Ustad e Mohtaram, Urdu Bhi Ehteram Ki Mustahiq Hai
استادِ محترم، اردو بھی احترام کی مستحق ہے

استاد کا منصب محض علم منتقل کرنا نہیں ہوتا، دلوں کو جوڑنا، ذہنوں کو روشن کرنا اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا بھی اس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جب کوئی عالم، معلم یا مقرر لاکھوں لوگوں کے سامنے گفتگو کرتا ہے تو اس کے الفاظ صرف الفاظ نہیں رہتے، وہ رویوں کی تشکیل کرتے ہیں، سوچ کے دھارے متعین کرتے ہیں اور سامعین کے دلوں میں اپنے لیے مقام بناتے یا کھوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے زبان کی حفاظت پر غیر معمولی زور دیا ہے۔ ایک لفظ دل جیت سکتا ہے اور ایک جملہ برسوں کی محبت کو مجروح کر سکتا ہے۔ اسی لیے جب کوئی دینی استاد کسی قوم، ثقافت یا زبان کے بارے میں طنزیہ انداز اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات محض ایک لمحے تک محدود نہیں رہتے بلکہ بہت دور تک جاتے ہیں۔ اردو زبان کے بارے میں بعض مواقع پر اختیار کیا جانے والا تمسخر آمیز یا تحقیر پر مبنی انداز بھی اسی نوعیت کا معاملہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
نعمان علی خان ایک معروف مقرر اور قرآن کے معلم ہیں۔ لاکھوں لوگ ان کے دروس سنتے ہیں اور ان سے استفادہ کرتے ہیں۔ ان کی محنت، قرآن فہمی کے فروغ کے لیے خدمات اور نوجوان نسل تک دینی پیغام پہنچانے کی کوششیں اپنی جگہ قابلِ قدر ہیں۔ لیکن ہر انسان کی طرح ایک استاد بھی تنقید سے بالاتر نہیں ہوتا۔ جب کسی مقرر کے الفاظ میں کسی زبان کے لیے حقارت، تمسخر یا غیر ضروری برتری کا احساس جھلکنے لگے تو اس پر ادب کے ساتھ توجہ دلانا سامعین کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی شخص انگریزی جانتا ہے، عربی پر عبور رکھتا ہے یا کئی زبانوں کا ماہر ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک زبان کی عظمت بیان کرنے کے لیے دوسری زبان کو کمتر دکھانے کی کوشش کی جائے۔ علم کا تقاضا بلندی ہے، برتری جتانا نہیں اور معلم کا شیوہ احترام ہے، تحقیر نہیں۔
اردو کوئی اتفاقی یا کمزور زبان نہیں۔ یہ صدیوں کی تہذیبی، ادبی اور فکری روایت کی امین ہے۔ یہی وہ زبان ہے جس میں مسلمانوں نے برصغیر میں اپنے جذبات، اپنے خواب، اپنی شاعری، اپنی تاریخ اور اپنے دینی افکار کو محفوظ کیا۔ یہی زبان ہے جس میں علامہ اقبال نے ملت کو خودی کا پیغام دیا، مولانا شبلی نعمانی نے علمی سرمایہ چھوڑا، مولانا ابوالکلام آزاد نے فکرکے نئے دریچے کھولے، اشرف علی تھانوی نے اصلاحِ نفس کا درس دیا، جس میں مودودی صاحب نے تفہیم القرآن لکھی اور ایسی لکھی جس کے عربی اور انگریزی میں ترجمے ہوئے۔ اسی طرح اور بے شمار علماء نے قرآن و حدیث کی تشریحات عام لوگوں تک پہنچائیں۔ اردو صرف ایک زبان نہیں، ایک تہذیبی پل ہے جس نے مختلف نسلوں، علاقوں اور ثقافتوں کو ایک دوسرے سے جوڑا۔ اگر آج لاکھوں لوگ دین کی بنیادی تعلیمات تک پہنچے ہیں تو اس میں اردو لٹریچر، اردو تراجمِ قرآن اور اردو دینی کتابوں کا حصہ ناقابلِ فراموش ہے۔ ایسی زبان کے بارے میں طنز کرنا دراصل ان لاکھوں لوگوں کے جذبات کو مجروح کرنا ہے جو اسے اپنی شناخت، اپنی محبت اور اپنی فکری میراث سمجھتے ہیں۔
یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ زبانیں ایک دوسرے کی حریف نہیں ہوتیں۔ عربی اپنی جگہ عظیم ہے کیونکہ وہ قرآن کی زبان ہے۔ انگریزی اپنی جگہ اہم ہے کیونکہ وہ عصرِ حاضر میں علم، تحقیق اور عالمی رابطے کی بڑی زبان ہے۔ فارسی نے صدیوں تک علم و ادب کی خدمت کی۔ ترکی، ملائی، سواحلی اور دنیا کی دوسری زبانیں بھی اپنے اپنے معاشروں کے لیے قیمتی ہیں۔ لیکن کسی زبان کی اہمیت دوسری زبان کی تذلیل سے ثابت نہیں ہوتی۔ سورج کو چمکانے کے لیے چراغ بجھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اگر عربی کی عظمت بیان کرنی ہے تو اس کے فضائل بیان کیجیے۔ اگر انگریزی کی افادیت بتانی ہے تو اس کے فوائد بیان کیجیے۔ لیکن اردو یا کسی اور زبان کو نشانہ بنا کر علمی برتری کا تاثر پیدا کرنا نہ علمی روایت کے مطابق ہے اور نہ اسلامی اخلاق کے۔
اسلام کی تعلیمات تو اس سے کہیں زیادہ بلند ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ غور کیجیے، یہاں زبان کو ہاتھ سے پہلے ذکر کیا گیا۔ وجہ واضح ہے۔ جسمانی زخم وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں لیکن زبان کے زخم اکثر مدتوں باقی رہتے ہیں۔ جب ایک معروف مقرر کسی زبان کے بارے میں طنز کرتا ہے تو اس کے سامعین میں بیٹھا ہوا ایک نوجوان، ایک طالب علم، ایک استاد یا ایک عام آدمی خود کو غیر اہم اور کمتر محسوس کر سکتا ہے۔ یہ احساس پیدا کرنا کسی داعی اور معلم کا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔ دعوت کا راستہ دلوں سے گزرتا ہے اور دل احترام سے جیتے جاتے ہیں، استہزا سے نہیں۔
استادِ محترم! آپ کے لاکھوں سامعین ہیں۔ ان میں عربی بولنے والے بھی ہیں، انگریزی بولنے والے بھی، اردو بولنے والے بھی اور دوسری زبانوں کے لوگ بھی۔ آپ کی مجلس میں مختلف قومیں اور مختلف ثقافتیں جمع ہوتی ہیں۔ یہی آپ کی اصل قوت ہے۔ اگر آپ ان سب کی زبانوں اور ثقافتوں کا احترام کریں گے تو آپ کا پیغام مزید مؤثر ہو جائے گا۔ لیکن اگر کسی ایک زبان کے بارے میں تحقیر آمیز تاثر پیدا ہوگا تو بہت سے لوگ علم حاصل کرنے کے باوجود دل میں ایک چبھن محسوس کریں گے۔ اردو بولنے والے آپ کے دشمن نہیں، آپ کے سامع ہیں۔ وہ آپ سے محبت کرتے ہیں، آپ کی بات سنتے ہیں اور قرآن سے تعلق مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی زبان کا احترام دراصل ان کے دلوں کا احترام ہے۔
ہمیں یقین ہے کہ ایک سچا معلم نصیحت کو دشمنی نہیں سمجھتا۔ یہ کالم بھی کسی شخصیت کی تضحیک کے لیے نہیں بلکہ ایک اصول کی یاد دہانی کے لیے ہے۔ زبانیں اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ قرآن مجید نے رنگوں اور زبانوں کے اختلاف کو قدرت کی نشانی قرار دیا ہے۔ جب خالقِ کائنات نے زبانوں کے تنوع کو اپنی نشانی کہا ہے تو بندوں کو بھی ان کا احترام کرنا چاہیے۔ اردو ہماری ماں بولی ہے، ہماری تہذیب کا لباس ہے اور ہمارے جذبات کی آواز ہے۔ اس کا احترام کسی رعایت کا مطالبہ نہیں بلکہ ایک فطری حق ہے۔ امید ہے کہ ہمارے تمام اساتذہ، مقررین اور اہلِ علم اپنی گفتگو میں اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھیں گے تاکہ علم کے ساتھ احترام اور دعوت کے ساتھ محبت بھی آگے بڑھ سکے۔

