Saturday, 24 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. T20 Worldcup, Icc Aur Taqat Ka Naya Bayania

T20 Worldcup, Icc Aur Taqat Ka Naya Bayania

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، آئی سی سی اور طاقت کا نیا بیانیہ

کرکٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں کہ سیاست، طاقت اور مفادات نے کھیل کی روح پر سوالات کھڑے کیے ہوں، مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے تناظر میں آئی سی سی کا کردار ایک ایسے موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے جہاں خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔ اصل سوال بنگلہ دیش یا کسی ایک ٹیم کا نہیں، بلکہ اُس ادارہ جاتی سوچ کا ہے جس نے خود کو کرکٹ کا عالمی نگران تو قرار دے رکھا ہے مگر فیصلوں میں شفافیت، برابری اور انصاف کی بنیادی قدروں سے مسلسل دور ہوتا جا رہا ہے۔ جب چودہ رکن ممالک کسی ایک طاقتور بلاک کے سامنے خاموشی اختیار کر لیں تو یہ خاموشی رضامندی نہیں بلکہ مفادات کی مجبوری بن جاتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں کھیل ایک کھیل نہیں رہتا بلکہ طاقت کے مظاہرے کا میدان بن جاتا ہے۔

بنگلہ دیش کا مؤقف کسی جذباتی ردِعمل پر مبنی نہیں بلکہ ماضی کی اُن مثالوں سے جڑا ہوا ہے جن میں آئی سی سی نے سیکیورٹی، سفارتی یا سیاسی خدشات کی بنیاد پر میچز نیوٹرل وینیوز یا شریک میزبان ممالک میں منتقل کیے۔ پاکستان نے یہ کرب برسوں سہا، سری لنکا نے بھی مختلف ادوار میں اس کا سامنا کیا، حتیٰ کہ بھارت خود بھی ماضی میں اس سہولت سے فائدہ اٹھا چکا ہے۔ ایسے میں اگر بنگلہ دیش سیکیورٹی یا سیاسی تناؤ کے باعث ایک متبادل حل مانگتا ہے تو اسے ضد یا ضدی پن کہنا بددیانتی کے مترادف ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آئی سی سی نے اس مسئلے کو انتظامی مہارت سے حل کرنے کے بجائے اسے طاقت کے توازن کا مسئلہ کیوں بنا دیا اور کیوں ایک سادہ سا لاجسٹک حل اختیار کرنے سے گریز کیا گیا۔

یہاں سے بات صرف کرکٹ کی نہیں رہتی بلکہ اسپورٹس گورننس کے اُس ماڈل کی طرف جاتی ہے جس میں دولت، مارکیٹ اور نشریاتی حقوق فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ آئی سی سی آج عملی طور پر ایک آزاد عالمی ادارہ کم اور ایک کارپوریٹ کنسورشیم زیادہ محسوس ہوتا ہے، جس کی ترجیحات کھیل کی وسعت یا کمزور رکن ممالک کے تحفظ کے بجائے مالی استحکام اور ریونیو اسٹریمز ہیں۔

یہ تصور ہی بالکل غلط ہے اور پاکستان اور دیگر کرکٹنگ ممالک کا کمیونیکیشن فیلیئر ہے کہ بھارت دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگیا ہے کہ بھارتی کرکٹ مارکیٹ ہی آئی سی سی کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، پاکستان اور بنگلا دیش کی مارکیٹ اور کرکٹ کھیلنے کی صلاحیت بھارت سے کہیں بہتر ہے اور آمدنی کے اعتبار سے بھارت سے کسی طرح بھی کم نہیں۔ پاک بھارت میچ آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

اب کرکٹ کھیلنے والے غیر مفاد پرست ممالک کو تسلسل سے اور بار بار یہ بات دہرانی ہوگی اور مفاد پرستوں کو یہ باور کرانا ہوگا کہ آمدنی کا ذریعہ صرف بھارت نہیں بلکہ سب ممبر ممالک ہیں۔ پھر یہ سوال بھی اٹھانا ہوگا کہ کیا مالی طاقت کو اخلاقی بالادستی میں تبدیل کر دینا کرکٹ کے مستقبل کے لیے محفوظ راستہ ہے؟ بھارت کھلے عام اور پوری بے شرمی سے یہ پرچار کرتا ہے کہ آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ہم ہیں اور یہ نام نہاد ترقی یافتہ، خود کو پڑھا لکھا اور تہذیب یافتہ کہنے والے کرکٹ ممالک بھارت کی اس کھچ پر خاموشی سادھے ہو ئے ہیں۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے جب نام نہاد اصول کمزور کے لیے سزا ہوں اور طاقتور کے لیے سہولت بن جائیں تو ادارے کی ساکھ محض ایک نعرہ رہ جاتی ہے۔

