Tehzeeb, Kirdar, Cricket Aur Edmund Spenser
تہذیب، کردار، کرکٹ اور ایڈمنڈ اسپنسر

آج ہمیں ان نام نہاد مہذب کہلانے والی طاقتوں کو یہ بنیادی حقیقت یاد دلانے کی اشد ضرورت ہے کہ تہذیب محض قوانین، چارٹرز، آئینوں اور ضابطوں سے قائم نہیں ہوتی بلکہ کردار سے زندہ رہتی ہے۔ قانون تو کاغذ پر لکھا ایک معاہدہ ہوتا ہے، اصل روح وہ اخلاقی جرات ہے جو مشکل وقت میں فیصلہ کرنے کا حوصلہ دے۔ جب کردار کمزور پڑ جائے، جب اصول وقتی مفادات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں، تو پھر چاہے معاشرہ کتنا ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو، اس کا زوال یقینی ہو جاتا ہے۔
آج آئی سی سی کے نام پر موجود چودہ میں سے تیرہ رکن ممالک اسی اخلاقی دیوالیہ پن کی تصویر بن چکے ہیں، جو چھوٹے چھوٹے مفادات کے سامنے سجدہ ریز ہیں اور خود کو اس خوش فہمی میں مبتلا رکھے ہوئے ہیں کہ طاقت اور دولت ہی تہذیب کا معیار ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں کھیل کا میدان محض کھیل نہیں رہتا بلکہ کردار کا امتحان بن جاتا ہے اور افسوس کہ اس امتحان میں بیشتر خود ساختہ مہذب قومیں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔
انگلستان، جسے کبھی اخلاقی فکر، ادبی روایت اور تہذیبی وقار کا استعارہ سمجھا جاتا تھا، آج اپنے ہی ماضی سے کٹا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس ملک کا عظیم شاعر ایڈمنڈ اسپنسر اپنی شہرۂ آفاق نظم The Faerie Queene میں ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ اس کی نظم محض ماضی کی داستان نہیں بلکہ ہر دور کا آئینہ ہے۔ اسپنسر یہ باور کراتا ہے کہ اصل کامیابی طاقت میں نہیں بلکہ اخلاق میں ہے، اصل خوبصورتی ظاہری شان و شوکت میں نہیں بلکہ باطن کی پاکیزگی میں ہے اور اصل ہیرو وہ نہیں جو دوسروں کو زیر کرے بلکہ وہ ہے جو اپنی خواہشات، لالچ اور فریب پر قابو پا لے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ صدیوں گزرنے کے باوجود اسپنسر ہمارے عہد سے ہم کلام نظر آتا ہے، کیونکہ اخلاق کی ضرورت کبھی پرانی نہیں ہوتی۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج کا انگلستان اپنی ہی شاعری، اپنی ہی تاریخ اور اپنے ہی فکری ورثے کو بھول چکا ہے، یا اسے دانستہ طور پر نظر انداز کر رہا ہے؟
آج کا المیہ یہ ہے کہ وہ قوم جو کبھی اخلاقی قیادت کی علامت سمجھی جاتی تھی، آج ماضی کے اپنے ہی غلام کی غلام بن چکی ہے۔ جنہیں کبھی تہذیب، انصاف اور کھیل کے اصول انگلستان نے سکھائے تھے، وہی آج آنکھیں دکھا رہے ہیں اور انگلستان سمیت دیگر طاقتیں خاموش تماشائی بنی کھڑی ہیں۔ یہ خاموشی دراصل کمزوری کی علامت ہے اور کمزوری کا انجام ہمیشہ ذلت ہوتا ہے۔ کھیل، جو کبھی کردار سازی کا ذریعہ تھا، آج مفادات کی منڈی بن چکا ہے جہاں اصول بولی پر چڑھ جاتے ہیں۔ آئی سی سی جیسے ادارے، جن کا کام انصاف اور غیر جانب داری تھا، آج طاقتور کے اشاروں پر ناچتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تہذیب کی عمارت اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے، چاہے اس کے باہر کتنا ہی رنگ روغن کیوں نہ ہو۔
