Taqat Ke Shor Mein Akeli Awaz, Pakistan Ki Jurrat Ko Salam
طاقت کے شور میں اکیلی آواز، پاکستان کی جرات کو سلام

اصل شرمندگی اُن چودہ ممالک کے حصے میں آئی ہے جنہوں نے اصولوں پر پیسے کو ترجیح دی، مگر اصل عزت اُس ایک ملک کے حصے میں آئی جو اس شور میں بھی خاموش نہ رہا۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے حالیہ تنازع نے ایک بار پھر یہ حقیقت عیاں کر دی ہے کہ عالمی کرکٹ محض کھیل نہیں رہی بلکہ طاقت، سیاست اور معاشی مفادات کا ایسا میدان بن چکی ہے جہاں اصول صرف کمزوروں کے لیے ہوتے ہیں۔ بنگلہ دیش کا مؤقف کسی جذباتی ضد کا نتیجہ نہیں بلکہ ماضی کی ان گنت مثالوں پر مبنی تھا، جہاں آئی سی سی نے سیکیورٹی، سفارتی یا سیاسی وجوہات کی بنیاد پر میچز نیوٹرل وینیوز یا شریک میزبان ممالک میں منتقل کیے۔ اگر آئی سی سی واقعی وہ آزاد ادارہ ہوتی جس کا وہ دعویٰ کرتی ہے تو بنگلہ دیش کے میچز کو شریک میزبان سری لنکا منتقل کرنا کوئی ناممکن فیصلہ نہ تھا۔ مگر مسئلہ انتظامی نہیں تھا، مسئلہ طاقت کا تھا اور طاقت کے اس کھیل میں حق ہمیشہ کمزور کے حصے میں نہیں آتا۔
آئی سی سی انتظامیہ کا بنیادی کام تنازعات کو حل کرنا ہوتا ہے، نہ کہ انہیں طاقت کے اظہار میں بدل دینا۔ مگر افسوس کہ موجودہ صورتحال نااہلی ہی نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی بدترین مثال بن کر سامنے آئی۔ اصل سوال بنگلہ دیش یا کسی ایک ٹیم کا نہیں، بلکہ اُس ادارہ جاتی سوچ کا ہے جو خود کو عالمی نگران تو کہلاتی ہے مگر فیصلوں میں شفافیت، مساوات اور انصاف سے مسلسل دور ہوتی جا رہی ہے۔ جب چودہ رکن ممالک ایک طاقتور بلاک کے سامنے خاموشی اختیار کر لیں تو یہ خاموشی دانش نہیں بلکہ خوف کی علامت بن جاتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب کھیل ایک کھیل نہیں رہتا بلکہ طاقت کے مظاہرے کا اسٹیج بن جاتا ہے، جہاں تماشائی تالیاں تو بجاتے ہیں مگر دل سے کھیل سے جڑنا چھوڑ دیتے ہیں۔
ایسے ماحول میں پاکستان کا کردار محض ایک موقف نہیں بلکہ ایک روایت کا تسلسل ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جہاں کہیں بھی کسی ایک ملک کے ساتھ ناانصافی ہوئی، پاکستان وہاں کھڑا نظر آیا۔ سری لنکا کے مشکل وقت میں، بنگلہ دیش کے ابتدائی دنوں میں، افغانستان کے عالمی کرکٹ میں قدم جمانے کے سفر میں۔ پاکستان نے ہمیشہ کمزور کا ہاتھ تھاما، چاہے اس کی قیمت تنہائی کی صورت میں کیوں نہ ادا کرنی پڑی۔ حتیٰ کہ آج کا وہ نام نہاد طاقتور بھارت، جو سب کچھ بھول بیٹھا ہے کہ کبھی انگلستان اور آسٹریلیا نے اسی کے ساتھ وہی رویہ اختیار کیا تھا جو وہ آج دوسروں کے ساتھ روا رکھ رہا ہے، اُس وقت بھی پاکستان ہی تھا جو اس کے ساتھ کھڑا ہوا۔ یہ پاکستان کی روایت ہے اور روایتیں مفاد سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں۔
آج انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے بارہ مستقل ممبران ہیں۔ وہ ممالک جن کے پاس ٹیسٹ کھیلنے کا اختیار، آئی سی سی بورڈ میں نمائندگی اور فیصلہ سازی کا حق موجود ہے۔ آسٹریلیا، انگلینڈ، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ، بھارت، پاکستان، سری لنکا، زمبابوے، بنگلہ دیش، افغانستان اور آئرلینڈ۔ مگر افسوس کہ ان میں سے کسی ایک میں بھی یہ جرات پیدا نہ ہو سکی کہ وہ بھارت کو یہ کہہ سکے کہ تم غلط کر رہے ہو۔ سب کے سب پوری تابعداری کے ساتھ بھارت کے سامنے جھکتے نظر آئے، اس خوف کے تحت کہ کہیں ان کی معاشی رسی نہ کاٹ دی جائے۔ بھارت نے اپنی چرب زبانی اور مارکیٹ کی طاقت سے یہ بیانیہ اس قدر مضبوط کر دیا ہے کہ گویا وہی واحد "کماؤ پُت" ہے اور اس کے سامنے کھڑا ہونا معاشی خودکشی کے مترادف ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یہ سب نام نہاد پڑھے لکھے، تہذیب یافتہ، انسانی حقوق کے علم بردار ممالک اس بلیک میلنگ پر نہ صرف خاموش رہے بلکہ دوسروں کو بھی خاموش رہنے کا درس دیتے رہے۔ سانس بھی آہستہ لینے کا مشورہ دیا گیا کہ کہیں بھارت ناراض نہ ہو جائے۔
یہاں یہ حقیقت بھی تلخ سہی مگر سچ ہے کہ آج بنگلہ دیش پاکستان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا اور شاید آئندہ بھی نہ ہو۔ اگر آج بنگلہ دیش خود اس ناانصافی کا شکار نہ ہوتا تو وہ بھی یقیناً بھارت کے ساتھ ہی کھڑا نظر آتا۔ مگر اس کے باوجود، جب بھی بنگلہ دیش پر ظلم ہوگا، پاکستان اس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ کیونکہ پاکستان کا مؤقف افراد یا حکومتوں کے بدلنے سے نہیں بدلتا، یہ ایک اصولی رویہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج عالمی کرکٹ میں اگر کوئی ایک ملک ہے جو بھارت کے سامنے تنِ تنہا ڈٹ کر کھڑا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ نہ خوف، نہ لالچ، نہ تنہائی کا ڈر۔ صرف ایک واضح مؤقف کہ ظلم جہاں بھی ہو، اس کے خلاف کھڑا ہونا ہی اصل فتح ہے۔
آخر میں سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا یہ سب ٹھیک ہے؟ اگر ٹھیک سے مراد یہ ہے کہ آئی سی سی بھارتی بالادستی کے تحت جو چاہے کرے، کمزور کو دیوار سے لگائے اور باقی سب خاموش تماشائی بنے رہیں، تو شاید یہ نظام وقتی طور پر چل بھی جائے۔ مگر یاد رکھیے، کھیل پیسے سے نہیں، اعتماد سے زندہ رہتا ہے اور جب شائقین یہ محسوس کرنے لگیں کہ میدان برابر نہیں، فیصلے منصفانہ نہیں اور ادارے آزاد نہیں، تو پھر اس کھیل کی جیت بھی ہار میں بدل جاتی ہے۔ ایسے وقت میں پاکستان کا کھڑا ہونا محض ایک سیاسی موقف نہیں، بلکہ کرکٹ کی روح کو زندہ رکھنے کی کوشش ہے۔
پاکستان تیری جرات کو سلام۔ کھڑے رہو، کیونکہ تاریخ ہمیشہ خاموش رہنے والوں کو نہیں، بلکہ حق کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو یاد رکھتی ہے اور یقین رکھو، اللہ حق کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔
کبھی کبھی تاریخ شور نہیں مچاتی، وہ بس ایک نام لکھ دیتی ہے۔ وہ نام اُن کا نہیں ہوتا جو اکثریت میں ہوں، بلکہ اُن کا ہوتا ہے جو اصول کے ساتھ کھڑے ہوں۔ کھیل، قومیں اور ادارے اسی جرات سے پہچانے جاتے ہیں۔
اک ہجومِ مصلحت میں سچ اکیلا رہ گیا
ڈر کے موسم میں بھی جو کھڑا رہا وہی سکندر کہلا گیا
سب نے چپ کو عقل کہا، خوف کو تدبیر جانا
ایک ہی تھا جو خطرے میں بھی سچ پر جم گیا
زور والوں کے محل میں عدل مہمان بن گیا
کمزوروں کے حصے میں پھر سوال آ گیا
ہم نہ بکتے تھے کبھی بازارِ مفاد میں
اسی ضد پر شاید نام تاریخ میں لکھا گیا
جب بھی ظلم نے دستک دی کسی در پر کہیں
پاکستان ہر بار کمزور کے ساتھ جا کھڑا ہوا
اے اللہ! جس ملک نے حق کے لیے تنہا کھڑے ہونے کی جرات کی، اُس کے قدم ثابت فرما۔ اُسے خوف، لالچ، خود غرضی اور تنہائی کے ہر امتحان میں سرخرو رکھ۔ پاکستان کو ہمیشہ ظلم کے مقابل سچ کی آواز بنائے رکھ اور اُس کی نیتوں، فیصلوں اور موقف میں اخلاص اور استقامت عطا فرما۔
یا رب! حق کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو کبھی تنہا نہ کرنا۔