بھارتی سیاست کے کرکٹ میں داخل ہونے کا سوال نیا نہیں، مگر آج یہ مداخلت اتنی نمایاں ہو چکی ہے کہ اسے نظر انداز کرنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ کرکٹ بورڈ اور ریاستی پالیسی کے درمیان غیر مرئی لکیر مٹ چکی ہے اور اس کا اثر نہ صرف دوطرفہ سیریز پر پڑا ہے بلکہ عالمی ایونٹس کی ساخت، شیڈولنگ اور فیصلوں پر بھی دکھائی دیتا ہے۔ یہ کہنا کہ آئی سی سی مکمل طور پر آزاد ہے، اُس وقت مضحکہ خیز لگتا ہے جب اکثر فیصلے ایک مخصوص طاقت کے مفادات کے گرد گھومتے نظر آئیں۔ کھیل کی تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی ایک فریق کو حد سے زیادہ اختیار مل جائے تو کھیل مقابلہ نہیں رہتا بلکہ نمائشی سرگرمی بن جاتا ہے۔

تاہم اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ افسوسناک کردار اُن دیگر رکن ممالک کا ہے جنہوں نے اختلاف کی ہمت تک نہ کی۔ یہ وہ ممالک ہیں جو جانتے ہیں کہ آج اگر بنگلہ دیش کے اصولی مؤقف کو نظرانداز کیا جا رہا ہے تو کل یہی سلوک اُن کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، مگر پھر بھی وہ وقتی مالی فائدے یا سیاسی سہولت کے بدلے خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ کرکٹ کی تاریخ میں ادارے نہیں بلکہ جرات مند آوازیں تبدیلی لاتی رہی ہیں اور جب یہ آوازیں دب جائیں تو کھیل محض طاقتوروں کی جاگیر بن جاتا ہے۔

آخر میں سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا یہ سب "ٹھیک" ہے؟ اگر ٹھیک سے مراد یہ ہے کہ آئی سی سی بھارتی بالادستی کے تحت جو چاہے کر سکتی ہے تو شاید یہ نظام وقتی طور پر چل بھی جائے، مگر طویل مدت میں یہ کھیل کی روح، اس کی عالمی حیثیت اور اس کے اخلاقی وقار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گا۔ کرکٹ ایک کھیل سے بڑھ کر ایک مشترکہ ثقافتی ورثہ ہے اور اگر اسے صرف منافع، سیاست اور طاقت کے ترازو میں تولا گیا تو وہ دن دور نہیں جب شائقین کا اعتماد، جو کسی بھی کھیل کا اصل سرمایہ ہوتا ہے، ہمیشہ کے لیے متزلزل ہو جائے گا۔ اصل امتحان آئی سی سی کا نہیں، بلکہ عالمی کرکٹ برادری کا ہے کہ وہ کھیل کو طاقت کے شکنجے سے نکال کر دوبارہ اصولوں کی پچ پر لا سکے یا نہیں۔

کھیل جب انصاف، برابری اور اصولوں سے جُڑا رہے تو وہ قوموں کو جوڑتا ہے اور جب طاقت، مفاد اور خاموش سمجھوتے اس پر غالب آ جائیں تو وہ سوال بن جاتا ہے۔ کرکٹ آج اسی سوال کے کٹہرے میں کھڑی ہے اور جواب صرف آئی سی سی کو نہیں، ہم سب کو دینا ہے۔

یہ کھیل تھا تو دلوں کو جوڑنے کا وسیلہ تھا
یہ طاقتوں کا تماشا کب سے ہونے لگا ہے

اصول ہار گئے، سکے جیت گئے میداں میں
انصاف بھی اب نفع نقصان تولنے لگا ہے

جو کمزور تھا وہی کٹہرے میں آ کھڑا
اور زور آور ہی منصف بننے لگا ہے

ہم نے بھی خامشی کو حکمت کہہ دیا
ورنہ سچ بولنا کب اتنا مشکل لگا ہے

اگر کھیل بھی بکنے لگے بازاروں میں
تو پھر ہار جیت کا مفہوم کیا رہ گیا ہے

Check Also

Ikhlaq Ki Talash Mein Bhatakta Insan Aur Edmund Spenser

By Afifa Shahwar