Tazkiya e Fikr
تزکیۂ فکر

حال ہی میں گردش کرنے والا یہ بیانیہ کہ "اقتدار میں بیٹھا عمر رسیدہ طبقہ ہار چکا ہے اور نوجوان نسل بغاوت پر آمادہ ہے" بظاہر ایک فکری بیداری کا اظہار لگتا ہے، مگر جب اس بیانیے کو کھولا جائے تو اس کے پیچھے ایک پرانا، آزمودہ اور سیاسی مفاد سے بھرا ہوا اسکرپٹ صاف دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہی اسکرپٹ ہے جسے ایک نام نہاد نیتا اور اس کے حواری برسوں سے دہراتے آئے ہیں۔ نوجوانوں کے غصے کو ایندھن بنا کر ریاست، اداروں اور پورے نظام کو مشکوک بناؤ اور خود کو واحد نجات دہندہ کے طور پر پیش کرو۔ سوال یہ نہیں کہ نوجوان سوال کیوں اٹھا رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ ان سوالوں کو کس سمت موڑا جا رہا ہے۔
یہ دعویٰ کہ حب الوطنی تقریروں اور سیمیناروں سے پیدا نہیں ہوتی، اصولی طور پر درست ہے، مگر اسی دلیل کو استعمال کرکے پورے ریاستی تصور کو تضحیک کا نشانہ بنانا فکری بددیانتی ہے۔ اس نام نہاد کے دورِ حکومت میں نہ تو یکساں مواقع پیدا ہوئے، نہ ادارے مضبوط ہوئے، نہ ہی نظام انصاف یا معیشت میں کوئی انقلابی بہتری آئی۔ اس کے باوجود اس بیانیے کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے جیسے تمام خرابیوں کی ذمہ داری صرف "بومرز" پر ڈال کر اس بوڑھے نیتا اور اس کی جماعت کو بری الذمہ قرار دیا جا سکتا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ نوجوانوں کی معاشی بے چینی، مہنگائی، بے روزگاری اور مواقع کی کمی اسی دور میں شدید ہوئی جب "نیا پاکستان" کے نعروں سے آسمان سر پر اٹھایا گیا تھا۔
انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور آزاد سوچ کی بات کرتے ہوئے یہ حقیقت دانستہ نظر انداز کر دی جاتی ہے کہ وہ نیتا خود اختلافی آوازوں کے حوالے سے کس قدر عدم برداشت کا مظاہرہ کرتا رہا۔ صحافیوں پر حملے، مخالف آوازوں کو غدار قرار دینا، پارلیمان کو بے وقعت کرنا اور ہر ادارے کو اپنی ذات کے تابع دیکھنے کی خواہش، یہ سب اسی دور کی یادگار ہیں۔ نوجوان اگر آج سوال کر رہے ہیں تو یہ سوال صرف موجودہ نظام سے نہیں، بلکہ اس جھوٹے نجات دہندہ سے بھی ہے جس نے انہیں خواب دکھا کر مایوسی وراثت میں دی۔
ملک چھوڑنے کے رجحان کو "خاموش بغاوت" کے طور پر پیش کرنا بھی اسی پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔ اعداد و شمار واضح ہیں کہ پاکستان سے مستقل ہجرت کا حجم وہ نہیں جو جذباتی تحریروں میں دکھایا جا رہا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک، بھارت، میکسیکو، بنگلہ دیش، پاکستان سے کہیں زیادہ بڑے ڈائسپورا رکھتے ہیں، مگر وہاں اسے ریاستی شکست قرار نہیں دیا جاتا۔ اس عظیم لیڈر کے بیانیے میں ہر مسئلہ صرف اس لیے بڑھا چڑھا کر دکھایا جاتا ہے تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ ملک "ناقابلِ اصلاح" ہو چکا ہے اور واحد حل صرف ایک شخص کی واپسی ہے۔
جنریشن زی اور الفا کو اس بیانیے میں ایک رومانوی انقلابی قوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ نوجوان نسل جذبات سے زیادہ حقائق دیکھنا چاہتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ فائر وال، ٹیکس یا ضابطے محض "بوڑھوں کی ضد" نہیں بلکہ ریاستی انتظام کے پیچیدہ معاملات ہیں جن کا حل نعروں سے نہیں نکلتا۔ اس شخص کی سیاست نے نوجوانوں کو اداروں سے بدظن ضرور کیا، مگر انہیں کوئی قابلِ عمل متبادل نہیں دیا۔ احتجاج کو حکمتِ عملی اور شور کو پالیسی سمجھنے کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔
مین اسٹریم میڈیا، جنگ، سنسرشپ اور میمز کی باتیں بھی اسی فکری سطحیت کی مثال ہیں۔ میڈیا پر تنقید اپنی جگہ، مگر اس کے دور میں "پسندیدہ صحافت" اور "ناپسندیدہ صحافت" کی واضح تقسیم موجود تھی۔ جو سوال کرے وہ دشمن، جو تائید کرے وہ محبِ وطن۔ یہی دو رنگی سوچ آج بھی اس بیانیے میں جھلکتی ہے۔ نوجوان اگر اسٹینڈ آپ کامیڈی دیکھ رہے ہیں تو یہ کسی انقلاب کی علامت نہیں، بلکہ سنجیدہ سیاست سے بددل ہونے کا اظہار ہے اور اس بددلی میں اس نام نہاد نیتا کا حصہ کسی سے کم نہیں۔
آخر میں یہ کہنا کہ "تم ہار چکے ہو" دراصل ایک نفسیاتی حربہ ہے۔ قومیں اس طرح نہیں ہارتیں، نہ نسلیں اس طرح بغاوت کرتی ہیں۔ یہ جملہ ایک سیاسی ناکامی کو عوامی فتح میں بدلنے کی کوشش ہے۔ پاکستان مسائل کا شکار ضرور ہے، مگر اس کی بنیادیں اس نیتا کے بیانیے سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ نوجوان سوال کریں، تنقید کریں، اصلاح مانگیں، یہ ان کا حق ہے۔ مگر انہیں ایک ایسے شخص کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونا چاہیے جو اقتدار میں آ کر بھی نظام نہ بدل سکا اور اقتدار سے نکل کر پورے نظام کو ہی جلانے پر تُل گیا۔
اصل لڑائی نسلوں کی نہیں، سچ اور جھوٹ کے بیانیے کی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جھوٹ وقتی شور تو پیدا کر لیتا ہے، مگر آخرکار بے نقاب ہو ہی جاتا ہے۔
اور آخر میں، جب شورِ سیاست تھم جائے، الزاموں کی گرد بیٹھ جائے اور ہر بیانیہ اپنے انجام کو پہنچ جائے، تو انسان کے پاس صرف ایک راستہ بچتا ہے، اپنے باطن کی طرف لوٹنا۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی اصل اصلاح نعروں سے نہیں، نیتوں کی درستگی سے ہوتی ہے۔
صوفیا نے سچ کہا تھا کہ اندھیرے کو کوسنے سے بہتر ہے چراغ جلایا جائے۔ نوجوان نسل کو بھی یہی چراغ درکار ہے۔ شعور کا، توازن کا اور اس سچ کا، جو نہ بت تراشی مانگتا ہے نہ نفرت۔ اسی خاموش یقین کے ساتھ، آئیے اس غزل کو دل میں اتاریں، کہ اس میں مزاحمت بھی ہے، دعا بھی اور راستہ دکھانے والی روشنی بھی:
یہ شورِ ہار نہیں، ایک فریبِ صدا ہے
جو چیخ چیخ کے بولا، وہ خود ہارا ہوا ہے
نہ نفرتوں سے وطن بنتا ہے، نہ نعروں سے
یہ گھر تو صبر، عمل اور سچ سے جڑا ہوا ہے
جو نسل کے نام پہ سودا کرے ضمیروں کا
وہ اپنے جھوٹ کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے
سوال جرم نہیں، جرم ہے جواب سے ڈر
یہی تو فرق ہے جو وقت نے سکھایا ہوا ہے
اے نوجوان! تری آنکھ میں جو نور ہے
وہ ہر فریب، ہر اندھیرے سے بڑا ہوا ہے
نہ بت پرستی، نہ انکار، بس شعور کے ساتھ
اسی رویّے میں کل کا راستہ لکھا ہوا ہے
اور اب یہ دعا کہ اے ربِّ بصیرت! ہمارے دلوں کو حق کی پہچان عطا فرما، ہمیں فتنوں کے شور سے محفوظ رکھ اور ہماری نسلوں کو حکمت، صبر اور عدل کی روشنی میں ثابت قدم رکھ۔ ہمیں سچ کہنے اور سننے کی توفیق دے اور ہمارے وطن کو امن، انصاف اور امید کا گھر بنا۔

