Subh, Sab Se Qeemti Asasa
صبح، سب سے قیمتی اثاثہ

دنیا کے نقشے پر اگر آپ کامیابی کے تمام بڑے ناموں کو ایک نقطے پر لا کر کھڑا کریں تو حیرت انگیز طور پر ان سب کے درمیان ایک قدرِ مشترک ضرور نکل آئے گی اور وہ ہے صبح۔ وہی صبح جسے ہم میں سے اکثر یا تو سستی کے حوالے کر دیتے ہیں یا پھر الارم بند کرکے دوبارہ بستر کی نذر کر دیتے ہیں۔ مگر جنہیں ہم کامیاب کہتے ہیں، وہ صبح کو وقت نہیں بلکہ اثاثہ سمجھتے ہیں، ایسا اثاثہ جو نہ بینک میں جمع ہوتا ہے، نہ وراثت میں ملتا ہے اور نہ ہی دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ صبح ان کے لیے دن کا پہلا صفحہ نہیں، پوری کتاب کا خلاصہ ہوتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جس نے صبح جیت لی، اس نے دن کو شکست دے دی۔ اسی لیے سی ای او ہوں یا ایتھلیٹس، دانشور ہوں یا فنکار، ان کی زندگیوں میں صبح محض وقت کا ایک حصہ نہیں بلکہ نظم و ضبط، ارادے اور مقصد کا اعلان ہوتی ہے۔
ہم عام لوگ اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ کامیابی کسی بڑے فیصلے، کسی غیر معمولی موقع یا کسی اچانک ملنے والی خوش قسمتی کا نام ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کامیابی دراصل چھوٹے چھوٹے فیصلوں کا مجموعہ ہوتی ہے اور ان میں سب سے پہلا فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ آپ صبح کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ صبح دراصل آپ کے ذہن کی حالت کو متعین کرتی ہے۔ جو شخص دن کا آغاز جلدی، خاموشی، یکسوئی اور شکرکے احساس کے ساتھ کرتا ہے، وہ اپنے لاشعور کو یہ پیغام دے دیتا ہے کہ وہ دن کا مالک ہے، غلام نہیں۔ اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگ، چاہے ان پر کام کا دباؤ کتنا ہی کیوں نہ ہو، صبح کے وقت اپنے لیے مخصوص لمحات ضرور نکالتے ہیں۔ کوئی چہل قدمی کرتا ہے، کوئی ورزش، کوئی دعا، کوئی مطالعہ اور کوئی محض خاموش بیٹھ کر اپنے دن کا نقشہ ذہن میں بناتا ہے۔ یہ سب سرگرمیاں دراصل صبح کو ایک قیمتی سرمایہ بنانے کے طریقے ہیں۔
ایتھلیٹس کی زندگی میں صبح کی اہمیت اور بھی زیادہ واضح نظر آتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جسم صرف میدان میں نہیں بنتا، بلکہ بستر سے اٹھنے کے فیصلے میں بنتا ہے۔ جب باقی دنیا سو رہی ہوتی ہے، وہ پسینہ بہا رہے ہوتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ مقابلہ صرف دوسروں سے نہیں، اپنے آرام سے بھی ہے۔ صبح کا وقت جسمانی طاقت کے ساتھ ساتھ ذہنی مضبوطی بھی پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے کھلاڑی اکثر کہتے ہیں کہ ان کی سب سے بڑی ٹریننگ صبح کے وقت ہوتی ہے، کیونکہ اس وقت نہ صرف جسم تازہ ہوتا ہے بلکہ ارادہ بھی بے ساختہ مضبوط ہوتا ہے۔ صبح انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ اگر وہ اپنے نفس پر قابو پا لے تو دنیا کی کوئی رکاوٹ اسے نہیں روک سکتی۔
کاروباری دنیا میں بھی صبح کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے۔ ایک کامیاب سی ای او کے لیے صبح کا مطلب ای میلز کا انبار نہیں بلکہ سوچنے کا وقت ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ دن کے ہنگاموں میں سوچنا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے وہ صبح کے پرسکون لمحات میں بڑے فیصلوں کی بنیاد رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے بڑے لیڈرز صبح سویرے اپنی ترجیحات لکھتے ہیں، دن کے اہم اہداف طے کرتے ہیں اور خود سے ایک خاموش مکالمہ کرتے ہیں۔ یہ مکالمہ دراصل خود احتسابی کا عمل ہوتا ہے اور خود احتسابی کے بغیر قیادت محض ایک عہدہ رہ جاتی ہے، کردار نہیں بنتی۔ صبح انہیں یاد دلاتی ہے کہ وہ صرف کام کرنے والے نہیں، سمت متعین کرنے والے بھی ہیں۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں صبح کی اہمیت معلوم نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے صبح کو سستا سمجھ لیا ہے۔ ہم رات دیر تک جاگ کر صبح کو نیلام کر دیتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ دن ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ حالانکہ دن تو صبح ہی میں فیصلہ ہو جاتا ہے۔ جو شخص صبح کو بے ترتیب گزارے، اس سے دن کے نظم کی توقع رکھنا خود فریبی ہے۔ کامیاب لوگ اس فریب سے باہر آ چکے ہوتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ صبح میں کی گئی ایک گھنٹے کی سرمایہ کاری، دن کے دس گھنٹوں کو بہتر بنا سکتی ہے۔ اس لیے وہ صبح کو قربانی نہیں سمجھتے بلکہ سب سے منافع بخش سودا مانتے ہیں۔ ان کے نزدیک صبح جلدی اٹھنا مشقت نہیں، آزادی ہے، کیونکہ جو شخص سورج سے پہلے جاگ جائے، وہ دن کی دوڑ میں خود بخود آگے نکل جاتا ہے۔
آخرکار سوال یہ نہیں رہتا کہ کیا صبح واقعی سب سے قیمتی اثاثہ ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ بن جاتا ہے کہ ہم اس اثاثے کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ کیا ہم اسے ضائع کر رہے ہیں یا سنبھال رہے ہیں؟ کامیاب لوگ ہمیں کسی جادوئی نسخے کی دعوت نہیں دیتے، وہ بس یہ راز بتاتے ہیں کہ اگر زندگی بدلنی ہے تو دن نہیں، صبح بدلیے۔ کیونکہ صبح دراصل آئینہ ہوتی ہے، جو آپ کو دکھاتی ہے کہ آپ خود کو کس قدر سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ جس دن ہم نے صبح کو وقت نہیں بلکہ سرمایہ سمجھ لیا، اسی دن ہماری زندگی کے خسارے کم اور منافع بڑھنا شروع ہو جائیں گے۔
کچھ باتیں شور سے نہیں، ترتیب سے بدلتی ہیں اور ترتیب کی پہلی اینٹ اکثر صبح کے وقت رکھی جاتی ہے۔
یہ صبح اگر سنور گئی، تو دن بھی سنور جائے گا
یہ ایک قدم جو ٹھیک اٹھا، تو راستہ بدل جائے گا
سکوتِ فجر میں جس نے خود سے بات کر لی
وہی تو دن کے ہجوم میں بھی باخبر جائے گا

