا عکس تھی۔ جب وکٹیں گر رہی تھیں، اسکور بورڈ دباؤ ڈال رہا تھا اور مخالف بولرز خون سونگھ چکے تھے، تب کوہلی کے چہرے پر نہ خوف تھا، نہ سوال، نہ شکوہ۔ اس کے چہرے پر یا تو ایک چیلنج قبول کرنے والی مسکراہٹ تھی یا دانت پیس کر مقابلہ کرنے والا غصہ۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جہاں بڑے کھلاڑی چھوٹوں سے الگ ہو جاتے ہیں۔ سچن ٹنڈولکر بے مثال بیٹسمین تھے، ان کے شاٹس میں شاعری تھی، ان کی ٹائمنگ میں موسیقیت تھی، مگر ان کے چہرے پر اکثر ایک خاموش سی بے بسی دکھائی دیتی تھی، جیسے وہ نظام، ٹیم یا حالات کے رحم و کرم پر ہوں۔ کوہلی اس کے برعکس حالات سے لڑتا ہے، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ویرات کوہلی کرکٹ کا پہلا سپر اسٹار ہے جو اپنی کمزوری، غصے اور انا کو چھپانے کے بجائے اسے اپنی طاقت بناتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ غصہ اگر بے قابو ہو تو زہر بن جاتا ہے، مگر اگر قابو میں ہو تو ایندھن۔ اس اننگز میں بھی یہی ہوا۔ ایک دو مواقع پر جب وہ آؤٹ ہو سکتا تھا، جب قسمت اس کے ساتھ نہیں لگ رہی تھی، تب اس نے شاٹس کم نہیں کیے بلکہ انتخاب بہتر کیا۔ یہ وہ نکتہ ہے جہاں تکنیک، تجربہ اور ذہنی مضبوطی ایک دوسرے میں گھل جاتے ہیں۔ وہ اننگز کسی المیے کی تمہید بن سکتی تھی، ایک عظیم جدوجہد جو انجام تک نہ پہنچ پاتی، مگر کوہلی نے اسے فتح کے بیانیے میں بدل دیا۔
سچن ٹنڈولکرکے ساتھ موازنہ یہاں ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ٹنڈولکر کا عہد وہ تھا جب کرکٹ دیوتاؤں کا کھیل سمجھی جاتی تھی، کھلاڑی خود کو حالات کے سپرد کر دیتا تھا اور شکست کو خاموشی سے قبول کر لیتا تھا۔ سچن نے بے شمار بار تنہا لڑائیاں لڑیں، سنچریاں بنائیں، ریکارڈ توڑے، مگر ٹیم کو نہ جتوا سکے۔ ان کے چہرے پر اس وقت ایک عجیب سی اداسی ہوتی تھی، جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ میں نے اپنا کام کر دیا، اب یہ میرا قصور نہیں۔ کوہلی اس فلسفے پر یقین نہیں رکھتا۔ وہ مانتا ہے کہ اگر ٹیم ہارے تو ذمہ داری اس کی بھی ہے اور اگر ٹیم جیتے تو کریڈٹ بانٹنے میں وہ کبھی کنجوسی نہیں کرتا۔
ویرات کوہلی کی اننگز دراصل جدید کرکٹ کے مزاج کی نمائندگی کرتی ہے، جہاں جذبات چھپائے نہیں جاتے، جہاں جشن بھی کھلے عام ہوتا ہے اور غصہ بھی۔ وہ بیٹ اٹھا کر صرف رنز نہیں بناتا بلکہ ایک بیانیہ تخلیق کرتا ہے: ہم ہار ماننے والوں میں سے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی ہر بڑی اننگز محض اسکور کارڈ کا حصہ نہیں بنتی بلکہ یادداشت کا حصہ بن جاتی ہے۔ اس اننگز میں بھی اس نے یہ ثابت کیا کہ وہ یا تو خوشی سے جھومے گا یا غصے سے لڑے گا، مگر بے بس ہو کر سر نہیں جھکائے گا۔ یہی رویہ نوجوان کھلاڑیوں کو متاثر کرتا ہے، یہی اسے ایک رول ماڈل بناتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ویرات کوہلی اور سچن ٹنڈولکر دونوں اپنے اپنے عہد کے عظیم ترین کھلاڑی ہیں، مگر ان کی عظمت کی نوعیت مختلف ہے۔ سچن خاموش عظمت کی علامت تھے، کوہلی جارحانہ خود اعتمادی کی۔ سچن قسمت کے دھارے میں تیرتے دکھائی دیتے تھے، کوہلی دھارے کے خلاف تیرتا ہے۔ وہ اننگز جو المیہ بن سکتی تھی، کوہلی نے اسے شاہکار بنا دیا اور یہی اس کی پہچان ہے۔ وہ یا تو مسکراتا ہے یا دہکتا ہے، مگر کبھی بے بس نہیں ہوتا اور شاید یہی وصف اسے اس عہد کا سب سے نمایاں کرکٹر بناتا ہے۔
کچھ اننگز اسکور بورڈ پر ختم ہو جاتی ہیں اور کچھ ذہنوں میں زندہ رہتی ہیں۔ ویرات کوہلی کی یہ اننگز بھی انہی میں سے تھی جو محض رنز کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک رویّے، ایک انکار اور ایک اعلان کا استعارہ بن گئی۔ یہ اعلان کہ عظمت صرف کمالِ فن کا نام نہیں، بلکہ ہار ماننے سے انکار کا دوسرا نام ہے۔ ایسی اننگز کرکٹ سے آگے بڑھ کر زندگی کا سبق بن جاتی ہیں، کہ حالات جیسے بھی ہوں، بے بسی اختیار کرنا سب سے بڑی شکست ہے۔
نہ ہارا ہوں، نہ ٹوٹا ہوں، نہ خاموشی نے گھیرا ہے
میں غصّے میں بھی زندہ ہوں، یہی میرا ہتھیارا ہے
جو لمحہ المیہ بن سکتا تھا، میں نے موڑ دیا اس کو
میری ضد ہی میری طاقت ہے، یہی میرا سہارا ہے
میں قسمت کے اشاروں پر کبھی سر رکھ کے نہ بیٹھا
مجھے لڑنے کا ہنر آیا، مجھے خود پر بھروسا ہے
کبھی مسکان میں فتح ہے، کبھی آنکھوں میں شعلہ ہے
میں بے بس نہیں ہوں صاحب، یہی میری پہچان ہے