شاید اہلِ انگلستان نے اپنی تاریخ اور شاعری کو پڑھنا ترک کر دیا ہے، یا شاید وہ اس آئینے میں جھانکنے سے گھبراتے ہیں جو انہیں ان کا اصل چہرہ دکھا سکتا ہے۔ کیونکہ تاریخ پڑھنا حوصلہ مانگتا ہے اور شاعری سمجھنا دل کی وسعت چاہتا ہے۔ جب قومیں اپنے فکری سرمایے سے منہ موڑ لیتی ہیں تو پھر فیصلے اصولوں پر نہیں بلکہ مفاد پر ہونے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہی انگلستان، جو کبھی کھیل میں فیئر پلے کا علمبردار تھا، ایک ایسی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے جو اس کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے۔ یہ خاموشی محض ایک سیاسی چال نہیں بلکہ ایک اخلاقی اعترافِ شکست ہے اور تاریخ ایسے اعترافات کو بڑی بے رحمی سے یاد رکھتی ہے۔
اس تمام منظرنامے میں ایک حقیقت پوری آب و تاب کے ساتھ ابھر کر سامنے آتی ہے کہ آج آپ کی بتائی ہوئی تہذیب اور اخلاق کے ساتھ اگر کوئی ملک کھڑا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ ایک آزاد سوچ رکھنے والا، جرات مند اور اصولی موقف اپنانے والا ملک، جو کھیل کو محض کھیل سمجھتا ہے، طاقت کی نمائش نہیں۔ ایک ایسا ملک جو صحیح معنوں میں اسپورٹس مین اسپرٹ پر یقین رکھتا ہے، جو کسی بُلی کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں، چاہے قیمت کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ پاکستان نے آج دنیا کو یہ سبق یاد دلانے کی جرات کی ہے کہ کھیل کا اصل حسن برابری، انصاف اور احترام میں ہے، نہ کہ سیاسی دباؤ اور معاشی طاقت اور ہوس میں۔ یہ موقف وقتی فائدہ شاید نہ دے، مگر تاریخ میں سرخرو وہی ہوتے ہیں جو مشکل وقت میں سچائی کے ساتھ کھڑے ہوں۔
آخرکار، یہ معاملہ محض کرکٹ یا آئی سی سی کا نہیں، یہ تہذیب اور کردار کا سوال ہے۔ آج دنیا ایک بار پھر اسی موڑ پر کھڑی ہے جہاں اسے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ طاقت اور ہوس کے ساتھ کھڑی ہوگی یا اخلاق اور جرات و بے نیازی کے ساتھ۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت وقتی ہوتی ہے، مگر کردار دائمی۔ اسپنسر کی نظم ہمیں یہی سکھاتی ہے اور پاکستان کا آج کا موقف اسی سبق کی عملی تفسیر ہے۔ اگر دنیا نے اس آئینے میں خود کو دیکھنے کی ہمت نہ کی تو یاد رکھنا چاہیے کہ زوال کسی اعلان کا محتاج نہیں ہوتا، وہ خاموشی سے آتا ہے اور سب کچھ بہا لے جاتا ہے اور اگر کوئی قوم آج بھی اس خاموش زوال کے مقابل کھڑی ہے تو وہ پاکستان ہے، جو دنیا کو یہ یاد دلا رہا ہے کہ تہذیبیں قانون سے نہیں، کردار سے زندہ رہتی ہیں۔
پچھلے مئی میں پاکستان نے پورے وقار، ضبط اور اعتماد کے ساتھ خطے میں قائم ایک کھوکھلے عسکری غرور کو بے معنی کر دکھایا تھا۔ اب وہی غرور، جو خود ستائی کے شور پر قائم تھا، کرکٹ کے سرسبز میدانوں میں اپنی آخری سانسیں لے گا۔ بغیر ہنگامے، بغیر شور، صرف صلاحیت اور کردار کے ہاتھوں۔ تاریخ چیخ کر نہیں بولتی، وہ خاموشی سے فیصلہ سناتی ہے، بس ہوشیار رہیے اور منظر کو یادداشت میں محفوظ کرتے رہیے۔
کبھی کبھی کھیل کا ایک فیصلہ قوموں کے کردار کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ اس لمحے خاموشی بھی ایک موقف بن جاتی ہے اور جرات ایک اعلان بھی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اصول پہچانے جاتے ہیں اور تاریخ اپنے نوٹس خود تیار کر لیتی ہے۔
یہ جو بازارِ مفادات میں صدا بیچی گئی
اک صدی پہلے یہی بات وفا کہتی تھی
قانون ہاتھوں میں تھے، کردار لٹا بیٹھے لوگ
یہ شکست آج نہیں، مدتوں سے سہتی تھی
جھک گیا سر تو، تاج بھی سرک جائے گا
قوم وہ زندہ ہے جو سچ پہ اَڑی رہتی تھی
کھیل کے میدان میں تھا، فیصلہ تاریخ کا
اک طرف خوف کھڑا تھا، اک طرف غیرت تھی

